یواین کا عالمی کردار اور ٹرمپ کی بڑھکیں
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 24 / ستمبر / 2025
آج موضوعات کی اس قدر بھرمار ہے سمجھ نہیں آرہی کہ کس پر قلم اٹھایا جائے اور کسے نظرانداز کردیاجائے۔ درویش کی ہمیشہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ صرف انہی ایشوز کو اُٹھایا جائے جہاں کوئی کجی یا ٹیڑھ ہو۔
اور جہاں ہمارا میڈیا حالات و واقعات کی یک رخی تصویر پیش کررہا ہو تو وہاں لازماً تصویر کا دوسرا رُخ واضح کیاجانا چاہیے، جس کی بنیاد ہیومن انٹرسٹ ہو۔ لیکن اگر ہمارا سوادِاعظم درست سمت میں جارہا ہو تو وہاں اپنی ڈیڑھ مرلہ کی الگ مسجد بنانا یا محض ثوابِ دارین کے لیے واضح حقائق کی جگالی کرتے جانا نہ صرف اپنے بلکہ عامۃ الناس کے اوقات کا ضیاع محسوس ہوتا ہے۔
آج ارادہ تو پاک سعودیہ دفاعی معاہدے کے ثمرات پر بحث کرنے اور ان کا تنقیدی جائزہ لینے کا تھا۔ بالخصوص اس لیے کہ ہمارا میڈیا اس کی محض یک رُخی جذباتی تصویر کشی کررہا ہے۔ بہت سے سوالات و حقائق ہیں جن پر نہ کسی کا دھیان جارہا ہے اور نہ انہیں کوئی زیرِبحث لارہا ہے۔ بلکہ اپنے عامۃ المسلمین کو بیوقوف بنانے کے لیے کسی اسلامی نیٹو کے ظہور کی کہانیاں گھڑی جارہی ہیں۔ یہ سراب چونکہ ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی مفاد میں جاتا ہے، لہٰذا اس نوع کا سودا خوب بیچا اور خریدا جارہا ہے۔
بلاشبہ سعودی عرب سے ہم سب بھرپور محبت رکھتے ہیں۔ حجازی ارض مقدس بلدالامین ہو یا اسرائیلی و کنعانی ارض مقدس یروشلم ہو، ان کی محبتیں ناچیز کے خون میں موجزن ہیں۔ اور پھر سعودیہ کے موجودہ حکمران کراؤن پرنس عزت مآب محمد بن سلمان تو ایک کرشماتی شخصیت ہیں جو اپنے ملک کی قدامت پسندی کو جدت و ترقی میں بدلنے کے لیے انقلابی اقدامات اٹھارہے ہیں۔ یہ درویش روزِ اول سے اس کی ہمنوائی و پیش بندی میں پیہم آواز اٹھاتے چلے آرہا ہے۔ کنگڈم آف سعودیہ عریبیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والی دفاعی ڈیل یا معاہدے پر بحث کسی الگ آرٹیکل کی متقاضی ہے۔
آج کا موضوع یو این جنرل اسمبلی میں ہونے والی رنگارنگی عالمی بحثوں بالخصوص انوکھے امریکی پریذیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ کے پریشان کن یا حیران کن خطاب کا جائزہ ہونا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ کیا واقعی کوئی فلسطینی ریاست خطۂ کنعان میں بالفعل بننے جارہی ہے جس طرح یہ شور ہے کہ انگلینڈ، فرانس اورجرمنی جیسے طاقتور یورپی ممالک ہی نہیں کینیڈا آسٹریلیا اور پرتگال جیسے ممالک بھی فلسطینی ریاست قائم کرنے کے حق میں بیانات دے رہے ہیں۔ اگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو خطۂ کنعان میں الگ فلسطینی ریاست کے قیام کا دنیا میں مخالف کوئی بھی نہیں ہے، امریکا و اسرائیل بھی نہیں کیونکہ یہ امریکا ہی تھا جس نے اس حوالے سے اسرائیل کو قائل کرتے ہوئے پی ایل او سے مذاکرات ہی نہیں باضابطہ معاہدے بھی کروائے تھے۔
یاسرعرفات اور ابوماذن محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کا قیام درحقیقت الگ فلسطینی ریاست کی طرف ٹھوس عملی پیش رفت تھی۔ شرط محض یہ تھی کہ آپ لوگ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی سلامتی پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ یہ اسی مذاکراتی پراسس کا ثمر تھا جس نے 2005 میں اسرائیلی پرائم منسٹر شیرون کو مجبور کیا، امریکا نے چالیس برس سے قائم اس کا قبضہ ختم کرواتے ہوئے اسے فلسطینی اتھارٹی کو سونپ دیا تھا۔ حتیٰ کہ لاکھوں یہود روتے ہوئے اپنی مضبوط قلعہ نما رہائش گاہیں چھوڑتے ہوئے یہاں سے امریکی دباؤ پر نکلے۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ 1967 سے قبل بھی یہ خطہ کسی فلسطینی اتھارٹی کے پاس نہیں تھا بلکہ جمہوریہ مصر کی راجدھانی کا حصہ تھا۔
