غزہ امن معاہدہ اور پاکستان

واشنگٹن میں تھوڑی دیر پہلے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس  کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی کے اکیس نکاتی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان کے منصوبے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ البتہ اس بارے میں ابھی حماس کارد عمل  سامنے نہیں آیا اور نہ  ہی عرب ممالک سے کوئی تبصرہ دیکھنے کو ملا  ہے۔

دوسری طرف  پاکستان  کے وزیر اعظم شہباز شریف نے  ٹرمپ و نیتن یاہو کی پریس کانفرنس  سے تھوڑی دیر پہلے  ’ایکس‘ پر ایک بیان میں غزہ میں جنگ بندی کے منصوبہ کی حمایت کی ۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا خیر مقدم  کیا اور کہا کہ ’فلسطینی عوام اور اسرائیل کے درمیان پائیدار امن خطے میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے۔’میں صدر ٹرمپ کے منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہوں، جس کا مقصد غزہ میں جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ بھی پختہ یقین ہے کہ صدر ٹرمپ اس نہایت اہم اور فوری معاہدے کو حقیقت بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

دوسری طرف  صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم  کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس معاہدہ کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ علاقے میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں سے وسیع مشاورت کے بعد، میں باضابطہ طور پر امن کے لیے اپنے اصول جاری کر رہا ہوں ۔لوگوں نے واقعی انہیں پسند کیا ہے۔ میں عرب اور مسلم ممالک کے کئی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اس تجویز کی تیاری میں شاندار حمایت فراہم کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’ وزیرِ اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل ( سید عاصم منیر) شروع سے ہمارے ساتھ تھے۔ درحقیقت انہوں نے ابھی ایک بیان  میں اس معاہدے پر مکمل یقین  ظاہر کیا ہے اور  اس کی سو فیصد حمایت کی  ہے‘۔ اس طرح مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے  ہونے والی پیش رفت میں پاکستان کی شمولیت اور مستقبل کے کسی انتظام میں شراکت داری کا عندیہ ملتا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ میں  طویل المدت پائدار امن کے لیے صدر ٹرمپ نے  جو منصوبہ پیش کیا ہے اس کے تحت حماس کی قید میں تمام اسرائیلی یرغمالیوں یا ہلاک ہوجانے والے اسرائیلیوں کو 72 گھنٹے کے اندر رہا کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں خیر سگالی کے اظہار کے لیے اسرائیل اپنی جیل میں  قید سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ حماس کو غیر مسلح کیا جائے گا، اس کا عسکری نیٹ ورک تباہ کردیا جائے گا اور غزہ کا انتظام  عرب و مسلم ممالک کے تعاون سے قائم ہونے والی فورس کے حوالے کیا جائے گا۔  عبوری طور سے ایک ٹیکنوکریٹ حکومت غزہ کا انتظام سنبھالے  گی۔  اور اسرائیلی فوج اس نئی انتظامیہ کے ساتھ مشاورت سے غزہ سے بتدریج انخلا کرے گی۔ حماس کے جنگجوؤں کو غزہ  سے جانے کی اجازت ہوگی یا اگر وہ وہاں آباد رہنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے گا۔

ٹرمپ کے  21 نکاتی امن منصوبہ میں  فلسطینی اتھارٹی اور مستقبل میں فسلطینی ریاست کے قیام کا بالواسطہ اشارہ بھی دیا گیا ہے۔  تاہم اس حوالے سے بہت سے معاملات ابھی غیر واضح  ہیں کیوں کہ یہ بھی  معلوم نہیں ہے کہ کیا حماس کو اس بارے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔ تاہم  ٹرمپ کے امن منصوبہ کے حوالے سے جو پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے،  اس سے یہ اندازہ تو ہورہا ہے کہ حماس کی قیادت کو کسی حد تک منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے بھی حماس کی حمایت کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا  ہے کہ انہیں ایسے اشارے ملے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حماس بھی اس انتظام سے متفق ہے۔  اس بارے  میں سب سے اہم اشارہ  یہ معلوم ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قطر کے وزیر اعظم  محمد بن عبدالرحمان الثانی سے بات کی اور اس ماہ کے شروع میں دوحہ پر حملے کی معافی مانگی۔ انہوں نے اس  حملہ میں ایک قطری سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت پر بھی معذرت کا اظہار کیا۔

صدر ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں بتایا  کہ متعدد عرب اور مسلم ممالک نے اس معاہدے سے اتفاق کیا ہے اور ان فیصلوں تک پہنچنے   میں مدد فراہم کی ہے۔  انہوں نے خاص طور سے پاکستان کا ذکر کیا جس  سے ظاہر ہوتا ہے کہ  اس معاملہ میں پاکستان کا تعاون و مشاورت  شامل تھی۔ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر پاکستان سمیت متعدد مسلمان ملکوں کے رہنماؤں نے صدر ٹرمپ سے ڈیڑھ گھنٹے تک جو ملاقات  کی تھی، اس میں اس معاہدے کے بارے میں  تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ انہی اشاروں سے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ غزہ میں سکیورٹی کے لیے قائم ہونے والی فورس  کے قیام اور پولیس کی تربیت جیسے معاملات میں پاکستان شامل ہوسکتا ہے۔    اس پیش رفت میں سب سے حساس اور مشکل مرحلہ حماس کو غیر مسلح کرکے اس کے عسکری نیٹ ورک اور سرنگوں کے جال کو تباہ کرنا ہے۔  غزہ کے لیے جو بھی حکومت یا عسکری فورس قائم ہوتی ہے ، اسے اس حوالے سے بعض ناخوشگوار اور سخت اقدام کرنے ہوں گے۔

