ہماری سیاست کا المیہ

سیاست کا حقیقی مقصد معاشی وسائل کی تقسیم کے لیے فیصلہ سازی کا ایسا بندوبست ہے جس میں عام شہری کے معیار زندگی میں تین اشاریوں پر بہتری لائی جا سکے۔ (الف) شہریوں کی بنیادی ضروریات مثلاً خوراک، علاج معالجہ، تعلیم اور رہائش کی ضمانت دی جا سکے۔ (ب) قانون اور نظام عدل کی مدد سے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جا سکے (ج) شہریوں کے باہم تعلق اور حقوق کا ایسا نظام مرتب کیا جائے جس سے مختلف جغرافیائی، لسانی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں میں معاشی فرق اور ترقی کے مواقع میں فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔

دوسرے لفظوں میں سیاسی عمل بنیادی طور پر معاشی سوال ہے۔ سیاست کے معاشی تقاضے شہریت کی مساوات اور فیصلہ سازی میں شفافیت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ جہاں سیاسی عمل کمزور، غیرشفاف اور غیر مستحکم ہو، وہاں معاشی ترقی استحصال، جمود اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ سیاست کو احترام دیے بغیر شہری کی توقیر ممکن نہیں اور بے توقیر شہری اجتماعی سیاسی عمل سے بے گانہ ہو کر قانون یا دیانتداری کی پروا کیے بغیر اپنی ذاتی بقا کی دوڑ میں شریک ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست ایک وجودی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران کی جڑیں ہمارے ابتدائی برسوں میں پیوست ہیں اور رفتہ رفتہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں پھیل چکی ہیں۔

بیسویں صدی کے پہلے نصف میں ہندوستانی سیاست کے دو بڑے دھارے تھے۔ انڈین نیشنل کانگرس کے نزدیک بنیادی قومی سوال غیر ملکی حکمرانی سے نجات تھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ہندوستانی قوم کو غیر فرقہ ورانہ تشخص کی بنیاد پر تحریک آزادی میں شامل ہونا تھا۔ دوسری طرف ہندوستان کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت یعنی مسلمانوں کی سیاست 75 فیصد غیر مسلم اکثریت کے مقابل آئینی تحفظات کے گرد گھومتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں مسلم آبادی کے لیے بنیادی سوال غیر ملکی حکمرانی سے نجات نہیں بلکہ آزادی کے بعد اکثریتی گروہ کی ممکنہ بالادستی سے تحفظ تھا۔ یہ امر قابل غور ہے کہ مسلم سیاست صوبائی سطح پر بھی منقسم تھی اور مختلف مذہبی مکاتب فکر بھی مسلم لیگ کی سیاست سے متفق نہیں تھے۔ ہندوستان کے شمال مغربی صوبوں میں مسلم لیگ کا تنظیمی وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ آزادی کے لیے مذاکرات میں مسلم لیگ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کے خلاف تھی لیکن تقسیم ہندوستان کے لیے دیے گئے دلائل پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر بھی منطبق ہوتے تھے۔ آزادی اپنے ساتھ بنگال، بہار اور پنجاب میں فسادات اور انتقال آبادی بھی لے کر آئی۔ پاکستان میں مسلم اقلیتی صوبوں سے آنے والی مسلم لیگی قیادت کو اقتدار میں بڑا حصہ ملا چنانچہ مقامی سیاسی قیادت سے تصادم ناگزیر تھا۔

