حکومت پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے گی

  • سوموار 22 / ستمبر / 2025

حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لینے کے حوالے سے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 ستمبر کو طلب کیا جائے گا۔

پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت پارلیمانی امور نے اجلاس بلانے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔ اجلاس 29 ستمبر کی شام 5 بجے بلانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت قومی اسمبلی کو پاک-سعودی عرب دفاعی معاہدے پر اعتماد میں لے گی جب کہ وزیر دفاع خواجہ آصف اس حوالے سے پالیسی بیان دیں گے۔

پارلیمانی ذرائع نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس دو ہفتے جاری رہے گا۔ اجلاس میں معمول کا سرکاری ایجنڈا بھی زیر بحث آئے گا جب کہ مختلف بلز قانون سازی کے لیے پیش کئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 18 ستمبر کو ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط ہوئے، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کےخلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاک-سعودیہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور دوسرے عرب ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں۔