ایرانی صدر کا بیان اور وسیع تر علاقائی افہام و تفہیم کے آثار
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 25 / ستمبر / 2025
ایران کے صدر مسعود پرشکیان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرتے ہوئے حال ہی میں طے پانے والے پاک سعودی دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور اسے ’خطے میں ایک مفصل سکیورٹی نظام اور مسلمان ممالک کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کی ابتدا قرار دیا‘۔ اس بیان کے بعد پاکستان میں مبصرین وسیع تر اسلامی اتحاد کے بارے میں قیاس آرائیاں کررہے ہیں۔
اس میں تو شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایرانی صدر کی طرف سے پاک سعودی معاہدے پر اطمینان کا اظہار اس خطے میں بڑھتے ہوئے اشتراک عمل کا اشارہ ہے لیکن یہ تعاون کسی مذہبی نظریاتی ضرورتوں کی بجائے رونما ہونے والے حالات کی وجہ سے ضروری ہوگیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی طرح متعدد دوسرے ممالک بھی ایسے خطرات سے بچاؤ کے بارے میں غور کررہے ہیں جو ان سب کو لاحق ہیں اور جن سے بچاؤ کے لیے تیار کیے گئے میکنزم اب ناکارہ ثابت ہورہے ہیں۔
اسی طرح اس بات میں بھی کوئی شبہ باقی نہیں رہا کہ مشرق وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک اسرائیل ہی ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس خطرناک اسلحہ موجود ہے، اس نے حال ہی میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم بھی ظاہر کیے ہیں اور وہ دور و نزدیک کسی بھی ہمسایہ ملک پر حملہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ اس حوالے سے خاص طور جون کے دوران ایران پر اسرائیلی حملہ اور اب حال ہی میں حماس کی تلاش میں دوحہ پر اسرائیلی بمباری کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ ایران پر حملہ کی حد تک شاید بیشتر عرب ممالک مطمئن تھے کہ جوہری صلاحیت کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ ایران کے طویل مدت سے اختلافات چلے آرہے تھے۔ اس کے علاوہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنے پراکسی عسکری گروہوں کے ذریعے اسرائیل کو براہ راست اندیشوں میں مبتلا کیا تھا لیکن قطر پر حملہ کا کوئی جواز ابھی تک تلاش نہیں کیا جاسکا۔
اسرائیل اس حملہ کے بارے میں جو بھی دلیل دے لیکن یہ ایک ایسے ملک کے خلاف حملہ تھا جو امریکہ کا قریب ترین حلیف ہے اور جس نے غزہ میں جنگ بند کرانے اور اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے حماس کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے عذر پر قطر کی سرزمین پر ایسے لوگوں کو مارنے کی کوشش کی جو سفارتی و سیاسی طریقوں سے بات چیت کے ذریعے غزہ کا مسئلہ حل کرنے میں تعاون کررہے تھے۔ اس حملہ نے درحقیقت بے یقینی کی فضا پیدا کی اور امریکہ کی ضمانتوں پر خود کو محفوظ سمجھنے والے عرب ممالک خود کو بے سہارا اور کمزور سمجھنے لگے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدہ اسی بے چینی سے پیدا ہونے والے حالات میں طے ہؤا ہے۔ اسی لیے امریکی حکومت نے ا س پر کسی سخت رد عمل کا اظہار بھی نہیں کیا۔
