کہانیاں رفتگاں ملتان کی

جب آپ ایک شہر میں اپنی ساری زندگی گزار دیتے ہیں تو اس شہر کی تاریخ، بوباس، تہذیب و ثقافت، ادب اور شخصیات بھی آپ کے اندر بسنے لگتی ہیں۔ مجھے جب معروف شاعر، محقق اور کالم نگار رضی الدین رضی کی دو جلدوں پر مشتمل کتاب ”کہانیاں رفتگانِ ملتان کی“ ملی تو گویا یادوں کا ایک دبستان کھل گیا۔

رضی الدین رضی نے جن مرحومین کا ذکر کیا ہے وہ سب ملتان کی نمایاں شخصیات رہی ہیں۔ میرا بھی ان سے اس لئے گہرا تعلق رہا کہ انہیں اپنے سامنے دیکھا، ان کے فن سے  حظ اٹھایا اور ان کی محبتوں سے فیض حاصل کیا۔ رضی الدین رضی نے دو جلدوں پر مبنی اس کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک حصہ جنوری 1968 سے جنوری 2006تک کا ہے جبکہ دوسرا حصہ جنوری 2006سے اکتوبر 2018 تک کا ہے۔ مجھے یقین ہے رضی الدین رضی اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور بچھڑنے والے دیگر اہلِ قلم کی کہانیاں بھی سناتے رہیں گے۔ میرے نزدیک یہ ایک اچھوتا خیال اور اچھوتی کتاب ہے کہ تاریخ کے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا جائے۔ سمندر میں نے اس لئے کہا ہے کہ اتنی کثیر تعداد میں شخصیات کے تمام حوالے یاد رکھنا اور پھر ایک مختصر کالم میں سمو دینا کوئی آسان کام نہیں۔

کتاب کے عنوان میں بھی مصنف نے جدت کا مظاہرہ کیا ہے۔ شخصیات کے بارے میں لکھتے ہوئے انہیں کوئی عنوان دیا جا سکتا ہے تاہم رفتگان کی کہانیوں کا عنوان دے کر تاثر کو گہرا کر دیا ہے۔ ویسے بھی جو لوگ زندگی سے دور چلے جاتے ہیں، وہ ایک کہانی ہی تو بن جاتے ہیں، انہیں از سرِ نو دریافت کرنا پڑتا ہے۔ یہ رضی الدین رضی کا ہنر ہے کہ اس نے ان کہانیوں کو امر کر دیا ہے۔ یہ کتاب ملتان کی جدیدادبی تاریخ کی ایک ایسی دستاویز بن گئی ہے جس میں شخصیات بھی پوری قدوقامت سے نظر آتی ہیں اور اس عہد کا ماحول بھی ابھر کر سامنے آ جاتا ہے۔

ملتان ایک ایسا شہر ہے جسے ہزاروں سال پرانی زندہ تہذیب کا مسکن کہا جاتا ہے او ریہ بات ہے بھی درست۔ یہ وہ دھرتی ہے جو کبھی مٹی نہیں اور عہد بہ عہد ہر جبر کو برداشت کرتی زندہ رہی۔ ایک زندہ شہر کی جمالیات بھی اور ہوتی ہے اور تہذیبی زندگی کا رکھ رکھاؤ بھی سب سے جدا ہوتا ہے۔ ملتان ہمیشہ سے ادب و ثقافت کا گہوارہ رہا ہے۔ اس شہر کی زندگی میں ایک تہذیبی و تاریخی رچاؤ ہے، جو ہر مکین کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے ایسے شہر میں کیسی کیسی شخصیات جنم نہیں لیتی ہوں گی۔ رضی الدین رضی نے تو صرف نصف صدی کے رفتگان کا حال سنایا ہے ذرا سوچئے ہزاروں برس کی تاریخ میں کیسے کیسے نابغہء روزگار زمیں زاد پیدا نہیں ہوئے ہوں گے۔

