امریکی صدر سے مسلم ممالک کے سربراہان کی ملاقات، شہباز شریف بھی شریک
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مسلم ممالک کے سربراہوں کی ملاقات ہوئی جس میں غزہ سمیت مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات میرے لئے اعزاز ہے، آپ سب نے بہترین کام کیا جو قابل تعریف ہے۔ میری آج یہ انتہائی اہم ملاقات ہے، آج 32اجلاس ہوئے جس میں سب سے اہم یہ اجلاس ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم مسائل کے حل کیلئے مل کر محنت کریں گے، آج کی ملاقات غزہ کی جنگ کا حل تلاش کرنے کیلئے اہم ہے۔ چاہتے ہیں اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لایا جائے۔ امیر قطر نے امریکی صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں غزہ میں جنگ ختم ہو جائے، غزہ میں صورتحال انتہائی خراب ہو گئی ہے۔ چاہتے ہیں اجلاس میں غزہ جنگ کا مسئلہ حل ہو جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، امارات،اردن کے سربراہان موجود تھے۔امریکی صدر اور مسلم رہنماؤں کی ملاقات کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آسکیں تاہم ملاقات کے بعد رہنما ہال سے باہر نکلے تو بات کیے بغیر ہی روانہ ہوگئے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر اور مسلم رہنماؤں کے سربراہان کی ملاقات کے حوالے سے امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا امریکا چاہتا ہے کہ عرب اور مسلمان ممالک غزہ میں فوجیں بھیجیں تاکہ اسرائیل انخلا کرسکے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکا یہ بھی چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک فلسطین میں اقتدار کی منتقلی کے عمل اور بحالی کے کاموں کے لئے رقوم بھی دیں۔
منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران سائیڈ لائن پر ہونے والے اس اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارت، قطر، مصر، ترکی، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان شریک تھے جس کے میزبان امریکہ اور قطر تھے۔ اس اجلاس کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا جس سے یہ علم ہو سکے کہ اس اجلاس میں کیا بات چیت ہوئی اور اسلامی ممالک کے سربراہان نے غزہ یا دیگر امور پر کیا موقف پیش کیا۔
تاہم امریکی صدر کے بیان کے مطابق انہوں نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی سے متعلق منتخب اسلامی ممالک کے سربراہان سے کہا کہ ’اس گروپ سے بہتر کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا ہے۔‘
امریکی صدر کی پاکستانی وزیر اعظم سمیت اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کو اہم قرار دیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اسلامی ممالک کے سربراہان پر مشتمل اس اجلاس میں پاکستان کی شمولیت مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک اہم دفاعی معاہدے کی باز گشت اب تک جاری ہے۔