اب ایرانی صدر کی طرف سے اس معاہدے کے خیر مقدم سے یہ قیاس کرلینا درست نہیں ہوگا کہ سب ملکوں کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں اور ایران سمیت تمام ممالک مشترکہ دفاع کا انتظام کرکے اسرائیل کو متنبہ کرنے کا اہتمام کرنے لگے ہیں۔ واضح ہونا چاہئے کہ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں سے اسرائیل و امریکہ کے خلاف جارحانہ پالیسی اختیار کیے رکھی ہے۔ حالیہ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے جب حزب اللہ سمیت ایرانی پراکسی گروہوں کو بے دست و پا کردیا اور ایران پر براہ راست حملے کرکے واضح کردیا کہ اپنی سکیورٹی کے نام پر وہ کسی بھی وقت کہیں بھی حملہ آور ہوسکتا ہے اور امریکہ ا س کی پشت پر ہوگا، تب ہی ایرانی لیڈروں نے جارحیت کی بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے کے اشارے دینے شروع کیے ہیں۔ مسعود پرشکیان کی طرف سے پاک سعودی معاہدے کےخیر مقدمی بیان کوبھی اسی تناظر میں پرکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے نزدیک ایران بدستور ناقابل یقین اور ایک ’بدمعاش‘ ریاست ہے جو کسی بھی انتہا پسند گروہ کی پشت پناہی کرسکتی ہے۔ ان حالات میں ایران کے لیے علاقے میں اپنے لیے ہمدردیاں حاصل کرنا ضروری تھا۔ ایران اگر اس معاہدے کی مخالفت کرتا تو یک بیک اس کا شمار ایسی ریاست میں کیا جاتا جو ہر قیمت پر تشدد بڑھانے اور جارحیت کو فروغ دینے کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ ایرانی مؤقف خوش آئیند ہے لیکن غیر متوقع نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ یہ آثار موجود ہیں کہ پاکستان نے اس معاہدے سے پہلے تہران کو اعتماد میں لے لیا تھا اور ایرانی حکام پر واضح کردیاگیا تھا کہ پاک سعودی معاہدہ نہ تو جارحانہ ہے اور نہ ہی یہ اتحاد ایرانی مفادات کے خلاف کام کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ بلکہ اس کا مقصد بے یقینی کی صورت حال میں اعتماد سازی کی کوشش ہے۔ یوں بھی یہ دفاعی معاہدہ ایک ’اعلامیہ‘ سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ریاض میں سعودی حکام نے ضرور پاکستانی لیڈروں کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور معاہدے پر دستخط کے بعد شہر کی گلیوں میں پاکستانی جھنڈے آویزاں کرکے معاہدے کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ۔ تاہم اس کے ساتھ ہی دیکھا جاسکتا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں نہ تو دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ دفاع کے مقصد سے کوئی عملی اقدامات کیے گئے ہیں، نہ کسی بھی سطح پر تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے کوئی ورکنگ کمیٹیاں قائم ہوئی ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی دستاویزات سامنے آئی ہیں جن سے معلوم ہوسکے کہ یہ دونوں ممالک کیسے کسی ہنگامی حالت میں ایک دوسرے کی امداد کے لیے پیش رفت کریں گے۔
ان اقدامات کی عدم موجودگی میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ پاک سعودی معاہدہ ایک اعلان ہے جس میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی خود مختاری کے اصول کو نمایاں کیا ہے اور امریکہ پر واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی حد سے بڑھی ہوئی خود سری علاقے میں موجود ممالک میں بے چینی بڑھا رہی ہے۔ پاکستان چونکہ جوہری صلاحیت کا حامل ہے ، اس لیے معاہدے پر قیاس آرائیوں میں شدت بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ایسے بیانات یا تجزیے سنے و پڑھے جاسکتے ہیں جن کے مطابق اس معاہدے کے تحت کسی مشکل میں پاکستان ، سعودی عرب کو ’ایٹمی چھتری‘ فراہم کرے گا۔ اب ایرانی صدر کے ایک مثبت بیان کے بعد متعدد پاکستانی تجزیہ نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ایسے خیالی گھوڑے دوڑانے لگے ہیں کہ ایران بھی جلد ہی اس معاہدے کا حصہ بن جائے گا ، اس طرح پاکستان اسے بھی ایٹمی تحفظ فراہم کرے گا۔
