عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کا نتیجہ
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 18 / ستمبر / 2025
قطر کے دارالحکومت دوحا میں عرب اسلامک ایمرجنسی سمٹ منعقد ہوئی جس میں پچاس کے قریب عرب اور مسلم ممالک کے سربراہان یا نمائندوں نے شرکت کی۔ یہاں کی گئی تقاریر میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل نے تمام ریڈلائنز عبور کرلی ہیں یواین چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔
امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے کہا کہ گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ قطر نے ثالث کے طور پر خطے میں امن کے لیے مخلصانہ کوششیں کیں لیکن اسرائیل نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتے ہوئے حماس قیادت کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کی جانب سے خطے کے ممالک کی خودمختاری پر حملہ قابلِ مذمت ہے۔ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی ہورہی ہے، اس نے جرائم کی تمام حدود پارکرلی ہیں۔ اسرائیلی یرغمالیوں کی پرامن رہائی کے تمام دعوے بھی جھوٹے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ سے اسرائیل کی رکنیت معطل کروا دی جائے۔ پاکستانی وزیراعطم نے کہا کہ مسلم ممالک کی مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے اور دو ریاستی حل پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی اسلامی ممالک متحد نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ اس عرب اسلامک سمٹ سے عرب لیگ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرلز کے علاوہ ایران، عراق، مصر اور فلسطینی اتھارٹی کے صدور نے بھی خطاب کیا۔ البتہ قطر کی ہمسائیگی میں واقعہ طاقتور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت بحرین، جارڈن اور شام جیسے ممالک نے انتہائی محتاط طرزِ عمل اپناتے ہوئے بیان بازی سے احتراز کیا۔
عرب اسلامک سمٹ کے اختتام پر مشترکہ علامیے میں دوحا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم ہر ممکنہ جوابی اقدام کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔ ایک غیرجانبدار ثالثی مرکز کو نشانہ بنانا، امن کاوشوں کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ قطر کے دانشمندانہ کردار کی تحسین کرتے ہوئے مصر اور امریکا کی جاری ثالثی مساعی کو اہم قراردیا گیا۔ اعلامیے میں اسرائیلی دعوؤں اور توجیہات کو مسترد کرتے ہوئے محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم قراردیا گیا۔ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فیصلے کے تحت فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قطر، غزہ، ویسٹ بنک اور دیگر خطوں پر جاری مسلسل جارحیت کو روکاجائے۔ یواین جنرل اسمبلی میں حالیہ ”اعلانِ نیویارک“ اور دوریاستی حل کی توثیق کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا گیا کہ مڈل ایسٹ کو تباہ کن ہتھیاروں سے پاک خطہ بنایاجائے۔
