وزیر اعظم اور پاکستانی تارکین وطن
- تحریر سید مجاہد علی
- اتوار 21 / ستمبر / 2025
وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے ہوئے لندن میں قیام کیا اور اورسیز پاکستانیز کے ایک کنونشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے خوشگوا رباتیں کیں تاہم وہ ملک کی داخلی صورت حال، امن و امان کی بحالی اور عام آدمی کے مسائل پر اظہار خیال کرنے میں ناکام رہے۔
حکومت اور عسکری قیادت بیرون ملک پاکستانیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے سرگرم دکھائی دیتی ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ کے دوروں کے دوران مخصوص پاکستانیوں سے ملاقاتیں کی تھیں اور انہیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ اس کے بعد برسلز میں اوورسیز پاکستانیوں کے کنونشن سے خطاب کیا اور یورپ بھر میں مقیم پاکستانی تارکین وطن سے ملاقات کی ۔ اب وزیر اعظم نے لندن میں ایک نام نہاد ’اوور سیز پاکستانیز کنونشن‘ سے خطاب کیا ہے ۔ تاہم ان کی باتوں میں بھی وہ عنصرغائب تھا جو عام طور سے بیرون ملک مقیم پاکستانی تارکین وطن کو پریشان رکھتا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان میں امن و امان اور سیاسی حالات کے بارے میں ہے۔ اس حوالے سے ٹھوس معلومات دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔
حکومت پاکستان اپنے ایلچیوں اور سفارت خانوں کے ذریعے بھی یورپی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی رائے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔ اس ذرائع سے بھی پاکستان میں حالات کی مثبت تصویر پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ بیرن ملک پاکستانیوں کو باور کرایا جاسکے کہ حکومت ایک طرف معیشت بحال کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے دوسری طرف بھارت کے ساتھ مقابلے میں ’دشمن ‘ کو ناکوں چنے چبوا کر پاکستان کا دفاع مستحکم کرلیاگیا ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے ایک دفاعی معاہدے کو بھی حکومتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ حالانکہ یہ معاہدہ پاکستان کی بجائے سعودی عرب کے احساس تحفظ کو دور کرنے کے لیے طے پایا ہے۔
یورپ میں مقیم تارکین وطن سے پاکستانی حکام کا مکالمہ اس حد تک تو خوش آئیند ہے کہ حکومت ان لوگوں کو اہمیت دینے کی کوشش کررہی ہے جو پاکستان کو کثیر زر مبادلہ فراہم کرکے ملکی معیشت مضبوط کرنے میں کردار ادا کررہے ہیں۔ تاہم اس کے لیے جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے وہ کسی حد تک ’مصنوعی ‘ اور مغرب کی جمہوری روایات کے برعکس ہے۔ اس حوالے سے اورسیز پاکستانیز کنونشنوں کا انعقاد ، اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ پاکستانی لیڈر حقیقی ڈائیا سپورا سے ملتے ہوئے خوف و پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اسی لیے ایسے کنونشن کا اہتمام کیا جاتا ہے جہاں مخصوص لوگوں کو ’محفوظ‘ ذرائع سے مدعو کرکے چند سو لوگ جمع کرلیے جاتے ہیں اور پھر وزیر اعظم یا کوئی دوسرا لیڈر اپنی باتیں کرکے روانہ ہوجاتا ہے۔ ان باتوں میں عام طور سے معاملات کی خوشگوار تصویر دکھائی جاتی ہے لیکن حقیقی مسائل یا پاکستانی تارکین وطن کی اصل پریشانیوں کا کوئی حوالہ موجود نہیں ہوتا۔ نہ ہی کوئی لیڈر وہاں موجود لوگوں کے سوالات کا جوب دینے کی زحمت کرتا ہے۔
سب سے پہلے تو ایسے کنونشنوں کے بارے میں عام تارکین وطن کو کوئی معلومات حاصل نہیں ہوتیں۔ البتہ جب وزیر اعظم ، آرمی چیف وغیرہ کی تقریر میڈیا میں رپورٹ ہوتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پاکستانیوں کے وسیع اجتماع سے خطاب کرکے انہیں اپنے اعتماد میں لیا۔ حالانکہ ایک جعلی انداز سے صرف گنے چنے لوگوں کو اکٹھا کرکے تقریر کرنے سے اعتماد سازی یا مسائل جانچنے کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ شاید یہ ملکی حکمرانوں کا حقیقی مقصد بھی نہیں ہے ۔ اسی لیے جعلی کنونشنوں کے ذریعے چند سو لوگوں کو اکٹھا کرکے تقریر جھاڑنے کا موقع تلاش کیاجاتا ہے پھر ان باتوں کی میڈیا میں تشہیر کے ذریعے پاکستانی عوام میں پوائینٹ اسکورنگ کی جاتی ہے۔ حالانکہ کم از کم ملک کے سیاسی لیڈروں کو تو یہ ادراک ہونا چاہئے کہ ایسے پروپیگنڈے سے فاصلے کم کرنے کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔
لندن میں تقریر کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی تارکین وطن 38 ارب ڈالر کا زر مبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔ پونے چار سو ارب ڈالر کی پاکستانی معیشت میں یہ رقم بہت اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان کی زر مبادلہ کی ضرورتیں پوری کرنے کے کام آتی ہے۔ زرمبادلہ کی یہ مقدار گزشتہ سال پاکستانی برآمدات سے 6 ارب ڈالر زیادہ ہے۔ اس سے ہی اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے اہم گروہ کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اگر صرف یک طرفہ طور سے اپنی کامیابی کے دعوے کرکے روانہ ہوجائیں گے اور وہاں موجود لوگوں کی مشکلوں یا احساسات جاننے کی کوشش نہیں کریں گے تو اس سے اعتماد میں اضافہ کی بجائے موجودہ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کے ہمہ قسم طبقات کو ایسے اجلاس میں شریک ہونے کا موقع نہ دے کر بھی پاکستانی لیڈر ایسے مواقع سے محض ٹی وی کے لیے فوٹیج بنانے کا مقصد ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ حکومت یورپ و امریکہ میں آباد پاکستانیوں میں خیرسگالی کے جذبات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسے ان ملکوں میں عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف رغبت سے اندیشے لاحق رہتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسے مواقع تلاش کرتی ہے کہ کسی طرح پاکستانی تارکین وطن کو حکومتی بیانیہ پر متفق کرایاجاسکے۔ سیاسی طور سے یہ طریقہ ناجائز نہیں بلکہ خوش آئیند ہے۔ لیکن سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے ہونے والے اجتماعات کا انتظام بھی سیاسی سوچ کے مطابق ہونا چاہئے۔ بیوروکریسی یا سفارت خانوں کے ذریعے چند سو لوگوں کو اکٹھا کرکے یک طرفہ بات چیت سے یہ سیاسی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ کسی سیاسی لیڈر کو لوگوں کے سوالات سے پریشان نہیں ہونا چاہئے اور اس کے پاس ایسے سوالوں کا مناسب جواب بھی ہونا چاہئے۔ جب ملکی وزیر اعظم ایسے سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو یہ احساس قوی ہوتا ہے کہ انہیں عوام پر بھروسہ نہیں ہے۔
یورپ میں آباد پاکستانی سیاسی طور سے باشعور ہیں اور معاملات کو ان کے میرٹ پر پرکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برطانیہ یا دیگر ممالک ، جہاں بھی وہ آباد ہیں، وہاں وہ اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہیں اور ووٹ کی طاقت سے آگاہ ہیں۔ اسی لیے یورپ کے جمہوری ماحول میں رہتے ہوئے ، انہیں پاکستان میں ووٹ کی بے حرمتی اور عوام کو بنیادی جمہوری حق نہ دینے کے معاملہ پر پریشانی لاحق رہتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لوگ نہ صرف پاکستان تسلسل سے مالی وسائل فراہم کرتے ہیں تاکہ وہاں آباد ان کے اہل خاندان مناسب زندگی بسر کرسکیں بلکہ متعدد تارکین وطن پاکستان میں سرمایہ کاری کی کوششیں بھی کرتے رہتے ہیں لیکن بیشتر صورتوں میں انہیں سرکاری انتظام یا دیگر دھوکہ دہی کی وجہ سے شدید مایوسی ہوتی ہے۔ اس طرح پاکستان محفوظ سرمایہ کاری کے ایک اہم ذریعہ سے محروم ہوتا ہے۔ یورپ کے پاکستانیوں کا دل جیتنے کے لیے ان دونوں پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ وزیر اعظم نے اگر لندن میں پاکستانیوں سے خطاب کرنے کا حوصلہ کیا تھا تو سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی تشہیر ہونی چاہئے تھی تاکہ جو چاہتا اس موقع پر شامل ہوسکتا۔ دوسرے ایسے پلیٹ فارم کو محض سیاسی تقریر کے لیے استعمال کرنے کی بجائے سیاسی مکالمہ کے لیے استعمال کرنا چاہئے تاکہ وہاں موجود لوگوں کو احساس ہوسکے کہ پاکستان کا وزیر اعظم جمہوری انتظام و روایت پر یقین رکھتا ہے اور عوام کے سوالوں کا جواب دینے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہے۔
یورپ کے پاکستانی معیشت کے علاوہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال، اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے متعصبانہ سلوک، انتہا پسندی اور آزادی رائے پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے نالاں ہیں۔ موجودہ حکومت کے بارے میں انہیں باور کرایا گیا ہے کہ یہ فارم 47 کے نتیجے میں یعنی دھاندلی کے ساتھ قائم ہوئی ہے۔ ان حالات میں شہباز شریف جب لندن میں اجتماع سے خطاب کرتے ہیں تو انہیں کھلے دل سے ان پہلوؤں پر اظہار خیال کرنا چاہئے تھا۔ پاک بھارت جنگ یا کشمیر و فلسطین کے مسائل پر خواہ کتنی ہی طویل تقریر کرلی جائے ، تارکین وطن ان معاملات سے بخوبی آگاہ ہیں اور محروم لوگوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم کو تو یہ بتانا چاہئے کہ وہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے لیے جن حقوق کی بات کررہے ہیں ، کیا ان کی قیادت میں پاکستانی باشندوں کو بلا تخصیص یہ حقوق حاصل ہیں۔ تاہم لندن میں وزیر اعظم پاکستان نے اس پہلو سے بات کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔
شہباز شریف نے ’سیاسی وعسکری قیادت کی سوچ میں یکسانیت‘ کو پاکستان میں ترقی کے نئے دروازے کھلنے اور بھارت کے مقابلے میں فتح کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس عمل میں پاکستانی عوام کی حصہ داری کی صورت حال کیا ہے۔ اگر عوام کی رائے اہم حکومتی فیصلوں میں شامل نہیں ہوتی تو پاکستانی نظام کو کیسے جمہوری قرار دیا جاسکتا ہے؟