رضی الدین رضی نے دیباچے میں لکھا ہے۔ ”یہ کتاب یہ نوحے، مضامین کا یہ قبرستان میں اس لئے کتابی صورت میں لایا ہوں کہ میرے یہ بزرگ، میرے یہ دوست اور میرے یہ پیارے جو اس شہر کی شناخت تھے، ان کی یادیں کہیں کسی جگہ محفوظ ہو جائیں۔ میں نے رفتگان کی زندگی کے کچھ واقعات اور ان کی شخصیت کے کچھ پہلو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔موت ایک اٹل حقیقت ہے، موت ایک مکمل سچ ہے اس کتاب میں بھی آپ کو آدھا نہیں پورا سچ پڑھنے کو ملے گا“۔ رضی نے اپنی تحریر میں جو یہ دعویٰ کیا ہے، وہ اس لئے سچ ہے کہ ان شخصیات کو سب جانتے ہیں اور ان کی زندگی کو سب نے اپنے سامنے بنتے اور بکھرتے دیکھا ہے۔ رفتگان میں ہر عمر، ہر صنف ادب اور فنون لطیفہ کی ہر شاخ کے جانے  والے شامل ہیں۔ یوں یہ ایک ایسا گلدستہ بن گئی ہے جو پھولوں سے مہک رہا ہے۔

 رفتگان کی یہ 54کہانیاں رضی الدین رضی نے ایک خاص کیفیت میں لکھی ہیں۔ بچپن میں باپ کے سائے سے محروم ہو جانے والے رضی الدین رضی  کو  اپنی زندگی کا وہ پہلا جنازہ یاد ہے۔ کتاب کا انتساب بھی انہوں نے اپنے والد شیخ ذکا الدین اوپل کے نام کیا ہے۔ وہ کرب جو بچپن میں ان کے اندر اترا تھا وہ پھر کبھی نہ نکل سکا ۔اس لئے انہیں ہر چھوڑ کے جانے والا اسی طرح کا درد دیکر رخصت ہواجو پہلا جنازہ پڑھتے رضی الدین رضی نے محسوس کیا تھا۔ اس کتاب میں سبھی شخصیات اپنی مثال آپ رہی ہیں۔ کس کس کا ذکر کیا جائے کہ کالم کی کوتاہ دامنی اس کی اجازت نہیں دیتی، تاہم بعض ایسی شخصیات ہیں جن کے بغیر محاورتاً نہیں بلکہ حقیقت میں ملتان کی ادبی تاریخ مکمل نہیں ہوتی۔ ان میں ڈاکٹر عرش صدیقی، حزیں صدیقی، ڈاکٹر عاصی کرنالی، ڈاکٹر بیدل حیدری، حسین سحر،  ڈاکٹر اسلم انصاری، ارشد ملتانی، زوار ملتانی، مرزا ابن حنیف، بشریٰ رحمن، ثمربانو ہاشمی، جعفر شیرازی، ولی محمد واجد،ڈاکٹر مقصود زاہدی، قاسم قاضی، ممتاز العیشی، اطہر ناسک، کیف انصاری، خان رضوانی، حیدر گردیزی، انور امروہوی،تسور گردیزی، منیر فاطمی، اقبال ساغر صدیقی، نذر بلوچ، قمر الحق قمر، غرض کہانی کا ہر کردار ایک زندہ جاوید شناخت رکھتا ہے۔

سب سے اہم بات رضی الدین رضی کا اسلوب ہے۔ رضی کے عمومی اسلوب میں شگفتہ مزاجی اور طنزو مزاح کا تڑکا ضرور ملتا ہے، مگر اس کتاب میں وہ ایک ایسی کیفیت کو ساتھ لے کر چلتا ہے جو درد کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے۔ بچھڑنے والوں کی کہانیاں سناتے ہوئے راوی پر جس قسم کا تاثر غالب رہتا ہے، وہ اس کتاب میں رضی کا اسلوب بن جاتا ہے، تاہم اس کے باوجود وہ شخصیت کے اوصاف اور خوبیوں کو گنوانے میں کسی بات کو آڑے نہیں آنے دیتا۔ یہ ویسے تو نوحے اور خاکے ہیں، مگر چونکہ رضی نے انہیں کہانیاں کہا ہے اس لئے بیانیے میں کہانی کا رنگ نمایاں ہے۔ سنی سنائی باتوں کی بجائے رضی الدین رضی چونکہ اپنی اوائل عمری سے متحرک زندگی کے باعث ان سب شخصیات کے قریب رہے اور انہیں اپنی کھلی آنکھ سے دیکھا اس لئے انہوں نے جو کہانیاں سنائی ہیں، وہ نہ صرف قاری کو دلچسپی کے حصار میں لے لیتی ہیں بلکہ ا س کے سامنے نصف صدی پہلے کا ملتان اپنی جیتی جاگتی شخصیات کے ساتھ عکس ریز ہو جاتا ہے۔

 یہ کام صرف رضی ہی کر سکتے تھے کیونکہ وہ ماضی کو سنبھال کے رکھتے ہیں اور ان کے پاس یادوں کا ایک ایسا مستند سلسلہ محفوظ ہے، جو ملتان کو جاننے اور سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)