وائٹ ہاؤس میں وزیر اعظم (آرمی چیف) کی پزیرائی

پاکستان میں طاقت کے توازن کا معاملہ اب کوئی راز نہیں  رہا۔ ہائیبرڈ نظام کی جو میٹھی گولی پاکستانی  عوام کودی جاتی ہے اب اسے ایک بینر بنا کر پوری دنیا کے سامنے نشر کردیا گیا ہے۔ دوست دشمن پر عیاں ہوچکا ہے کہ پاکستان میں  آئینی انتظام کے تحت نام نہاد انتخابات  کے نتیجے میں حکومت قائم ہے  لیکن اسے چلانے کے لیے فوج کی بیساکھیاں درکار ہیں۔

ملک کا وزیر اعظم ہر موقع پر یہ بیساکھیاں سنبھالے دنیا کی سفارت کاری میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے میں مصروف ہے۔ گزشتہ شام  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  وائٹ ہاؤس میں پاکستانی وزیر اعظم  کی پزیرائی کی لیکن یہ یقینی بنانے کے لیے   شہباز شریف کو ’اکیلا‘ نہ سمجھا جائے بلکہ پاکستانی ریاست   پورے  کر وفر  اور  قوت کے ساتھ اس کی پشت پر ہے، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ان کے ہمراہ تھے۔   یوں تو یہ منظر اب کوئی نیا نہیں ہے بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے لے کر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے لیے ہونے والے اجلاس  اور اب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے بات چیت کے موقع پر پاک فوج کے سربراہ کی موجودگی  ایک معمول بن چکا ہے۔ پاکستانی  حکومت نےواضح  کردیا  ہے کہ ملک میں خواہ 1973 کا آئین  ہی نافذ ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب حکومت کو حق حکمرانی تفویض کرتا ہے  لیکن شہباز شریف   آئین کی ایک ایسی عملی تفسیر عام کرتے دکھائی دیتے ہیں جس کے تحت  یہ  پیغام پہنچایا جاتا  ہے کہ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے والے کسی بھی ملک یا لیڈر کو  تن تنہا وزیر اعظم پر اعتبار نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ ان کے اقتدار کے ضامن  آرمی چیف کو بھی  ’یقین دہانی‘ کے لیے ساتھ ہی مل لینا چاہئے۔

شہباز شریف    ہمیشہ سے  اسٹبلشمنٹ  کی خوبیوں کے پارکھ رہے ہیں اور ان کی ساری سیاسی زندگی اسی اصول پر گزری ہے کہ فوج کے ساتھ دوستی و تعاون سے  سیاست کی جائے اور اقتدار حاصل کیا جائے۔ آئین و قانون ، جمہوری روایت یاپارلیمنٹ کے اختیار جیسے غیر ضروری معاملات کو زیر بحث نہ لایا جائے۔ نہ ہم ان امور کو چھیڑتے ہیں اور نہ کوئی ہم سے اس بارے میں سوال کرے۔ انتخاب بھی ہوتا رہے، پارلیمنٹ  میں ایک دوسرے کے گریبان بھی پکڑے  جائیں لیکن معاملات اسی  طریقے سےچلنے چاہئیں جو اس ملک کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے۔ بیچ بیچ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے اس طریقے پر ہلکا سا احتجاج کرنے کی کوششیں ضرور کیں لیکن اب شہباز شریف ’طاقتور‘ وزیر اعظم کا رول ادا کرتے ہوئے دل میں  ضرور ہنستے ہوں گے کہ  انہوں نے ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا کر کیا حاصل کرلیا۔ انہیں بھی اگر سکون و عافیت ملی ہے تو شہباز کے سلیوٹوں ہی کی  بدولت حاصل ہوئی ہے۔

