فریم اسکریتس پارٹی اور تارکین وطن

نارویجن پارلیمنٹ کے ہونے والے حالیہ انتخابات میں تارکین وطن اور اسلام سے متعلق تنقیدی نقطہ نظر کی حامی فریم سکرتس پارٹی کی غیرمعمولی مقبولیت سے تارکین وطن حلقوں میں بڑے پیمانے پر تشویش دیکھنے کو مل رہی ہے جو قابل فہم بھی ہے۔

لیکن فریم سکرتس پارٹی کی مقبولیت کے اضافے کو صرف اور صرف تارکین وطن کے تناظر میں دیکھنا حقائق کی نامکمل تصویر ہے۔ کیونکہ تارکین وطن اور اسلام پر تنقیدی موقف اپنانے کے باوجود فریم سکرتس کی مقبولیت کی وجہ صرف تارکین وطن مخالفت تک محدود نہیں رکھی جاسکتی۔ گو فریم سکرتس پارٹی کی حمایت میں بے پناہ اضافہ میں تارکین وطن سے متعلق تنقیدی سیاست کے عنصر سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن تصویر کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے جس سے معاشرے کے دیگر سماجی و سیاسی عوامل کا کردار بھی نمایاں ہوتا ہے۔ لہذا فریم سکرتس پارٹی کی اس مقبولیت کو مد نظر رکھ کر تارکین وطن اور نارویجن مسلمانوں کو تشویش کے باوجود کسی خوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔  

فریم سکرتس پارٹی کے چوبیس فیصد ووٹروں کی تمام تعداد نے اسے صرف تارکین وطن اور اسلام ناقد سمجھ کر اپنا ووٹ نہیں دیا۔ بلکہ یہ نارویجن معاشرے کے بہت سے جملہ سیاسی نظریات اور ترجیحات کا نتیجہ ہے جس میں تارکین وطن مسئلہ بھی شامل ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اس پارٹی کی ساری سیاسی تاریخ تارکین وطن سے متعلق تنقیدی سوچ اور تارکین وطن کے بارے شک وشہبات کو ہوا دینے کی ہر ممکن کوشش سے عبارت ہے، جس کی بنیاد پرفریم سکرتس پارٹی پرمختلف حلقوں کی طرف سے تارکین وطن مخالف ہونے کا الزام چسپاں کیا جاتا ہے۔ لیکن فریم سکرتس پارٹی تاریخی اعتبار سے تارکین وطن مخالفت کی بنیاد پر معرض وجود میں نہیں آئی تھی۔ بلکہ اس جماعت کی بنیاد رکھنے کا مقصد نارویجن معاشرے میں عوام کی شہری آزادی کو قوانین کی بُہتات کے ہاتھوں سلب ہونے کے خدشہ کے پیش نظر بطور احتجاج تشکیل دیا گیا تھا۔ جس کا مطالبہ عوام کی روزمرہ زندگی میں حکومتی دخل اندازی کو کم سے کم حد تک محدود رکھتے ہوئے شہریوں کی انفرادی آزادی کا تحفظ مقصود تھا۔

اب بھی اس پارٹی کے لیے اہم ایشوز میں ٹیکسوں میں کمی، جرائم کے خلاف سخت سزائیں، سرکاری اخراجات میں کٹوتی، نئی سرمایہ کاری کے لیے سہولتیں، محنت کشوں کے حقوق میں کمی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس ماحولیات کے تحفظاتی اقدامات پر اقتصادی ترقی کو ترجیع دینا شامل ہے۔ لیکن فریم سکرتس پارٹی گزرتے وقت کے ساتھ تارکین وطن کی ناروے آمد کو نارویجن معاشرہ کے لیے نقصان دہ قرار دے کر اس ایشو کو سیاست میں لانے کی موجد بھی تصور کی جاتی ہے۔ 1970 کی دہائی میں فریم سکرتس پارٹی نے تارکین وطن پر نارویجنوں سے روزگار چھیننے کا الزام لگایا پھر اپنی اسی تنقیدی سوچ کو آگے بڑھاتے ہوئے مسلمان تارکین وطن کو نارویجن معاشرہ کے لیے خطرہ ثابت کرنے کا علم اُٹھاتے ہوئے ناروے میں جرائم کے اضافہ کا ذمہ دار تک تارکین وطن کو ٹھرا دیا۔ اور اسلام کو نارویجن اقدار سے متصادم کا نیا بیانیہ بنا ڈالا۔

