تیونس کی سیر
- تحریر فہیم اختر
- اتوار 21 / ستمبر / 2025
سفر کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے اندر بھی ایک نیا سفر ہوتا ہے۔ راستے میں نئے لوگ ملتے ہیں، ان کی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں اور ہر منظر دل کو میں ایک چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی پہاڑ اپنی خاموشی سے بات کرتے ہیں، کبھی سمندر اپنے شور میں سکون چھپا لیتا ہے، اور کبھی اجنبی شہر کی گلیاں ہمیں اپنی ہی پہچان یاد دلاتی ہیں۔یوں لگتا ہے جیسے سفر ہمیں زمین کے ساتھ ساتھ اپنے دل اور دماغ کے نقشے بھی سمجھا رہا ہو۔زندگی بھر ہم نے کئی ممالک اور شہروں کا سفر کیا، اور زندگی میں ان سفروں سے نہ صرف سیکھا بلکہ اللہ کا شکر بھی ادا کیا کہ اللہ کی بنائی دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ مختلف زبانیں، لوگ، نسل، ثقافت، آب و ہوا وغیرہ نے ہر سفر کے بعد مجھے سفر کے متعلق ایک کالم لکھنے پر مجبور کیا۔
جمعرات گیارہ ستمبر کو ہم نے شمالی افریقہ کے تیونس جانے کے لیے لندن کے گیٹ وِک ائیر پورٹ سے ایزی جیٹ پر سوار ہو کر نکل پڑے۔تیونس کے اِن فدا ائیر پورٹ پر شام کے ساڑھے چھ بجے ہمارا جہاز حفاظت سے اتر گیا اور ہم امیگیریشن پر اپنا برٹش پاسپورٹ دِکھا کر باہر نکل گئے۔لندن سے روانہ ہونے سے قبل آن لائن کے ذریعہ ائیر پورٹ ٹرانسفر کے ویب سائٹ کی مدد سے ٹیکسی بُک کر لی تھی۔ائیر پورٹ پر کھڑے دو چار لوگ جو اپنے اپنے مسافر کا انتظار کر رہے تھے ان ہی میں ہی میرا نام مسٹر فہیم دِکھا۔ میرا چہرہ کھل اٹھا، اور کھِلتا بھی کیوں نہیں، کیونکہ اِن فدا ائیر پورٹ پر بھی مجھے کوئی جاننے والا مل گیا۔تیونیسی ڈرائیور نے گرم جوشی سے اپنا نام فرینجی بتا یا اور میرا چھوٹا سا سامان لے کر کار پارک کی طرف چل دیا۔راستے بھر ہم انگریزی میں تیونس کی باتیں کرتے رہے اور کچھ سوال اور کچھ دلچسپ جواب کے ساتھ لگ بھگ ایک گھنٹہ دس منٹ میں ہم منستِر شہر پہنچ گئے۔
رات کے لگ بھگ نو بجنے والے تھے۔ ہوٹل کے کاونٹر پر موجود صاحب نے ہمارا پاسپورٹ چیک کیا اور کمرے کی چابی ہمارے حوالے کر دی۔ ہم تیز قدمی سے لفٹ پر سوار ہو کر پانچویں منزل پر اپنے کمرے میں جاکر منہ ہاتھ دھویا اور جوں ہی کمرے کے پیچھے نکل کر بالکونی سے باہر جھانکا تو ہوٹل کی سوئمنگ پول پر نظر پڑی اور ساتھ ہی ریسٹورنٹ میں بیٹھے لوگوں پر نظر پڑی۔بلکہ یوں کہہ لے کہ" ہنگامہ ہے کیوں برپا"۔میوزک تیز آواز میں بج رہی تھی اور پورا ماحول خوشگوار تھا۔
دوسرے روز منستِر میں جمعہ کی نماز پڑھی اور مقامی جگہوں کی سیر کی۔ جس میں لال چائے اور اس کے پینے والوں کی جمگھٹ نے بھی متاثر کیا۔ میں نے عجیب وغریب بات یہ دیکھی کہ چائے کی دکانوں پر لوگ اپنی کرسیاں سڑکوں کی طرف لگا کر بیٹھے چائے پی رہے ہیں اور سڑکوں کی طرف دیکھ رہے اور ساتھ میں بیٹھے دوستوں سے گپ شپ بھی کئے جارہے جب کہ عام طور پر لوگ جب کھانے پینے بیٹھتے ہیں تو وہ ٹیبل کے چاروں طرف بیٹھتے ہیں۔ہے نہ یہ عجیب و غریب بات۔خیر اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ لوگ اپنے دوستوں کو روز دیکھ دیکھ کر اکتا گئے ہوں اسی لیے انہوں نے کرسیاں سڑکوں کی طرف موڑ کر صرف سننے پر اکتفا کیا ہے۔