درویش یہاں اپنے اہلِ دانش کی خدمت میں کچھ اہم پوائنٹس اُجاگر کرنے کا خواستگار ہے۔ دوحا کی عرب اسلامک سمٹ میں جتنی بھی شعلہ بیانیوں پر مبنی تقاریر تھیں، آپ انہیں بغور پڑھیے اس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے اہم نکات کابھی جائزہ لیجیے آپ پر واضح ہوجائے گا کہ بہت سی شعلہ بیانیاں محض سستی شہرت یا دکھاوے کی بیان بازی کے لیے ہوتی ہیں جن کی اہمیت اتنی بھی نہیں کہ انہیں مشترکہ علامیے کا حصہ بھی بنایا جاسکے۔ بالخصوص پاکستانی لفاظی شاید دیگر تمام عرب وعجم یا اسلامک حکمرانوں سے کہیں بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے بالمقابل شاید خود نشانہ بننے والا میزبان ملک بھی اس حد تک جانا پسند نہیں کرتا۔ اگرچہ ہمارے پاکستانی حکمران غیر ضروری نعرے بازی کرتے ہیں۔ اس کارنامے پر ہمارے موجودہ جہادی حکمرانوں کو نشان امتیاز ضرور ملنا چاہیے۔ پاکستانی لیڈران کا سنسنی خیز بیانیہ شاید اپنے اسلامی عوام کی جیسی تیسی خوشنودی کے لیے یا ان کی بڑھتی ایمانی خواہشات کو مطمئن کرنے کی خاطر تشکیل پاتا ہے۔
اب اگر ہمارے میڈیا کی سرخیاں ملاحظہ کریں خواہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک یا سوشل میڈیا تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انقلاب آ گیا ہے اور کفر کے خلاف اسلامی دنیا اکٹھی ہوگئی ہے۔ لہذا اب اسرائیل کی خیر نہیں بلکہ ہمارا عوامی اسلوب تو یہ ہوتا ہے کہ اے مسلمانو! اکٹھے ہوکر اسرائیل کا ناپاک وجود صفحہ ہستی سے مٹادو۔ پاکستان ہی نہیں اسلامی ایران سے بھی اس نوع کی آوازیں نچلی نہیں اقتدار کی اعلیٰ ترین سطح سے بارہا اٹھتی رہی ہیں۔ البتہ ایران اسرائیل جنگ کے بعد اب اس میں تھوڑا ٹھہراؤ آیا ہے۔
رہ گئیں غزہ کے عرب عوام پر اسرائیلی زیادتیاں، ان پر تو کوئی دو آرا ہیں ہی نہیں، اس پر مسلم ہی نہیں غیر مسلم اقوام کی جانب سے بھی پوری دنیا میں سخت احتجاج کیاجارہا ہے۔ حتیٰ کہ ویٹیکن سٹی سے بھی دردانگیز بیانات جاری ہوتے رہتے ہیں۔ یورپین ممالک اور ان کے عوام بھی کھل کر بول رہے ہیں۔ عرب اسلامک سمٹ کے بعد ہمارے سادہ لوح احباب اگر یہ سمجھتے ہیں کہ اب کوئی بہت بڑا اسلامی طوفان اٹھ کھڑے ہوگا، دست بستہ عرض ہے کہ وہ اگر حالاتِ حاضرہ پر نظر رکھتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ غزہ کے مظلوم عوام چکی کے جن دوپاٹوں میں پہلے سے پستے چلے آرہے تھے، پچاس مسلم ممالک کی اس سمٹ کے بعد بھی وہ اسی طرح پس رہے ہیں۔ اسی طرح دردناک اموات کاشکار ہورہے ہیں۔
درویش کو کہاجاتا ہے کہ زیادہ سچائی مت لکھو۔ ٹھیک ہے جتنا چاہو اپنی مرضی کا لکھوا لو لیکن کیا اس سے تلخ زمینی حقائق ختم ہوسکیں گے؟ اگر ہماری بڑھکوں سے اسرائیل ختم ہوسکتا تو شاید پیدا ہونے سے قبل ہی فنا ہوچکا ہوتا۔ دوریش کی نظروں میں سعودی عرب سے زیادہ اسلامی ملک تو دنیا میں کوئی نہیں جو اسلام کامنبع اور طلوع اسلام کا مرکز ہے۔ ناچیز ڈھونڈھ رہا تھا کہ اس عرب اسلامک سمٹ میں سعودی قیادت نے کیا فرمایا ہے؟ اور پھر ہاشمی سلطنت کے وارث، خاندانِ نبوت کے چشم و چراغ ایکسیلینسی شاہ عبداللہ دوئم نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟ اہلِ نظر کی خدمت میں ایک اور دلچسپ پوائنٹ قابلِ توجہ ہے ماقبل جب بھی اس نوع کی افتاد آتی تھی جیسے کہ 69 میں مسجد اقصیٰ کو آگ لگانے کا مبینہ سانحہ پیش آیا تو او آئی سی کی تنظیم وجود میں آئی اور پھر تب سےمسلم امہ کی ایک طرح سے نمائندہ تنظیم او آئی سی کو ہی قراردیا جاتا رہا۔ اب وہ کیا وجوہ ہیں جن کے کارن ایک عرصے سے او آئی سی کسی حد تک پس منظر میں جاتی دکھائی دےرہی ہے؟
