’گفتگو‘: پردیس کی نفسیات کا آئینہ

جناب سید مجاہد علی کی تصنیف گفتگو پر چند الفاظ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ یہ کام یقیناً بڑے بڑے اہلِ قلم اور نقادوں کے شایانِ شان ہے۔ مگر میں نے سوچا کہ ایک عام قاری ہونے کے ناتے اپنے تاثرات کو الفاظ کا روپ دوں۔

میری یہ جرات کسی علمی دعوے کا نتیجہ نہیں بلکہ صرف اس محبت اور عقیدت کی دین ہے جو تقریباََ پانچ دہائیوں سے مصنف کی ذات ، گھرانے اور ان کی تحریروں سے وابستہ ہے۔ سید مجاہد علی ناروے میں سکونت اختیار کرنے والے کہنہ مشق صحافی اور اہلِ قلم ہیں جو کئی دہائیوں سے صحافت اور ادبی دنیا میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے "کاروان" کو معتبر پلیٹ فارم بنایا اور علامتی اداریہ نگاری کے ذریعے قارئین کو نہ صرف حالاتِ حاضرہ کی جھلک دکھائی بلکہ سماجی، فکری اور تہذیبی مسائل پر بھی روشنی ڈالی۔

سید مجاہد علی کی تصنیف گفتگو محض ایک کتاب نہیں بلکہ ہجرت کے دکھوں اور تارکینِ وطن کی نفسیات کی حقیقی عکاس ہے۔ مصنف نے "کاروان" میں شائع ہونے والے اپنے اداریوں کو یکجا کر کے ایک ایسی دستاویز مرتب کی ہے جو نہ صرف ان کی فکری بصیرت کی گواہی دیتی ہے بلکہ آنے والے وقت کے لیے تاریخ کا حوالہ بھی بن گئی ہے۔

زندگی اکثر ایسے لمحات میں بیتتی ہے جہاں ہم اپنے عمل کے کوئی ٹھوس نشانات پیچھے چھوڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کوئی عمارت تعمیر نہیں کی، نہ پل باندھا، نہ ادارہ قائم کیا اور نہ ہی کوئی کتاب تصنیف کی۔ لیکن جب میرے سامنے گفتگو جیسی کتاب آتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے میری پوشیدہ خواہش کو کسی اور نے حقیقت کا لباس عطا کر دیا ہو۔ سید مجاہد علی اور ان کی شریکِ حیات یاسمین بھابھی نے یہ عظیم کارنامہ انجام دے کر اپنی زندگی کے مقصد کو نہ صرف پورا کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری ورثہ بھی چھوڑا۔

گفتگو دراصل وہ اداریے ہیں جو "کاروان" میں ایک عرصے تک قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے رہے۔ ان تحریروں کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ محض صحافتی کالم نہیں بلکہ ایک پوری نفسیاتی و سماجی دستاویز ہیں۔ میں نے یہ مضامین اس وقت بھی پڑھے تھے مگر ان کی گہرائی کا ادراک نہ کر سکا۔ اب جب یہ یکجا ہو کر کتابی صورت میں میرے سامنے آئے تو ان کی معنویت دوچند ہو گئی۔

اس کتاب میں ہجرت کے کرب کو جس سلیقے سے بیان کیا گیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ہجرت کا دکھ، بیگانگی کی تکلیف، اجنبیت کا بوجھ اور اجرت کے عوض کھوئی ہوئی جوانی کا نوحہ — یہ سب پہلو نہایت دل آویز اسلوب میں بیان ہوئے ہیں۔ مصنف نے کہیں شعوری طور پر، کہیں لاشعوری طور پر، اور کہیں مجبوری یا مسرت کے ساتھ وہ سب کہا ہے جو اکثر دلوں میں دب جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہجرت کرنے والے لاکھوں افراد نے یہ درد سہا، مگر اس کو اس طرح الفاظ کی صورت دینا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔

کتاب کا ایک ایک اقتباس قاری کو چونکاتا اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ جملے:

’ہمارا اُفق ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ ہم نے نئے اُفق تلاش کرنے کی سعی کی۔ نئے اُفق نے جانا ہم جڑوں سے اکھڑے ہوئے لوگ ، بھوک اور احتیاج کے مارے انسان ہیں۔ اور فیصلہ صادر کیا: بھوکے کو روٹی مل جائے تو اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ اس نے ہماری جوانی کی شادابی لوٹی، ہماری توانائیوں سے اپنی صنعت کے پہیے کو دھکہ لگوایا اور ہماری مجبوریوں کی بنا پر معاشرے کے ایک مخصوص طبقے میں ہمارا شمار کیا‘۔

’اُفق ہماری نظروں سے اوجھل‘ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ہجرت کے ہر مسافر کا دل گرفتہ اعتراف ہے۔ اسی طرح کیا خوب بیان کیا ہے کہ: ’جب پہلی بار برف پر میرا پاؤں پھسلا تو میں نے زور کا قہقہہ لگایا مگر ماحول کے سکوت میں میرا تنہا قہقہہ گھبرائے ہوئے پرندے کی مانند پھڑ پھڑا کر رہ گیا۔ پھر میں پھسلتا رہا اور میرے قہقہے قہقہے لگانے کی صلاحیت دم توڑتی رہی‘۔ یہ اقتباس صرف جسمانی کیفیت نہیں بلکہ پورے تارکینِ وطن کی نفسیات کی عکاسی کرتا ہے۔

یوں گفتگو محض ایک کتاب نہیں بلکہ تاریخ کا وہ حوالہ ہے جو آنے والے وقتوں میں ہجرت کے دکھ اور اس کے اثرات کو سمجھنے کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا۔ یہ کتاب ہجرت کرنے والوں کی اجتماعی یادداشت ہے، ایک ایسی یادداشت جو وقت کے دھندلکوں میں کھو جانے سے بچ گئی۔ یہ کتاب ادب اور تاریخ دونوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوگی۔

گفتگو میں ہجرت کے کرب، بیگانگی کی اذیت اور اجرت کے عوض قربان کی جانے والی جوانی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ قاری ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ مصنف نے دکھ کو محض بیان نہیں کیا بلکہ اسے ایک اجتماعی تجربے میں ڈھال کر ہر تارکِ وطن کے دل کی آواز بنا دیا ہے۔ یہ کتاب محض صحافتی اداریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ادبی اور فکری سفر ہے جس میں ہجرت کے مسائل، پردیس کی تنہائی اور نئے سماج کے تقاضوں کو نہایت دل آویز انداز میں سمیٹا گیا ہے۔

گفتگو دراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہر وہ شخص اپنی جھلک دیکھ سکتا ہے جس نے ہجرت کے کرب کو قریب سے محسوس کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف تارکینِ وطن کی کہانی ہے بلکہ ان سب کے لیے بھی سبق آموز ہے جو زندگی کے سفر میں اجنبیت، قربانی اور جدو جہد کے مرحلوں سے گزرے ہیں۔ قاری جب اس کتاب کو پڑھے گا تو محسوس کرے گا کہ یہ محض ایک فرد کا بیانیہ نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی مشترکہ صدا ہے۔

ذاتی طور پر، مجھے یہ کتاب پڑھ کر یہ احساس ہوا کہ ہر درد کے پیچھے ایک مضبوط حوصلہ چھپا ہوتا ہے— اور ہر کامیابی کے پیچھے گہرا درد۔ شاید یہی سبق ہمیں زندگی میں آگے بڑھنے اور نئے افق تلاش کرنے کی تحریک دیتا ہے۔