جغرافیائی طور پر غیر متصل مشرقی اور مغربی پاکستان میں سیاسی اقتدار میں عدم توازن نے ابتدا ہی میں سیاسی عمل کو کمزور کر دیا۔ طرہ یہ کہ مسلم لیگ کی قیادت نے پاکستان میں اپنے سوا دوسری سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مشرقی بنگال کی عددی اکثریت کے خوف سے آئین کی تشکیل موخر ہوتی رہی اور پاکستان میں بیورو کریسی، فوج اور جاگیرداروں میں غیر جمہوری گٹھ جوڑ نے جنم لیا۔ مشرقی پاکستان سیاسی فیصلہ سازی سے بے دخل ہو کر احساس محرومی کا شکار ہو گیا۔ 1951 ہی سے عملی طور پر حکومت سکندر مرزا، ایوب خان، چوہدری محمد علی اور غلام محمد جیسے کرداروں کے قبضے میں آ گئی۔ لیاقت علی خان کی سیاسی قامت ایسی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں وفاقی سطح پر مفاہمانہ سیاست کو آگے بڑھاتے۔ پاکستان کا پہلا دستور مرتب ہونے سے قبل ہی کوئی درجن بھر صوبائی حکومتیں تحلیل کی گئیں۔ دستور ساز اسمبلی توڑی گئی۔ ون یونٹ بنا کے پارلیمانی سیاست کو تہ و بالا کیا گیا۔1958 کے مارشل لا کے بعد سیاست دانوں کی کردار کشی شروع ہوئی اور یہ عمل آج تک جاری ہے۔ اس کا مقصد گروہی مفادات کی سیاست کو آگے بڑھانا اور قومی سیاست کو فیصلہ ساز قوت سے محروم کرنا تھا۔

اس عمل کا نکتہ عروج 1985کے غیر جماعتی انتخابات تھے جس کے بعد سیاست نیم مجرمانہ غیر سیاسی عناصر کے ہاتھ تاوان رکھ دی گئی۔ سیاسی عمل کی اس بے توقیری کا معاشی نتیجہ گزشتہ منگل کو ورلڈ بینک کی جاری کردہ رپورٹ میں دیکھ لیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2001 سے 2018 تک پاکستان میں غربت کی شرح 64 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی تھی لیکن گزشتہ آٹھ برس میں غربت کی شرح بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی ہے۔ غربت کے نئے عالمی معیار کے مطابق پاکستان کی 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ شرح آبادی میں اضافہ 1.9 فیصد ہے جبکہ کل قومی پیداوار میں اضافے کی شرح 2.6 فیصد ہے۔ کل ملکی قرضہ 134 ارب ڈالر کو جا پہنچا ہے۔ سالانہ برآمدات 32 ارب ڈالر ہیں جبکہ ترسیلات زر 38 ارب ڈالر ہے۔ گویا ملکی معیشت داخلی ترقی کی بجائے ہوا میں معلق ہے۔ شہریوں کی متوقع زندگی 67 برس ہے جو عالمی متوقع عمر سے کم از کم چار برس کم ہے۔ ملک میں کم از کم چالیس فیصد بچے Stunted growth کا شکار ہیں جو ملک میں آئندہ ذہنی سرمائے پر بوجھ ثابت ہوں گے۔ خاص طور پر جبکہ ریاست تعلیم جیسے فریضے سے دست کش ہو رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ رواں صدی کے پہلے دو عشروں میں ایسا کیا معجزہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے باوجود معاشی اشاریے آج سے بہتر تھے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ افغان جنگ میں بیرونی امداد کی گنگا بہہ رہی تھی اور دوسرا جواب یہ کہ 2008 سے 2018 تک سیاسی عمل کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا اب ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ بظاہر سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور ان کے مفروضہ رہنما بھی موجود ہیں لیکن جسد اجتماعی سے سیاسی شعور کا وہ عنصر ختم ہو گیا ہے جو سیاسی عمل کو نامیاتی توانائی بخشتا ہے۔ پاکستان میں رائے عامہ سیاست سے نا امید ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت وہ عصائے سلیمانی ہے جسے مسلسل دشنام اور سازش کی دیمک چاٹ چکی ہے۔

ایسی سیاسی قیادت ملک میں بنیادی معاشی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سیاسی اختیار اور معاشی فیصلہ سازی میں یہ فاصلہ ہماری سیاست کا بنیادی المیہ ہے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)