ہمارے میڈیا میں ناروا طور پر یہ پروپیگنڈا ہے کہ جیسے یہود ونصاریٰ نے ہم مسلمانوں کے خلاف کسی نوع کا کوئی نفرت بھرا ایکا کر رکھا ہے۔ اَلکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ جیسے سلوگن بلند کرتے ہوئے اس نوع کا شدید استدلال کیاجاتا ہے کہ وہ سب اکٹھے ہوکر بیچارے فلسطینی مسلمانوں کو مروارہے ہیں۔ اور ان کی الگ فلسطینی ریاست بننے نہیں دے رہے۔ ہمارے ان بھولے سادہ لوح احباب پر واضح ہوناچاہیے کہ اصولی و عملی طور پر الگ فلسطینی ریاست کا قیام ٍ1948 میں اسی وقت کردیا گیا تھا جب اسرائیلی ریاست کا قیام وقوع پذیر ہوا۔ اور اسی برطانیہ نے کیا جس نے اسرائیل اور پاکستان بنوایا۔ لیکن وہ کیا عوامل تھے جن کے کارن تب خود عربوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یکبارگی نوزائیدہ اسرائیل پر یلغار کردی؟ اور پھر 1993 میں امریکی مہربانی سےاوسلو معاہدہ کراتے ہوئے دوبارہ الگ فلسطینی ریاست کی طرف پیش رفت ہوئی تو اسے دوبارہ سبوتاژ کرنے والے کون سے عناصر تھے؟
اگر ہم اس کی تفصیل میں جائیں گے تو اقوامِ متحدہ میں ہونے والی دلچسپ تقاریر بالخصوص پریذیڈنٹ ٹرمپ کے لایعنی خطاب کا محاکمہ نہیں کرسکیں گے۔ جو یواین میں کھڑے ہوکر اپنے مخالفین ہی کو نہیں پوری دنیا کو دھمکا رہے تھے۔ اور حد ہے کہ ان کا اپناٹیلی پرامپٹر تو خراب ہوا یا جو بھی کہانی تھی، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے والے دیگر عالمی لیڈران کی تقاریر پر مائیک کیوں بند کیاجاتا رہا؟ امریکا تو دنیا بھر میں آزادئ اظہار کا سب سے بڑا پرچارک و علمبردار ہے تو پھر مخالفانہ آوازوں پر یہ سلوک کرتے ہوئے آپ اقوامِ عالم اور ان پر مسلط استبدادی قوتوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا امریکی پریذیڈنٹ اتنا چھوٹا پن بھی دکھاسکتا ہے کہ وہ یو این جنرل اسمبلی میں کھڑے اپنے تئیں دل کی باتیں کرتے ہوئے لندن کے منتخب میئر پر چڑھائی کردے۔ یہ کہتے ہوئے کہ صادق خاں لندن جیسے خوبصورت تہذیبی شہر کو برباد کررہے ہیں۔ وہ لندن میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اسے امیگرینٹس کے کنٹرول میں دے چکے ہیں اور میں آئندہ وہاں نہیں جاؤں گا۔ ماقبل اسی نو کے الفاظ انہوں نے نیویارک میں میئرشپ کے ایشیائی نژاد امیدوار کے متعلق بھی کہنے شروع کردیے تھے۔
ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ یورپی ممالک غیر قانونی تارکین وطن کے لیے سرحدیں کھول کر اپنے ممالک کو جہنم بنارہے ہیں۔ یونان، جرمنی، سوئٹزرلینڈ اور دیگر یورپی ممالک کی جیلوں میں جرائم پیشہ غیر قانونی امیگریشن سے پہنچے ہوئے قیدی ہیں۔ یو این کا ادارہ غیر قانونی تارکین وطن کا سرپرست بن چکا ہے۔ یہ مہاجرین کو بسانے کے نام پر مغربی ممالک پر ان لوگوں کی یلغار کروارہا ہے۔ جبکہ اس ادارے کا اصل مقصد دنیا میں امن کا قیام تھا۔
پریذیڈنٹ ٹرمپ نے یو این پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں نے امریکی پریذیڈنٹ کی حیثیت سے قیامِ امن کے لیے زیادہ کام کیا ہے۔ پاکستان اور انڈیا میں فائربندی سے لے کر انہوں نے سات ممالک کے نام گنوائے، جہاں ٹرمپ کے بقول انہوں نے جنگ بندی کروائی، لیکن جس بڑے عالمی ادارے کا یہ کام تھا یعنی اقوامِ متحدہ اس نے اس سلسلے میں میرے ساتھ ذرا بھی تعاون نہیں کیا، یہ ایک ناکام و ناکارہ ادارہ ہے۔ چائنا اور انڈیا رشین ایندھن خریدتے ہوئے یوکرین میں ہزاروں بے گناہوں کی اموات کے ذمہ دار ہیں، سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی امریکی پریذیڈنٹ کو اس نوع کی زبان یا الزام تراشی زیب دیتی ہے؟ البتہ ان کی ایک بات دلچسپ تھی کہ موجودہ حالات میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا حماس کے لیے تحفہ یا انعام ہوگا۔ امیر قطر نے خوبصورت بات کہی کہ مذاکرات پر بلاکر مخالفین کو قتل کرنا اسرائیل کی پالیسی ہے۔ ہم یہاں یو این میں غزہ جنگ رکوانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو چھڑوانے کے لیے آئے ہیں۔
اٹلی کے پرائم منسٹر نے کہا کہ حماس کی حکومت سے علیحدگی تک ہم کسی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کریں گے حالانکہ ان پر اپنے ملک میں اس حوالے سے خاصا دباؤ ہے۔ ابھی پچھلے روز میلان میں فلسطینی ریاست کے لیے خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں 60کے قریب اٹیلین پولیس والے زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی رہنمائی میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں میں اب تک جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں حماس نے 7اکتوبر کے اقدام سے ان سب کا تیاپانچہ کرڈالا ہے۔ اس تلخ تجربےکے بعد درویش کو نہیں دکھتا کہ وہ امریکی و اسرائیلی اعتماد کبھی دوبارہ بحال ہوسکے گا۔ نتیجتاً ایسی کوئی ریاست اب بالفعل کبھی بن سکے گی۔ اس سلسلے میں یواین جنرل اسمبلی میں ترک پریذیڈنٹ اردوان اور اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کی تقاریر میں ہونے والی نوک جھونک اور چھیڑ چھاڑ کی تفصیلات ملاحظہ کی جاسکتی ہیں جو خاصی دلچسپ ہیں۔
کئی روز سے بہت شور تھا کہ یون این جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران چھ عرب مسلم حکمرانوں کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ خصوصی ملاقات ہونے جارہی ہے۔ امید کی جارہی تھی کہ یہ بااثر حکمران امریکی پریذیڈنٹ کو غزہ جنگ بندی پر قائل کرلیں گے۔ لیکن مسئلہ وہی جب تک کتا کنویں سے نہ نکلے، کنواں پاک کیسے ہوگا؟ جب تک حماس تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہیں کرتا، یہ جنگ بندی بھی التوا کا شکار رہے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ تمام بااثر عرب مسلم حکمران باہم مل کر حماس کو کیوں لگام نہیں ڈال سکتے؟ چکی کے ان دو پاٹوں میں بے بس فلسطینی عوام گہیوں کی طرح پسے جارہے ہیں۔ حماس ایسا کون سا منہ زور گھوڑا ہے جسے قابو نہیں کیاجاسکتا۔ اگر بیس اسرائیلی یرغمالی زندہ ہیں اور اٹھائیس یا اڑتیس کے قریب حماس کی ذمہ داری و نگرانی میں مارے جا چکے ہیں پھر بھی ان اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں حماس والے اپنے پاس کس خوشی میں رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ انسانیت سے گری ہوئی گھناؤنی حرکت نہیں ہے؟ اس خالصتاً انسانی ایشو کو ہمارے میڈیا میں کیوں ہائی لائٹ نہیں کیاجاتا۔
ہمارا “بلند پرواز” غزہ ایشو پر بڑی بڑی چھوڑتا تھا کہ نہ جانے پریذیڈنٹ ٹرمپ کو مل کرکیا کہے گا۔ روایتی خوشامدی نے تو خوشامد کی حد کردی، ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، ٹرمپ جی آپ سے بڑا امن کا علمبردار تو دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں، آپ امن کے داعی اور پرچارک ہیں، دنیا بھر میں جنگیں ختم کروا رہے ہیں۔ آپ نے انڈیا سے ہماری جنگ بندی کرواکر احسان عظیم کیا ہے۔ کیا کہنے پاکستانی پرائم منسٹر کے، ہماری دعا ہے کہ کسی بھی طرح اب غزہ کی جنگ اختتام پذیر ہو جائے۔ تاکہ فلسطینی عوام حماس اور اسرائیل کی چپقلس اور دکھوں سے نکل کر نارمل لائف میں لوٹ سکیں۔