تیراہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت

  • منگل 23 / ستمبر / 2025

وادی تیراہ میں اتوار کی شب پیش آنے والے واقعے میں مجموعی طور پر 23 افراد ہلاک ہوئے جن میں سات خواتین اور چار بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستانی فوج کی جانب سے تاحال تیراہ میں کسی کارروائی کے حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت صوبے میں فوج کو کارروائیاں کرنے حق ہے، اس پر ہمارا اختیار نہیں کہ ہم انہیں روک سکیں۔ منگل کے روز پشاور ہائی کورٹ کے باہر وزیرِ اعلیٰ  سے شہریوں کو ہونے والے نقصان کے حوالے سے  پوچھا گیا تھا کہ کیا کوئی قانونی کارروائی ہونی چاہیے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس صوبے میں جو دہشتگردی دوبارہ شروع ہوئی ہے، وہ کئی دہائیوں سے ہو رہی ہے۔‘

بی بی سی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ، ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر، ڈی پی او خیبر اور صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف سے رابطے کی کوشش کی اور انہیں اس واقعے کے تناظر اور نوعیت کے بارے میں سوالات بھیجے تاہم تمام متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ادھر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے ہلاک ہونے والے شہریوں کے لواحقین کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے زرِ تلافی کا بھی اعلان کیا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ کے باہر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ جہاں تک کارروائی کی بات ہے، دہشتگرد بھی کر رہے ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف ہماری فورسز بھی کر رہی ہیں۔ لیکن اس میں کسی بھی طرح سے کولیٹرل ڈیمج یا عام شہریوں کی ہلاکت ہمیں قابلِ قبول نہیں۔ ان کارروائیوں میں کوئی بھی شہری ہلاک ہوتا ہے تو ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ’یہ نہیں ہونا چاہیے لیکن اس جنگ کے میں یہ بار بار ہو رہا ہے۔

علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ’شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائی کے ساتھ ساتھ مارٹر گولے کا بھی استعمال ہوتا ہے، ڈرون بھی استعمال ہوتے ہیں اور جہاز بھی استعمال ہو رہے ہیں، یہ آئین کے تحت ملٹری کا رائٹ [حق] ہے۔ اس پر ہمارا اختیار نہیں کہ ہم روک سکیں۔ لیکن ہمارا اس بارے میں موقف ہے کہ اس جنگ کو کیسے لڑنا چاہیے وہ یہ ہے کہ مذاکرات کرنے چاہییں اور یہ جو کارروائیاں ہو رہی ہیں یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 27 ستمبر کو پشاور میں ہونے والے پی ٹی آئی کے جلسے میں بھی اس پر بات ہوگی۔ پورا صوبہ جب اکٹھا ہوگا تو اس کے لائحہ عمل پر بھی بات کریں گے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں اتوار کی شب عام شہریوں کی ہلاکتوں کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے واقعات ’ناقابلِ قبول اور افسوسناک‘ ہیں۔

دوسری طرف  پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اتوار کی شب تیراہ میں مبینہ ’فضائی بمباری‘ کے نتیجے میں بچوں سمیت متعدد شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے مطابق وادی تیراہ میں پیش آنے والے اس واقعے میں مبینہ طور پر دو گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔  اپنے بیان میں انسانی حقوق کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ریاست آئینی طور پر شہریوں کے زندگی کے تمام حقوق کا تحفظ کرنے کی پابند ہے، جسے وہ نبھانے میں وہ بار بار ناکام رہی ہے۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں شہری ہلاکتوں کے ایسے دو واقعات پیش آ چکے ہیں۔ جولائی میں تیراہ میں ہی ایک مکان پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک بچی کی ہلاکت ہوئی تھی جس کے بعد ہونے والے احتجاج پر فائرنگ سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ جولائی میں ہی باجوڑ میں بھی عسکری کارروائیوں کے دوران تین شہریوں کی ہلاکت کے واقعات پیش آئے تھے۔ اس موقع پر بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈاپور نے کہا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشنز میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور فوج اور عوام کے درمیان اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔

بی بی سی نے کچھ مقامی افراد اور سیاسی رہنماؤں سے بات کی جس میں حملے کی نوعیت کے حوالے سے متضاد باتیں سامنے آئی ہیں۔

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ ذمہ داران کا تعیّن کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف فوری ریلیف اور معاوضہ دیا جائے بلکہ ان کی بحالی کے لیے بھی جامع اقدامات کیے جائیں۔ ایکس پر اپنے پیغام میں اُن کا کہنا تھا کہ یہ المیہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں اور اس سب کے نتائج مستقبل میں کیا ہوں گے۔ سپیکر صوبائی اسمبلی نے اس معاملے پر خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس کے ٹی او آرز جلد ہی جاری کیے جائیں گے۔

اسی معاملے پر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی سہیل آفریدی نے پشتو زبان میں آفریدی قوم سے خطاب کیا اور کہا کہ ’آفریدی قوم اپنے حقوق کے لیے متحد ہو جائے اور جمعے کے روز عوامی پاسون ہو گا اور اس میں تمام قبائل اور عمائدین شریک ہوں گے۔‘