جی چاہتا ہے اس کی جینوئن وجوہ پر کسی وقت جامع آرٹیکل تحریر کیاجائے اور عرب لیگ کے بالمقابل اس کا تقابلی جائزہ پیش کیاجائے۔ ان دنوں البتہ ایک نئی دلچسپ ٹرم ”عرب اسلامک “ ناستعمال ہورہی ہے جیسے کہ عرب لیگ اور اوآئی سی کو اکٹھے کردیا گیا ہو۔ کیونکہ عربوں کا مزاج بالعموم اسلامک سے زیادہ عرب نیشنلزم کی صورت جلوہ گررہا ہے۔ یہ بات محض مصر یا جمال عبدالناصر تک محدود نہیں، ہمارے یہاں جنہیں اسلامک امہ کا بہت بڑا ہیرو بناکرپیش کیاجاتا ہے کنگ فیصل بن عبدالعزیز ان کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ میں جب عرب ورلڈ بولتا ہو تو اس سے میری مراد اسلامک ورلڈ ہی ہوتی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کی مراد یہ ہوتی ہے تو آپ بول بھی یہی دیا کریں۔ اس گتھی کا ادراک ان لوگوں کو بخوبی ہوسکتا ہے جو مڈل ایسٹ میں عرب نیشنلزم کے پس منظر سے آگہی رکھتے ہیں۔
بلاشبہ ان دنوں یواین کی رونقیں بلندیوں پر پہنچنے والی ہیں۔ اس مرتبہ اسرائیل پر بھرپور عالمی دباؤ بڑھنے والا ہے کہ وہ غزہ کے مظلوموں کی جان بخشی کرے۔ علاوہ ازیں دوریاستی حل پر بھی خوب بحثیں چھڑنے والی ہیں۔ بالخصوص یورپین ممالک، بوجوہ اس ایشو کو خوب اٹھائیں گے جس کی بڑی وجہ امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ سے ان کی چھیڑ چھاڑ ہوگی۔ کیونکہ ٹرمپ ٹیرف کے ہاتھوں، قریبی امریکی اتحادی اس انوکھے صدر سے خاصے نالاں ہیں۔ ٹرمپ بخشتے کسی کو بھی نہیں حتیٰ کہ کبھی بنجمن نیتن یاہو کی بھی تھوڑی بہت جھاڑ پھونک یا سرزنش کردیتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی جب انہیں پریشان دیکھتے ہیں تو حوصلہ دلانے کے لیے سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کو تل ابیب یا یروشلم روانہ کردیتے ہیں۔ جیسے کہ حالیہ عرب اسلامک سمٹ کے دوران مارکو روبیو پیہم اسرائیل میں موجود رہے یہ اطمینان دلاتے ہوئے کہ فکر نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
عرب اسلامک سمٹ اختتام پذیر ہونے کے فوری بعد مارکو روبیو دوحا پہنچے۔ امیرقطر سے ملے اور صاف فرمادیا کہ ان مختلف النوع بڑھک بازوں کے جھانسے میں مت آئیے گا۔ اس سے قبل قطری پرائم منسٹر کو وائٹ ہاؤس بلاکر ان کی اچھی خاصی برین واشنگ، خاطر تواضح یا دھلائی کی جاچکی ہے۔ امیر قطر کے لیے گاجر کے ساتھ سٹک کا استعمال کرتے ہوئے پریذیڈنٹ ٹرمپ نے کسی منہ رکھی یا بھرم کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا۔ صاف کہہ دیا کہ شیخ تمیم آپ کے عوام آپ سے خوش نہیں ہیں۔ ادھر ادھر کی زیادہ بڑی بڑی چھوڑنے یا سوچنے کی بجائے اپنے لوگوں کی ناراضگی کا سوچیں ان کے مسائل حل کرنے کے لیے فکر مند ہوں۔
ذرا غور فرمائیے اس کا کیا مطلب ہے؟ ان الفاظ میں کیا ملفوف پیغام ہے؟ شاید اسی کو کہتے ہیں امریکی دباؤ۔
