کیا شہزادے نے شہباز شریف کو بھی گھڑی نہیں دی ہو گی؟
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- سوموار 22 / ستمبر / 2025
عربوں کی مہمان نوازی تو مثالی ہے۔ آپ کو گزرے برسوں کا واقعہ یاد ہی ہو گا جب حاتم طائی نامی عرب نے ایک مہمان کو اپنا عزیز از جان اور مشہور گھوڑا پکا کر کھلا دیا تھا اور بعد میں اسے پتہ چلا کہ وہ بندہ تو آیا ہی مذکورہ گھوڑا مانگنے تھا۔ یعنی روایتی عرب ایسے ہی مہمان نواز اور جلد باز ہوتے ہیں۔
عمران خان جب وزیر اعظم تھے تو وہ سعودی عرب جاتے تھے تو شہزادہ اسی روایتی عرب مہمان نوازی کی وجہ سے ان پر قیمتی تحفے نچھاور کر دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ شخص ہے ہی اس قابل کہ سونے میں تولا جائے۔ کبھی انہیں طلائی بندوق دیتا، کبھی جڑاؤ گھڑی اور کبھی حاتم طائی ہی کی مانند اپنی ذاتی سواری، اپنا عزیز جہاز۔ دوسری طرف کپتان کو کبھی مال دولت میں کشش محسوس نہیں ہوئی، وہ تو بس ہر نوع، ہر قوم، ہر صنف کے انسانوں سے محبت کرنے کا قائل تھا، روپے پیسے سے نہیں۔ وہ دنیا دار ہوتا تو پھٹے ہوئے کپڑے پہن کر نہ گھومتا۔
کپتان جیسا درویش ان معاملات سے یکسر بے پروا تھا۔ شہزادے نے اپنی دوستی کی یادگار کے طور پر اسے کروڑوں کی گھڑی دی کہ جب بھی وقت دیکھو تو میری صورت یاد آئے گی۔ کپتان نے ایک طرف رکھی اور بھول گیا۔ نیویارک سے وطن واپس آنے کے لیے شہزادے نے اپنا ذاتی جہاز دیا تو کپتان کو آدھے راستے میں خیال آیا کہ میں تو اس آرام دہ شاہی جہاز میں سفر کر رہا ہوں اور لاکھوں پاکستانی عام سی سائیکل پر بھی سفر نہیں کر سکتے۔ اس نے آدھے راستے سے ہی جہاز کو واپس پلٹنے کا حکم دیا اور پھر ایک عام پاکستانی کی طرح عام فلائٹ سے واپس آیا۔
کپتان گزرے وقت کو یاد کرنے کا قائل نہیں اور نہ ہی ان باتوں کو جنہیں ایسا سلوک کرنے والے اپنا احسان بتاتے ہیں۔ ایک غریب محلے دار ایک دن شب برات کا حلوہ بانٹنے اس کے غریب خانے آیا تو اس نے اپنی کمر پکڑ رکھی تھی۔ کپتان نے بے چین ہو کر پوچھا کہ کیا ہوا تو اس نے کہا کہ آپ کے گھر کی سڑک بہت ٹوٹی پھوٹی ہے، گڑھوں سے گزرتے ہوئے کمر کا مہرہ کھسک گیا۔ کپتان نے اسی وقت وہ گھڑی اتار کر ایک معتمد کے حوالے کی کہ اسے بیچ کر سڑک بنوا دو تاکہ یہاں آنے جانے میں مہروں کو تکلیف نہ ہو۔ پھر کپتان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں ہو گا کہ اس معتمد نے گھڑی کا کیا کیا، کتنے کی بیچی، کس کو بیچی، اسے ایک دن بس یہ پتہ چلا کہ اس پر غنیموں نے گھڑی چوری کا مقدمہ بنا دیا ہے۔
اب کپتان جیسا وزیراعظم تو ہے نہیں جس نے کبھی مال دولت کی پروا کی ہو۔ اب تو ایک سرمایہ دار حکمران ہے۔ اور سرمایہ داروں کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ان کی زندگی روپے پیسے کے گرد گھومتی ہے۔ لیکن شہزادہ تو ابھی بھی ویسا ہی ہے، ویسا ہی مہمان نواز، دریا دل اور سادہ۔ اسے کسی نے بتایا ہو گا کہ شہباز شریف نامی یہ شخص اب اس کرسی پر بیٹھتا ہے جو کبھی آپ کے عزیز دوست عمران خان کے تصرف میں تھی، تو شہزادے نے شہباز شریف کو اپنے دوست کی نشانی سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھا لیا اور مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
اب وہی شہزادہ ہے جس کے ساتھ اتنا بڑا معاہدہ ہوا ہے، یہ ممکن ہی نہیں کہ مہمان نواز شہزادے نے شہباز شریف کو قیمتی گھڑی نہ دی ہو کہ جب بھی اسے دیکھیں تو انہیں یہ وقت یاد رہے اور اپنا قول و قرار بھی۔ اب کاریگری دیکھیں ان شریفوں کی، اس ہیرے جواہرات جڑی سونے کی گھڑی کی خبر ہی میڈیا پر نہیں آنے دی جو شہزادے نے ضرور دی ہو گی، جبکہ کپتان کو بدنام کر دیا۔ جب آپ نے ایف اے کی انگریزی کتاب میں آسکر وائلڈ کی چڑیا اور شہزادے کے مجسمے کی کہانی پڑھی تھی تو کیا آپ کو اس سے کپتان یاد نہیں آیا تھا؟ اس شہزادے نے بھی تو اپنا تاج، اپنی انگوٹھی، اپنا طلائی لباس حتیٰ کہ اپنی ہیروں سے بنی آنکھیں بھی غریبوں کی مدد کے لیے دان کر دی تھیں، کیا کپتان اس سے کم غریب نواز ہے؟
تحریک انصاف والوں کو شہباز شریف سے پوچھنا چاہیے کہ اس گھڑی کا کیا بنا جو شہزادے نے تحفے میں دی ہو گی۔ ہمیں یقین ہے کہ شہباز شریف کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہو گا۔ وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ انہوں نے گھڑی بیچ کر غریبوں کے لیے اپنے گھر کے سامنے کی سڑک بنوا دی۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)