شہباز ٹرمپ ملاقات اور غزہ میں امن کا امکان
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 24 / ستمبر / 2025
اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند مسلمان ممالک کے لیڈروں سے ملاقات کی ہے۔ ان میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شامل تھے۔ اس ملاقات کا اہتمام امریکہ اور قطر نے مشترکہ طور پر کیا تھا اور اس میں پاکستان کے علاوہ ترکی، سعودی عرب، انڈونیشیا ، مصر اور متحدہ عرب امارات کے لیڈر شریک ہوئے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شدت کی خبریں مسلسل سامنے آرہی ہیں اور بظاہر اس جنگ کے بند ہونے کے آثار نہیں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران خود مختار فلسطینی ریاست کے امکان کو مسترد کیا ۔اور اپنے حلیف ممالک کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے معاملہ پر ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ حماس کو انعام دینے کے مترادف ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے 20اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی یقینی بنانا ضروری ہے۔ اصولی طور سے کوئی بھی اس مطالبے سے انکار نہیں کرتا۔ گزشتہ چند روز میں جن یورپی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، وہ سب بھی تمام یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی ہی کی بات کرتے ہیں۔ البتہ اسرائیل کی پالیسی غیر واضح رہی ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ مستقبل کے غزہ میں حماس کا کوئی وجود نہ ہو اور نہ ہی اس تنظیم کا سیاسی یا انتظامی امور میں کوئی عمل دخل ہو۔
اس پس منظر میں اہم مسلمان ممالک کے لیڈروں سے امریکی صدر کی گھنٹہ بھر طویل ملاقات اور اس میں ترکی اور اہم عرب ملکوں کے علاوہ پاکستان کی شرکت دو پہلوؤں سے پاکستان کے کردار کو واضح کررہی ہے۔ ایک تو پاکستان کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں اہم فریق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ خاص طور سے حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں پاکستان کی اہمیت نمایاں ہوئی ہے۔ البتہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستانی حکومت اس حوالے سے کیا پیشکش کررہی ہے۔ ایسی ملاقاتوں میں طے کیے گئے بعض امور کو پاکستانی عوام سے منظور کرانا شاید آسان مرحلہ نہیں ہوگا۔
تاہم اس کے ساتھ ہی اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس اجلاس میں شامل تھے اور انہیں اس معاملہ میں پاکستانی حکومت کا مؤقف پیش کرنے کا موقع ضرور ملا ہوگا۔ اجلاس میں پاکستانی لیڈروں کی شرکت سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی منظر نامہ میں پاکستان کی سفارتی اہمیت و ضرورت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔ خاص طور سے یہ ملاقات شروع ہونے سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مختصر ملاقات کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے ، اس میں پاکستانی وزیر اعظم بھرپور اعتماد سے بات کررہے ہیں اور امریکی صدر توجہ سے ان کی باتیں سن رہے ہیں۔ اس سے پاکستان کی اہمیت و ضرورت واضح ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس سے پاکستانی حکومت پر متوازن حکمت عملی اختیار کرنے اور غزہ کے حوالے سے انصاف پر مبنی کسی منصوبے میں شریک ہونے کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ ملاقات عرب ملکوں کے علاوہ امریکہ کے ساتھ پاکستان کی قربت اور مواصلت کے حوالے سے بھی اہم کہی جاسکتی ہے۔
مسلمان ممالک کے لیڈروں کے ساتھ ٹرمپ کی ملاقات کے بارے میں کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی لیکن ترکی کے صدر اردوان نے اس ملاقات کے نتیجے میں غزہ جنگ بندی کی امید ظاہر کرتے ہوئے اسے’ بہت مثبت بات چیت‘ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی کے مماثل قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ اس ظلم کو اب بند ہونا چاہئے۔ بعد میں صدر ٹرمپ نے بھی اس ملاقات کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے کہ ’ہم ایسی چیز بند کرارہے ہیں جسے ہم نے شروع نہیں کیا تھا‘۔ خبروں کے مطابق امریکی صدر نے مسلمان ملکوں کے لیڈروں کے ساتھ ملاقات میں غزہ سے اسرائیلی فوجوں کے انخلا کے بعدوہاں کا انتظام سنبھالنے کے معاملہ پرتبادلہ خیال کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ غزہ میں مسلمان ممالک کی فوج تعینات کی جائے اور عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو کے منصوبہ کے لیے وسائل فراہم کریں۔ ایسے اجلاس میں پاکستانی قیادت کی شرکت، اس معاملہ میں پاکستان کی اہمیت کا دوسرا پہلو سامنے لاتی ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کا یہ منصوبہ اس عرب پلان کے مطابق ہے جو اس سال کے شروع میں غزہ کے مستقبل کے بارے میں مصر نے پیش کیا تھا اور جس پر عرب ممالک میں وسیع تر اتفاق رائے بھی موجود تھا۔ عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو پر کثیر سرمایہ فراہم کرنے پر راضی تھے لیکن غالباً اس وقت اس نکتے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا کہ اسرائیلی فوجوں کے انخلا کے بعد غزہ کا انتظام کون سنبھالے گا۔ یہ عرب منصوبہ درحقیقت صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا تھا جس کے تحت امریکہ نے غزہ پر قبضہ کرنے اور وہاں کے باشندوں کو اس علاقے سے نکالنے کی تجویز دی گئی تھی۔ عرب ممالک غزہ میں آباد فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے خلاف تھے۔ تاہم متبادل تجاویز میں غزہ میں سکیورٹی و انتظامی امور دیکھنے کے معاملہ پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ اقوام متحدہ میں ٹرمپ و مسلمان لیڈروں کی ملاقات میں اسی اہم نکتہ پر بات کی گئی ہے۔ بظاہر اس کی عملی تفصیلات پر تو اتفاق رائے نہیں ہؤا اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ کون سی تجاویز زیر غور ہیں لیکن امریکہ اور اسرائیل نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے مستقبل میں حماس کا کوئی کردار قبول نہیں کیا جائے گا۔ اب بھی یہی سوال ہے کہ کیا مسلمان ممالک کوئی ایسا سکیورٹی پلان پیش کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس میں حماس کو غیر مسلح کرکے اس کے لیڈروں کو نیوٹرلائز کردیا جائے؟
قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اس موقع پر پاکستان کی موجودگی ، پاکستانی افواج کی مسلمہ پروفیشنل شہرت اور متعدد عالمی تنازعات میں امن فوج کے طور پر اس کے کردار کی وجہ سے پاکستانی فوج کو اس عبوری فورس میں شامل کیا جائے گا جو اسرائیلی فوجوں کے انخلا کے بعد غزہ کا انتظام سنبھالے گی ۔اور اس وقت تک وہاں تعینات رہے گی جب تک فلسطینی اتھارٹی کی نگرانی میں کوئی قابل عمل انتظام تلاش نہ کرلیا جائے۔ یا غزہ کے شہریوں کو اس انتظام میں شامل کرنے کا کوئی منصوبہ نہ بنا لیا جائے۔ غزہ میں پاکستانی فوجی دستوں کی تعیناتی کے حوالے سے کوئی بھی پیش رفت اگرچہ ایک طرف عرب و مغربی ممالک کی طرف سے یکساں طور سے پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہوگی لیکن اس کے ساتھ ہی اس حوالے سے کسی فیصلے کو پاکستان میں سیاسی و مذہبی وجوہات کی بنیاد پر شدید مخالفت کا سامنا بھی ہوگا۔ تحریک انصاف اور مذہبی جماعتیں ایسے کسی انتظام کے نتیجے میں حکومت پر ’غزہ کے باشندوں کو فروخت‘ کرنے کا الزام عائد کرسکتی ہیں۔ اس لیے مناسب ہوگا کہ اگر ایسی کوئی تجاویز زیر غور ہیں جن کے تحت مشرق وسطیٰ یا فلسطین میں پاکستانی فوجی دستوں کی عملی شرکت ممکن ہو تو اس کی تفصیلات ابھی سے عام کی جائیں اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد ہی ایسا کوئی معاہدہ کیا جائے۔ ورنہ عالمی سطح پر سرخروئی حاصل کرنے کی خواہاں حکومت کو داخلی محاذ پر شدید مشکل صورت حال کا سامنا ہوگا۔
امریکہ بظاہر اسرائیل کی حمایت سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ کے حلیف ملکوں میں غزہ جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی بے چینی کو مسلسل نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے صدر ٹرمپ کی اس بات میں وزن ہے کہ امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے متعدد آپشنز پر غور کررہا ہے۔ یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ تو مناسب ضمانتوں کے بعد پورا ہوسکتا ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کا سوال پیچیدہ اور مشکل ہوگا۔ البتہ اگر عرب ممالک وسیع تر یک جہتی کا مظاہرہ کریں اور فلسطینی عوام کے محفوظ و پر امن مستقبل کو پیش نظر رکھا جائے تو دریں حالات حماس کو منظر نامہ سے ہٹانے سے ہی امن کے لیے پیش رفت ممکن ہوگی۔
امریکی صدر ایک طرف اپنے حلیف ممالک برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا کی طرف سے فلسطین کو تسلیم کرنے کے سوال پر ناراض دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف ان قریب ترین ممالک کی رائے عامہ اس وقت اسرائیلی جارحیت کے شدید خلاف ہے جسے کوئی بھی امریکی لیڈر نظر انداز نہیں کرسکتا۔ اسی پس منظر میں فرانس کے صدر میکرون نے گزشتہ روز ایک اجلاس کے بعد کہا تھا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو بند کراسکتے ہیں کیوں کہ امریکہ ، اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرتا ہے جو غزہ میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر ٹرمپ واقعی امن کا نوبل انعام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غزہ میں جنگ بند کرانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا‘۔
صدر ٹرمپ نے بار بار غزہ میں جنگ بند کرانے کی بات کی ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ اس جنگ بندی سے امن کے خواہاں لیڈر کے طور پر ان کی شہرت مسلمہ ہوجائے گی ۔ تاہم انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے اہم مسلمان ممالک کا تعاون درکار ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خبر خوش آئیند ہے کہ اسے ان اہم ممالک میں شامل سمجھا جارہا ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن اور فلسطین کا مسئلہ حل کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