اہل مغرب کے سامنے یہ سوال بھی اہم ہے کہ اسی قطر پر جب ایرانی حملہ ہوا تھا، اس وقت اگرچہ ایران کے خلاف بھی خاصے مذمتی بیانات آئے تھے مگر اس نوع کی شعلہ بیانیوں کا غلغلہ تب کیوں نہیں اٹھا تھا؟ تب قطر کی خود مختاری خطرے میں کیوں نہیں آئی تھی؟ کیا اس لیے کہ تب ایرانی حملے کا ہدف قطری نہیں غیر ملکی اڈا تھا۔ مسئلہ تو اب بھی وہی ہے اسرائیلی حملے کا ہدف قطری نہیں غیر ملکی حماس قیادت تھی۔ جنہیں اسرائیل ٹیررازم کے ویسے ہی عالمی مجرم گردانتا ہے جیسے نائن الیون کے بعد امریکی، بن لادن اور ان کی القاعدہ کو سمجھتے ہیں۔ بنجمن نیتن یاہو کا استدلال یہی ہے کہ جب امریکا نے بن لادن جیسے ٹیررسٹ کو مارنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا تھا تو پوری دنیا نے اس کی مذمت نہیں ستائش کی تھی۔ آج ہم نے بھی اپنے اوپر ہونے والے سب سے بڑے ٹیررسٹ اٹیک کے مجرموں یعنی حماس قیادت کو ٹارگٹ کیا ہے تو اس سابقہ اصول کے تحت اس کی مذمت کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ ٹیررازم کے خلاف ایکا کرے۔ یورپین ممالک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ الٹے ہمیں عالمی تنہائی میں دھکیل رہے ہیں جو برسوں چل سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے وسائل کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا پڑے گا۔ ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہم اپنے یرغمالیوں کو رہا کرواتے ہوئے ٹیررسٹ حماس کا خاتمہ نہیں کردیتے، چاہے ہمیں اس کی جو بھی قیمت چکانی پڑے۔ ہر ملک کو اپنی سرحدوں سے باہر بھی اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ کہتے ہوۓ نیتن یاہو ریاستوں کی ساورنٹی کا اصول بیان کرنا بھول گئے۔
ہمارے بلند پرواز نے اس سمٹ میں عرب اسلامک ٹاسک فورس یا اسلامک نیٹو کی جو پھلجڑی چھوڑی ہے، اگرچہ عوامی سطح پر وہ جتنی چاہیں داد وصول کر لیں بالفعل یہ ناقابلِ عمل بڑھک سے آگے کچھ نہیں۔ بلند بانگ دعوے جو بھی ہوں ویسٹرن ملٹری الائنس کے بالمقابل اسی طرز پر اسلامک ملٹری الائنس کے لیے جس نوع کی طاقت درکار ہے، اس کا تو شاید دور دور تک شائبہ نہیں۔ فی زمانہ مذہب کی بنیاد پر اس نوع کے الائنسز کو دنیا محض حیرت و حقارت سے ہی دیکھ سکتی ہے۔ جبکہ مسلم اقوام کی اندرونی کدورتیں اور منافرت بھری فرقہ وارانہ مذہبی و سیاسی تقسیم، اس کے علاوہ پوری گہرائی کے ساتھ موجود ہے۔
ہم پاکستانیوں کے لیے بہتر ہے کہ ہم اپنی ڈوبتی معیشت، فلڈ میں ڈبکیاں کھاتے عوام اور ان کے ان گنت دکھوں کو دور کرنے کا سوچیں۔ اقومِ عالم کے سامنے ہماری مسلم اقوام کا مؤقف یہ ہونا چاہیے کہ دہشت گردی انسانیت کی مشترکہ دشمن ہے۔ اس کی مرتکب کوئی بھی تنظیم ہو تمام اقوام کو بلاتمیز مذہب و نسل اس کے خلاف کھڑے ہونا پڑے گا۔ اسرائیل کو بھی اپنے وجود کی بقا کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور ملک و قوم کو۔ رہ گئیں بے گناہ انسانی ہلاکتیں، وہ چاہے مسلمانوں کی ہوں یا یہود کی، ہندوؤں کی ہوں یا مسیحیوں کی، ان کی مرتکب کوئی بھی قوم، تنظیم یا پارٹی ہو قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہیں۔