سنیچر 13ستمبر کی صبح ہوٹل میں ناشتہ کیا اور پاس ہی سمند ر کی ساحل سیر کرنے چلا گیا۔صبح کے گیارہ بج رہے تھے ادھر اُدھر ٹہلتے ہوئے پاس ہی بیٹھے بھائی محمد ان کی بیگم اور ماں سے ملاقات ہوئی۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں محمد نے بتایا کہ وہ بینک کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں اور ہفتے میں تین چار روز اپنی ماں کو سمندر کی ساحل پر لاتے ہیں اور کچھ لمحہ چائے پی کر واپس گھر جاتے ہیں۔محمد نے یہ بھی بتایا کہ جہاں ہم بیٹھے ہیں اس جگہ پر انہوں نے خود سنگِ مرمر لگایا ہے تاکہ لوگ آرام سے بیٹھ کر اپنا وقت گزاریں۔میں محمد کی باتوں سے کافی متاثر ہوا اور سوچنے لگا کہ اگر ہم چھوٹے چھوٹے کاموں کی ذمہ داری خود لے لیں تو ہمارے مسائل خود بخود حل ہوجائے گیں۔
اتوار 14ستمبر کی صبح ہم نے سارے دن کے لیے ٹیکسی کیرون اور این جیم کے لیے بُک کیا تھا۔ تیونس کی گرمی نے میری پیاس بڑھا رکھی تھی اور کیرون پہنچنا بھی میری دلی خواہش تھی۔ کیرون میں صحابی ابو زمعہ البلادی کا مزار ہے جنہیں سیدی صاحب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو کیرون می مدفون ہیں۔روایت سے پتہ چلتا ہے کہ سیدی صاحب کو نبی کریم ﷺ کی داڑھی کے کچھ بالوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔ابو زمعہ البلادی، سیدی صاحب،ایک صحابی اور نبی کریم ﷺ کے حجام تھے۔ سیدی صاحب کی موت دورانِ جنگ 654عیسوی کے قریب تیونس کے شہر کیروان میں ہوئی اور وہیں ان کو دفن کیا گیا تھا۔
ابھی میں مزار کی زیارت کر ہی رہا تھا کہ اچانک کانوں میں ڈھول بجنے کی آواز آنے لگی۔ گردن گھمائی تودیکھا کہ چند مرد اور عورتیں خوشی کا اظہار کرتے عربی میں کچھ گارہی تھیں۔ میں نے اپنے ڈرائیور سے ڈھول بجاتی ہوئی لڑکیاں اور تقریب کے بارے میں مزید تفصیل پوچھی تو اس نے بتا یا کہ آج دو بچوں کا ختنہ ہے۔ سامنے ہی سفید لمبی جیکٹ میں قصائی کی شکل میں ایک شخص بیٹھا تھا جس کے سامنے ایک چھوٹے سا بریف کیس کھلا ہوا ہوا تھا جس میں ہر طرح کی چھری اور اور چند دوا کی بوتلیں تھیں۔ میں ڈرائیور کی بات سن کر نروس ہونے لگا اور میرے ذہن میں اپنے ختنے کی یاد تازہ ہوگئی جب حجام نے مجھے آسمان کی طرف دکھا کر میرا ختنہ کیا تھا۔
کیروان شہر میں عظیم الشان مسجد بھی دیکھنے کا موقع ملا جسے مسجد عقبہ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی مشہور تاریخی مسجد ہے جسے 670عیسوی میں فاتح جنرل سیدی اوکبا نے قائم کیا تھا، جو شمالی افریقہ کے سب سے اہم اور مقدس ترین اسلامی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ شمالی افریقہ کی قدیم ترین اور سب سے بڑی اور پہلی مسجد ہے جسے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا بھی ایک اہم مقام درجہ حاصل ہے جو اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ تیز دھوپ اور پیاس کی شدت کے بیچ ہم ایک گھنٹے بعد کیروان سے ایل جیم پہنچے۔ میلوں دور سے ایل جیم کا طاقتور رومن ایمفی تھیٹر تیونس،کسی بھی سیاح کے لیے اہم جگہ ہے اور جو آن و شان سے ہمارا استقبال کررہا تھا۔ اسے 1979سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ دنیا کا بہترین محفوظ شدہ رومن ایمفی تھیٹر بھی ہے۔ رومیوں نے 230 عیسوی میں اس ایمفی تھیٹر کی تعمیر شروع کی اور آٹھ سالوں میں تفریح کا یہ زبردست مرکز مکمل ہوگیا۔ یہ رومن سلطنت کا چوتھا سب سے بڑا ایمفی تھیٹر تھا اور اس میں 30000تماشائی بیٹھ سکتے تھے۔ یہ 149میٹر لمبا اور 122میٹر چوڑا ہے اور اس کی اونچائی 40میٹر ہے۔ یہ ایمفی تھیٹر قدیم زمانے میں مشہور متعدد واقعات کی میزبانی کرتا تھا جن میں گلیڈی ایٹر شوز، جنگلی جانوروں کے شکار اور مجرمانہ سزائیں تھیں۔
منگل 16ستمبر کی دوپہر تین بجے ہم اپنے ڈرائیور کے ہمراہ اِن فدا ائیر پورٹ کی طرف چل پڑے جہاں سے ہمیں لندن کے لیے اپنی فلائٹ پکڑنی تھی۔ راستے بھر نوجوان ڈرائیور باہا سے خوب باتیں ہوتی رہی۔ ائیر پورٹ پہنچنے سے قبل باہا نے مجھ سے پوچھا کہ عصر کا وقت ہورہا ہے، اگر ہم چاہیں تو نماز پڑھ لیتے ہیں۔ نیکی اور پوچھ پوچھ، ہم نے وضو کیا اور عصر کی نماز ادا کی۔ پاس ہی چائے کی دکان پر چائے پینے کے لیے بھی کچھ دیر رک گئے۔ تبھی میری نظر پاس زیتون کے کھیت پر پڑی۔ ہم نے ڈرائیور باہا سے زیتون کے کھیت کی سیر کرنے کی درخواست کی اور انہوں نے اس موقعہ پر ہماری ایک چھوٹی سی ویڈیو بھی بنائی۔ ہم آپ کو بتاتے چلے کہ تیونس زیتون کا تیل پیدا کرنے والے دنیا کے سرکردہ ممالک میں سے ایک ہے۔ جہاں زیتون کے 86ملین درخت ہیں اور قدیم تہذیبوں سے متعلق ایک بھر پور تاریخ ہے۔ تیونس قدیم زیتون درختوں کا گھر بھی ہے، بشمول اچراف زیتون کا درخت، جو افریقہ میں سب سے قدیم سمجھا جاتا ہے۔
سفر ایک راز کی مانند ہے جو ہر قدم پر کھلتا جاتا ہے۔ راستے میں آنے جانے والے مناظر کبھی آنکھوں کو چمکاتے ہیں اور کبھی دل کو نرم کردیتے ہیں۔ اجنبی چہروں کی مسکراہٹیں، پرانے درختوں کی چھاؤں اور دور کہیں سے آتی اذان کی آواز، یہ سب لمحے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر جاتے ہیں۔ تیونس کے شہر منستر، کیروان اور ایل جیم نے ہمیں بتایا کہ دنیا بہت بڑی ہے مگر دل کی وسعت اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی ہے۔ جو ہمیں نہ صرف منزل تک پہنچاتا ہے بلکہ اپنے اندر کی گمشدہ راہوں تک بھی ہمیں لے جاتا ہے۔
تیونس کا سفر میرے لیے صرف ایک ملک دیکھنے کا نہیں، بلکہ ایک احساس جینے کا تجربہ تھا۔ صحراؤں کی وسعت، پرانی گلیوں کی خوشبو اور لوگوں کی سادگی نے یہ سکھایا کہ سفر محض فاصلے طے کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ دل کے دروازے کھولنے کی کنجی بھی ہے۔ ہر سفر ہمیں نیا سبق دیتا ہے، نئی آنکھ عطا کرتا ہے اور یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا صرف دیکھنے کے لیے نہیں، سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے بھی ہے۔ تیونس کا سفر میری زندگی کا وہ صفحہ ہے جس نے مجھے بتایا کہ سفر صرف فاصلے طے کرنے کے نہیں ہوتے بلکہ احساسات بدلنے کا نام ہے۔