ٹرمپ کا امن منصوبہ بنیادی طور پر اس ایک نکتہ پر استوار ہے کہ مستقبل کی فلسطینی سیاست میں نہ صرف حماس کی عسکری حیثیت کا خاتمہ کیا جائے گا بلکہ  اسے اس معاملہ میں  فریق کے طور پر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسرائیل اگرچہ اس تمام مدت   میں نام نہاد جنگ بندی کے لیے   حماس کے نمائیندوں  سے بات چیت کرتا رہا ہے لیکن اس کے بنیادی مطالبات میں یرغمالیوں کی رہائی کے علاوہ حماس کی عسکری قوت کا مکمل خاتمہ ہے۔ اب صدر ٹرمپ اور اسرائیل نے اس اصول پر اتفاق کرلیا ہے۔ بظاہر پاکستان اور دیگر عرب ممالک بھی ٹرمپ کے بیان کردہ منصوبے کے حامی ہیں لیکن اسے  پہلے  حماس سے منظور کرانا  اور پھر اس پر عمل درآمد کرانا ایک مشکل اور جان گسل مرحلہ  ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم نے ٹرمپ کے امن معاہدے کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اسے خطے کے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے بھی ضروری قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ حماس کی عسکری و سیاسی حیثیت ختم کرنے کا اعلان ہے۔ تاہم دیکھا جاسکتا ہے کہ فلسطین کی آزادی کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں و مذہبی گروہ حماس کی جد وجہد کو جائز سمجھتے  ہیں اور اس کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد ملکی حکومت کو مشرق وسطیٰ میں اپنی نئی حکمت عملی کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستانی عوام کو باور کرانا ہوگا کہ پاکستان کیسے ایک ایسے گروہ کے لیے موت کے پروانے پر دستخط کرنے پر آمادہ ہوگیا جو بظاہر فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے جد و جہد کرتا رہا ہے۔ اور کیا  اس قربانی کے بعد مستقبل میں  کوئی ایسی فسلطینی ریاست وجود میں آسکے گی جو اسرائیل کے شانہ بہ شانہ اقوام عالم میں تسلیم کی جائے؟

حماس کی طرف سے   واضح اعلان سامنے آنے  کے بعد صورت حال مزید واضح ہوسکے گی۔ اگر حماس نے اس منصوبے کی مخالفت کی یا اس گروہ کے اندر منصوبہ ماننے یا مسترد کرنے کے  سوال پر  گروہ بندی ہوگئی تو صورت حال پیچیدہ ہوسکتی ہے۔  گو کہ اس وقت حماس   اپنی شرائط منوانے  کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ بلکہ غزہ میں امن حاصل کرنے کے لیے اپنے وجود کی قربانی دیتے ہوئے اگر یہ گروہ فلسطینی ریاست کے قیام کو ایک حقیقی متبادل کے طور پر تسلیم کرانے میں کامیاب ہوجائے تو اسے  بھی سیاسی کامیابی سمجھنا چاہئے۔   اس کے علاوہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ ان کے قبل ازیں دیے گئے ان بیانات سےبالکل متضاد ہے کہ غزہ کو سیاحتی مقام بنا دیاجائے اور  وہاں کے فلسطینی باشندے دوسرے عرب ممالک میں آباد کردیے جائیں۔ اب ٹرمپ کے اعلان کردہ نکات کے مطابق غزہ کے شہریوں کو وہاں رہنے  کی آزادی ہوگی اور ان کی بحالی کے لیے مسلم ممالک وسائل فراہم کریں گے۔   مستقبل میں غزہ کے شہری وہاں سے باہر  جاسکیں گے لیکن انہیں ہمیشہ  اپنی سرزمین پر لوٹنے کا حق حاصل ہوگا۔ غزہ کی موجودہ صورت حال میں یہ ایک بہت مثبت پیشکش ہے۔

ٹرمپ کے اعلان کردہ معاہدے کے نکات میں سب فریقین کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہے۔ البتہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ا س پر سو فیصد عمل درآمد کی صورت حال کیسے اور کیوں کر پیدا ہوگی۔ تاہم فلسطینیوں، عرب ممالک اور مسلم دنیا کے لیے  مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کا ایک ٹھوس موقع  ضرور فراہم ہؤا ہے۔ اگر اس سے فائدہ اٹھایا گیا تو فلسطینی ریاست قائم کرنے کے لیے تیزی سے کام کیا جاسکے گا۔  البتہ ا س کا دار و مدار اسی بات پر ہوگا کہ عبوری مدت میں کس حد تک تشدد اور قتل و غارت گری سے گریز کیا جاتا ہے۔  یہ اسرائیل کے  لیے  بھی بڑا چیلنج ہوگا لیکن خاص طور سے حماس، فلسطینیوں اور عرب ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پاکستان  کی اس سارے عمل   میں شمولیت ایک طرف اس کی سفارتی و علاقائی اہمیت میں اضافہ کا اشارہ ہے تو دوسری طرف اگر اس معاہدہ پر عمل درآمد میں اونچ نیچ ہوئی یا ملک میں سیاسی طور سے  اسے تسلیم نہ کیا گیا تو  مشرق وسطیٰ کی سیاست میں شرکت ،موجودہ حکومت کے لیے مشکلات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