البتہ اس تصویر کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ شہباز کی طرف  سے عسکری قیادت کی خوبیوں کا اعتراف اب یک  طرفہ معاملہ نہیں رہا بلکہ  فوجی لیڈروں نے بھی ہونہار شہباز شریف کی خوبیوں اور ’تابعداری‘ کے ہنر کو خوب پہچان لیا ہے۔ اس لیے اگر ملک میں اقتدار کی تقسیم کے حوالے سے عسکری ترجیحات کی کوئی فہرست کہیں تیار کی گئی ہو تو اس میں پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے پر شہباز شریف ہی کا نام لکھا ملے گا۔ اس لحاظ سے جب حکومتی نمائیندے یہ دعوے کرتے ہیں کہ حکومت مضبوط  ہے اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہے  تو وہ درحقیقت اسی افہام و تفہیم کی طرف اشارہ کررہے ہوتے ہیں جس میں شہباز اور عاصم منیر بھائیوں کی طرح پروٹوکول اور   فیصلے کرنے کے اختیار  کو تقسیم کرنے پر  سو فیصد اتفاق کرچکے ہیں۔ اب  ہر ملاقات اور ہر رسم کے موقع پر واضح کیا جاتا ہے کہ پروٹوکول کے مزے آپ لوٹیں لیکن منہ سے کوئی لفظ نکالتے ہوئے نگاہ ہماری طرف ڈال لیں۔  ویسے تو شہباز شریف اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر اس حد تک ماہر ہوچکے ہیں کہ ان کی زبان سے ’خوشامد و چاپلوسی‘ کے علاوہ کوئی لفظ نکل ہی نہیں پاتا۔

صبح سے میڈیا میں خبر چل رہی تھی کہ شہباز شریف کا وائٹ ہاؤس میں استقبال اور صدر ٹرمپ کا والہانہ  خیرمقدم ۔ لیکن کیمرے  سائے کی طرح اپنے وزیر اعظم کے کمر ٹھونکتے فیلڈ مارشل کو  بھی فوکس کرتے رہے۔ ٹرمپ تو خود  جمہوریت کو غیر ضروری انتظام سمجھتے ہیں  اور مانتے ہیں کہ ان جیسے ہنر مندوں ہی کو  امریکہ بلکہ دنیا کے  ہر ملک میں حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان کی ماگا تحریک کے متعدد لیڈر امریکہ میں جمہوریت کی بجائے  شخصی آمریت کو مسائل کا حل مانتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے لیے یہی ایک طریقہ کارآمد ہوسکتا  ہے۔ انتخابات کے ڈھکوسلے سے بلاوجہ انسانی حقوق اور مساوات کی بات کرنا پڑتی ہے جبکہ امریکہ اور دنیا کو ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو کان سے پکڑ کر ہر کسی کو راہ راست پر لاسکے۔ اس لیے پاکستان جیسے کمزور جمہوری روایت والے ملک کے وزیر اعظم کے ساتھ ان کے فیلڈ مارشل کو دیکھ کر ان کی باچھیں کھلنا ایک فطری  ردعمل تھا۔  ٹرمپ کو یہ دعویٰ نہیں ہے کہ کوئی ملک یا حکومت انسانی و جمہوری حقوق کی ضمانت فراہم کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں امریکی مفادات کے تحفظ  کی ضمانت  دی جائے۔ شہباز شریف اور عاصم منیر نے یہ کام بخوبی سرانجام دیا ہے۔ اس لیے ٹرمپ پاکستان سے راضی ہیں۔ انہوں نے تو شہباز شریف کے  میٹھے میٹھے الفاظ ریکارڈ کرا لیے ہوں گے کہ جب موڈ خراب ہؤا  تو سن لیا کہ کیسے دنیا کے لیڈر ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں۔ 