اس میں شک نہیں کہ فریم سکرتس پارٹی ہر اُس موقع سے فائدہ اُٹھاتی ہے جس سے نارویجن معاشرے میں تارکین وطن کی موجودگی کو منفی رنگ دیا جا سکے۔ یہ جماعت اپنے بنیادی سیاسی نظریہ انفرادیت اور انفرادی آزادی کی کٹر حامی ہونے کے برعکس تارکین وطن کے معاملہ پر اپنے نظریہ انفرادیت کو پس پشت ڈال دیتی ہے اور کسی فرد واحد کے منفی عمل کو تمام تارکین وطن کے کھاتے میں ڈالنے میں پیش پیش ہوتی ہے۔ لیکن فریم سکرتس پارٹی بنیادی انسانی حقوق اور معاشرے میں تارکین وطن اور مسلمانوں کے بحثیت پُرامن شہری رہنے کے استحقاق پر سوال نہیں اُٹھاتی۔ اور اپنی تنقیدی سوچ کی سیاسی حربہ آزمائی کے باوجود تارکین وطن کے لیے کسی امتیازی سلوک کا پرچار نہیں کرتی۔ البتہ تارکین وطن سے متعلق معاشرے میں موجود تعصب کی آڑ میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتی جو سرا سر غلط ہے، اگرچہ ممنوع نہیں ہے ۔

یہ روش مجموعی طور منفی نتائج کے ساتھ معاشرتی انتشار و عدم ہم آہنگی کی موجب بنتی ہے جس کے اثرات ہر مکتب فکر اور شعبہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ لہذا معاشرتی ہم آہنگی اور آستحکام کے لیے اس کا مقابلہ لازم ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے فریم سکرتس پارٹی کی مقبولیت کو صرف تارکین وطن سیاست تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ فریم سکرتس پارٹی ایک مخصوص مزاج کی سیاسی جماعت ہے جو ناروے کی دیگر سیاسی جماعتوں سے الگ انداز میں سیاست کرنے کی عادی ہے اور اس کی سیاسی منطق بڑی حد تک احتجاجی ہے۔ یہ اکثر اپنے اصولی نظریہ سے ہٹ کر مقبول نعرہ کی سیاست کے ساتھ بھی چل پڑتی ہے۔ اس کا یہ اندازِ سیاست اسے کبھی غیر مقبول بنا دیتا ہے اور کبھی احتجاجی ووٹروں کی حمایت سے مقبولیت کی معراج کو دکھا دیتا ہے۔ یہ جماعت پچھلے پچاس سال سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کا اعزاز ہونے کے باوجود کئی معاملات میں ناقابل اعتبار تصور کی جاتی ہے۔  لیکن اس کا وجود نارویجن سیاست کی ایک بڑی حقیقت ہے اور اکثر رائے عامہ کے سیاسی رُخ متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

متفکر تارکین وطن حلقوں کو فریم سکرتس پارٹی کی منفی سیاست کے تدارک کے لیے نارویجن جمہوریت میں موجود اپنے ووٹ کی طاقت کے سہارے آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرنی ہو گی۔ فریم سکرتس پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ پر تشویش سے اپنے ووٹ کے استعمال کو بروئے کار لا کر ہی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ جب سب کو بلا تفریق ووٹ کا حق حاصل ہے تو پھر ووٹ کے استعمال سے اجتناب کے بعد رونا دھونا بے سود ہے۔ کیونکہ جو اپنے جمہوری حق سے فریم سکرتس پارٹی کو جتواتے ہیں، اُن کے اور دوسروں کے ووٹ کا وزن برابر ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں اور تارکین وطن اس میں کوتاہی کرتے ہیں۔ ابھی تک اعداد و شمار تو سامنے نہیں آئے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ تارکین وطن کا حق رائے دہی استعمال کرنے کا تناسب مقامی نارویجن شہریوں کے مقابلے میں کم ہو گا۔ لہذا فریم سکرتس پارٹی کی اوسط مقبولیت میں اضافے کا سہرا صرف اس کو ووٹ دینے والوں کے سر ہی نہیں بلکہ اس کار خیر میں وہ سب بھی شریک ہیں جو اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کرتے، جس سے فریم سکرتس پارٹی کی اوسط میں اضافہ ہوتا ہے۔

موجودہ الیکشن میں فریم سکرتس پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ پر متفکر ہونے کے باوجود یہ بات اطمینان بخش ہے کہ وہ حکومت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لہذا خوف اور خطرے کی فضا کو ہر گز حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ لیکن آرام سے بیٹھنا بھی غفلت میں شامل ہو گا۔ اگر متفکر ہیں تو پھر آئندہ ایسی صورتحال سے دوچار ہونے سے بچنے کے لیے اس کے سدباب پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ حالیہ نتائج کو جمہوری عمل کی حقیقت مان کر مستقبل کی حکمت عملی طے کرنے ہو گی جو دستیاب ووٹ کے حق کے استعمال میں پہناں ہے۔