ایسی قیاس آرائیوں کے لیے بے پر کی اڑانے کا محاورہ بجا طور سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیوں کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں دو علیحدہ خود مختار ممالک ہیں۔ جبکہ جوہری صلاحیت کوئی بھی ملک اپنے وسائل سے اپنی ضرورتیں پورری کرنے کے لیے حاصل کرتا ہے۔ یہ سوچ لینا کہ دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان ،سعودی عرب کو لاحق کسی خطرے کی صورت میں ایٹمی حملے کے لیے تیار ہوجائے گا، پاکستان کے مفادات اور اس کے ریاستی اعتبار کو مشکوک کرنے کے مترادف ہوگا۔ پاکستان نے اگر ایٹمی صلاحیت حاصل کی ہے تو اس نے اقوام عالم میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ان ہتھیاروں کی حفاظت کرنے اور انہیں محض ڈیٹرنس کے طور پر استعمال کرنے کا عہد بھی کیا ہے۔ دوسرے ملکوں کو نام نہاد ایٹمی چھتری فراہم کرنے کا اعلان بطور ریاست پاکستان کے اعتبار اور عالمی پوزیشن کو کمزور کرے گا۔
پاکستانی وزیر دفاع نے ضرور پاک سعودی معاہدے میں توسیع کی بات کی ہے لیکن ابھی تک کسی دوسرے دارالحکومت سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ویسے بھی کسی دفاعی معاہدے کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہوگا کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو ’کرائے ‘ پر دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس قسم کی پیش رفت خطرناک اور پاکستان کی سلامتی کے لیے فوری اندیشوں کا سبب بنے گی۔ پاک سعودی معاہدہ درحقیقت ایک طاقت ور سفارتی بیان ہے جس کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں عدم تحفظ کی صورت حال کی طرف نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی بے چینی کا اظہار ہے اور اس بات کا اشارہ بھی کہ علاقے کے ممالک عدم تحفظ کو ختم کرنے کے لیے مل جل کر سوچ بچار کرنے لگے ہیں۔ دیکھا جائے تو ایرانی صدر کا بیان بھی اس معاہدے کی روح کے عین مطابق ہے۔ یعنی ایران بھی علاقے میں بے یقینی اور اسرائیل کی پید اکردہ نازک صورت حال ختم کرنے کی بات کررہا ہے۔ اسی لیے مسعود پرشکیان نے کہا ہے کہ ’ سکیورٹی کو طاقت کے استعمال سے یقینی نہیں بنایا جا سکتا‘۔ ان کی تقریر کا یہ فقرہ خود حفاظتی کے نام پر اسرائیل کی جارحانہ اور جنگ جویانہ حکمت عملی کی طرف اشارہ ہے۔ اور یہ مشورہ بھی ہے کہ تحفظ کے لیے بات چیت اور اعتماد سازی کا ماحول پیدا کیا جائے۔
ایران اگر پاکستان اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر علاقے میں وسیع تر تعاون کی حمایت کرتا ہے تواسے یہ ثابت بھی کرنا پڑے گا کہ وہ مستقبل قریب میں جنگ جوئی کرنے والے گروہوں سے لاتعلقی اختیار کرے گا۔ اس حوالے سے اس کا سب سے اہم اور اولین امتحان حوثی قبائل کے حوالے سے ہوگا۔ سعودی عرب ، یمن میں حوثی قبائل کی بڑھتی ہوئی طاقت، انتشار کی سیاست اور کسی مرکزی حکومت کو چیلنج کرنے کے طرز عمل کے خلاف برسر پیکار رہا ہے۔ سعودی عرب کو مطمئن کرنے کے لیے ایران حوثیوں کو یمن میں کسی پرامن معاہدے پر آمادہ کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ البتہ اگر اس نے ماضی کی طرح حوثیوں کی سرپرستی جاری رکھی تو صدر مسعود پرشکیان کے ایک بیان سے علاقائی تعاوان اور سکیورٹی معاملات میں افہام و تفہیم کا مقصد حاصل نہیں ہوسکے گا۔