وائٹ ہاؤس میں ملاقات  کے بعد وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ’ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کی بھرپور تعریف کی۔ ان کی جرات مندانہ، بہادرانہ اور فیصلہ کن قیادت کو سراہتے ہوئے باور کرایا کہ صدر ٹرمپ غزہ سمیت دنیا بھر میں تنازعات ختم کرانے کی مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور جنوبی ایشیا بڑے سانحے سے بچا۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی کوششوں کے اعتراف اور غزہ، مغربی کنارے سمیت مشرق وسطیٰ میں امن بحالی کے لیے مسلم رہنماؤں کے ساتھ مشاورت پر بھی ٹرمپ کی توصیف کی ‘۔ گویا ایک ایسے اجلاس  کا کریڈٹ بھی ممدوح کا ہے جس میں غزہ یا فلسطین  کی تقدیر کا کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ اور ملاقات کے بعد مسلمان  ملکوں کے لیڈر میڈیا سے بچتے  ہوئے اپنے اپنے گھروں کی راہ لے رہے تھے۔

امریکی صدر کے ساتھ پاکستانی  لیڈروں کی ملاقات بے حد اہم  تھی۔ اس سے پاکستان کی سفارتی تنہائی کا تاثر زائل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہورہا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ تعلقات استوار کرنے   اور فلسطین کے سوال پر امریکی مؤقف کے برعکس پالیسی  کے باوجود  امریکہ کے ساتھ  خوشگوار تعلقات مضبوط کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے لیے بھی  شاید یہی امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان چین کا حلیف ہونے کے باوجود سفارتی لحاظ سے مکمل طور  پر اس کے کیمپ میں  نہ چلا جائے بلکہ امریکی حکومت سے بھی راہ و رسم قائم رکھی جائے۔ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہونے کے باوجود چین  کے اثر ورسوخ کو محدود کرنے کی تگ و دو کرتا ہے  ۔ جو ملک چین مخالف پالیسی  اختیار نہیں کرتے، ان سے متوازن پالیسی کی یقین دہانی ہی کو کافی سمجھا  جاتا ہے۔ شہباز شریف سے ملاقات میں یہی اطمینان حاصل کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان اور امریکہ کا مقصد یکساں  طور سے پورا ہوتا ہے۔اس ملاقات کو  اس سے کم یا زیادہ سمجھنا  مناسب نہیں ہوگا۔

 اپنے فیلڈ مارشل کے  ہمراہ   صدر ٹرمپ  سے  ملاقات کے بعد  شہباز شریف واپس نیویارک پہنچے جہاں آج صبح انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس تقریر میں بلاشبہ پاکستان کی پالیسی کو نمایاں اور پرزور انداز میں بیان کیا گیا ہے  اور کشمیر کے علاوہ فلسطینی عوام کے حق خود اختیاری کی بھرپور حمایت کرنے کے علاوہ  غزہ میں فوری جنگ بندی اور ماحولیات کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنے کی بات کی گئی۔ تاہم شہباز شریف کی اس تقریر میں سب سے  اہم بات بھارت کے ساتھ  بات چیت کے ذریعےمسائل حل  کرنے کے عزم کا اظہار تھا۔  امن  کے حصول اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے کا مؤقف ہی دنیا میں کسی ملک کو عزت و احترام دلا سکتا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ متعدد مسائل ہیں لیکن ان کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ دنیا کو اشتعال دلانے والے لیڈروں کی بجائے فعال و متحرک لیڈروں کی ضرورت ہے۔

پاکستان سفارتی طور سے قدم بہ قدم آگے بڑھ رہا ہے۔  دنیا میں اس کے مؤقف کو سنا جانے لگا ہے اور اس کے لیڈروں کو ایک اہم ملک کے نمائیندوں کے طور پر احترام دیا جاتا ہے۔ البتہ یہ سوال بدستور جواب طلب ہے کہ اس سفارتی کامیابی سے ملکی معاشی مشکلات کا راستہ کیسے نکالا جائے گا۔ یا  ملک کے سیاسی مسائل حل کیے  بغیر عالمی سطح پر حاصل ہونے والی کامیابیاں کتنی دیر پا ہوسکیں گی؟