خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی، تحریک انصاف کے ترجمان نہ بنیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 27 / ستمبر / 2025
خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پشاور میں تحریک انصاف کے بینر تلے منعقد ہونے والے جلسہ میں اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرتی اور نہ ہی اس کی اجازت دے گی۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور ’اداروں‘ کو مشورہ دیا کہ افغانستان سے بات چیت کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا جائے۔
علی امین گنڈا پور کا یہ بیان اس حقیقت حال کے باوجود دیا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ کئی سال کے دوران متعدد فورمز پر افغان حکومت کو انگیج کرنے اور پاکستان میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی سرپرستی ترک کرنے کا مشور دیا ہے۔ پاکستان براہ راست کابل حکومت کے سامنے یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے اور وہاں سے نیم دلانہ بیانات کے علاوہ کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ دریں حالات یہ واضح ہوچکا ہے کہ افغانستان میں طالبا ن کی حکومت اس معاملہ میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ نہیں ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغانستان میں مقیم ہیں اور وہیں سے تربیت پاکر وہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ یہ عناصر عسکری ٹارگٹس کے علاوہ شہریوں کو نشانہ بنانے میں بھی مصروف رہے ہیں۔ ایسے عوام دشمن اور امن و امان تاراج کرنے والے گروہ کی جنگ جوئی کو برداشت کرکے ملک میں امن و امان بحال کرنے اور عسکری انتہاپسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
دہشت گردی کے خلاف عالمی رائے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ کوئی ملک بھی کسی دہشت گرد گروہ کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کو درست نہیں مانتا اور ان عناصر سے جنگ بند کرنے اور غیر قانونی تشدد ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے دہشت گردی کی تعریف یا کارروائیوں کے طریقہ کار پر اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ اصول طے شدہ ہے کہ کسی ریاست یا عوام کےخلاف ہتھیار اٹھانے اور اسلحہ و بارود کے زور پر باتیں منوانے کی خواہش کرنے والے لوگوں سے نہ تو بات چیت ہوسکتی ہے اور نہ ہی ان کے مطالبات مانے جاسکتے ہیں۔
پاکستان کو درپیش موجودہ صورت حال کو اگر حالیہ ہاک بھارت جنگ کے تناظر میں پرکھا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت نے نام نہاد دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کو تباہ کرنے کے لیے 7 مئی کو پاکستان کا بین الاقوامی بارڈر عبور کرکے حملے کیے تھے جس کے جواب میں پاکستان کو بھی جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ بعد میں امریکہ کی مداخلت پر یہ جنگ بند ہوئی۔ بھارت کا مسلسل یہ مؤقف ہے کہ پاکستان چونکہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے، اس لیے اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ پاکستان نے ہر فورم پر بھارت سے مواصلت و مذاکرات کی کوشش کی ہے۔ بھارت کا الزام جھوٹ پر مبنی ہے کیوں کہ وہاں برسر اقتدار ٹولے کو اپنے ووٹروں کو دھوکے میں رکھنے کے لیے پاکستان کی صورت میں ایک ’ولن‘ کی ضرورت ہے۔ اس بحث کو میں پڑے بغیر کہ اس معاملہ میں بھارت کیوں قابل اعتبار نہیں ہے، دیکھا جاسکتا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات کی آڑ میں سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ دہشت گردی دنیا کے ہر ملک اور ہر فورم پر ناقابل قبول فعل ہے اور عالمی رائے اسے کسی شکل میں بھی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے بھارت پاکستان پر اور پاکستان بھارت پر دہشت گردی کی حمایت کاالزام عائد کرتے ہیں اور بھارت تو ہر شعبہ میں پاکستان کے ساتھ قطع تعلق کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس پس منظر میں اگر خیبر پختون خوا حکومت اور تحریک انصاف کے مؤقف پر غور کیا جائے تو وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت دہشت گردوں کے سامنے پسپائی اختیار کرے اور ان کی پشت پناہی کرنے والی طالبان حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کیے جائیں۔ بدقسمتی سے ماضی میں ایسی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے علاوہ تحریک انصاف کی حکومت نے بھی ایسی کوشش کی تھی اور دہشت گردی میں ملوث عناصر کو پاکستان میں پر امن زندگی گزارنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اب وہی عناصر دوبارہ مسلح ہوکر ریاست پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کسی سیاسی مطالبے کی بنیاد پر دہشت گردی میں ملوث نہیں ہے بلکہ وہ پاکستانی ریاست کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے اپنی مرضی کا شرعی نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک خطرناک سیاسی ہتھکنڈا ہے۔ اسے تسلیم کرنے یا ایسے عناصر کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرکے ملک میں مستقل بنیاد پر طویل المدت فساد کا آغاز ہوسکتا ہے۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ ہتھیار بند ہوکر معصوم لوگوں کو نشانے پر لے کرمطالبات منوانے کی کوشش کرنے والے عناصر کو مسترد کیا جائے اور ان کا قلع قمع کرنے کے لیے ہمہ قسم وسائل صرف کیے جائیں۔ اسی جد و جہد میں پاکستان کا امن اور مستقبل کی امید پنہاں ہے۔ لیکن اس کے برعکس تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا حکومت دہشت گردوں سے ہمدردی ظاہر کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتیں۔ خاص طور سے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے آج جن الفاظ میں دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ ظاہر کیا ہے، اس سے انہی کے صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر سرگرم انتہا پسند ٹولوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ کسی صوبے کی حکومت کے سربراہ کو ایسا طرزعمل زیب نہیں دیتا۔
پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ’ہم کسی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت سن لے، حکومت خیبرپختونخوا آپریشن یا لوگوں کے بے گھر ہونے کی حمایت نہیں کرتی‘۔ انہوں نے ’وفاقی اداروں‘ پر زور دیا کہ وہ افغانستان سے بات کریں اور ملک میں دہشت گردی کے مسئلے کو حل کریں۔’ہم جنگ نہیں چاہتے اور اس کے خلاف آواز بلند کریں گے‘۔ حالانکہ علی امین گنڈا پور اور تحریک انصاف کو بخوبی علم ہے کہ یہ جنگ نہ تو پاکستانی حکومت چاہتی ہے اور نہ ہی پاک فوج اس کی خواہش رکھتی ہے بلکہ یہ جنگ ان پر مسلط کی گئی ہے۔ اس جنگ میں دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہنے سے جنگ تو بند نہیں ہوگی لیکن ریاستی اداروں کی ساکھ ضرور تباہ ہوجائے گی اور عوام کو یہ تاثر ملے گا کہ ان کی فوج دہشت گردہ گروہوں کے جبر سے ان کی حفاظت کرنے میں ناکام ہورہی ہے۔ اس لیے علی امین گنڈا پور کا مطالبہ غلط اور قابل مذمت ہے۔
خیبر پختون خوا کی حکومت کے سربراہ اپنی حیثیت کو تحریک انصاف کی حکمت عملی میں ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ یہ رویہ صوبے کے عوام اور پاکستان کےساتھ دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے کہ کس مرحلے پر کسی ملک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے ہوسکتے ہیں۔ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کے جوان اور افسر شہید ہورہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے ملک کے لوگوں کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے کے لیے اپنی جانیں نچھاور کرتے ہیں۔ ان حالات میں صوبائی حکومت اور ایک اہم سیاسی پارٹی ایک جلسہ عام میں اگردہشت گردوں کو سیاسی سپیس فراہم کرے گی اور تاثر دے گی کہ اس صوبے کے عوام درحقیقت خود کو بچانے والوں کی بجائے ، ان پر حملے کرنے اور انہیں ہلاک کرنے والوں کے ساتھ ہیں تو اس سے تخریبی عناصر حوصلہ پکڑیں گے اور ملک میں سیاسی افتراق کی صورت پیدا ہوگی۔
تحریک انصاف کو کسی بھی قومی یا علاقائی معاملہ میں اپنا مؤقف رکھنے اور اسے پیش کرنے کا حق حاصل ہے لیکن ایک متاثرہ صوبے میں صوبائی حکومت کی طاقت کی بنیاد پر جلسے منعقد کرکے عوام دشمن سیاست کو فروغ دینے والی سیاست کا پول آج نہیں تو کل ضرور کھل جائے گا۔ اس لیے تحریک انصاف اور اس کی حکومت کے مفاد میں بھی یہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ صف بندی کرنے کی بجائے انہیں کچلنے والی پاک فوج کے ساتھی بنیں۔ تحریک انصاف کے لیڈر ضرور عمران خان کی حراست پر سیخ پا ہیں اور اپنے لیڈر کی محبت میں قومی مفاد اور انتشار کے درمیان حد فاصل قائم کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ لیکن عمران خان کی جائز یا ناجائز حراست کو قومی معاملات میں افتراق پیدا کرنے اور موجودہ حکومت ہی نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کی حکمت عملی کسی طور سے قابل قبول نہیں ہونی چاہئے۔ ملک کے تمام شہری اور ہوشمند عناصر عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر لیڈروں کے خلاف ناجائز قانونی کارروائیوں کو سیاسی انتقام سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف آواز بلند کی جاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ وفاقی حکومت کی غلطیوں کی سزا ملک کے عوام کو نہ دی جائے ۔ کسی پارٹی کوریاست کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ تحریک انصاف اگر ایسی سیاسی حکمت عملی ترک نہیں کرے گی تو پاکستانی عوام بھی ا س کی منفی سیاست سے فاصلہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ اس طرح پارٹی یا اس کے نمائیندوں کی ریاست دشمن بیان بازی خود پی ٹی کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
علی امین گنڈا پور اور تحریک انصاف نے گزشتہ دنوں تیرا میں ہونے والے دھماکوں میں ہلاکتوں کا سارا الزام کسی ثبوت و شواہد کے بغیر فوج اور حکومت پر عائد کیا۔ یہ الزام تک لگایا کہ یہ لوگ پاک فضائیہ کی بمباری سے ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت نے ہلاک ہونے والوں کو ایک کروڑ روپیہ فی کس معاضہ دینے کا اعلان بھی کیا لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کیا صوبائی حکومت نے اس معاملہ کی شفاف تحقیقات کرنے اور حقائق سامنے لانے کی زحمت بھی گوارا کی ہے۔ بدقسمتی سے آئی ایس پی آر یا وفاقی حکومت نے اس صورت حال پر کوئی واضح بیان نہیں دیا جس سے پروپیگنڈا کرنے والوں کو بے بنیاد جھوٹ پھیلانے کا موقع ملا۔
تحریک انصاف کو سوچنا چاہیے کہ ان طریقوں سے وہ کیسے وفاقی حکومت کو کمزور کرے گی اور کیا یہ ہتھکنڈے خود اس کی شہرت اور سیاست کے لیے سوالیہ نشان نہیں بنیں گے؟