پی ٹی وی کی زبوں حالی کا ذمہ دار کون
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 30 / ستمبر / 2025
ایک وقت تھا کہ پی ٹی وی عوام میں مقبولیت کا ریکارڈ قائم کر رہا تھا۔ پوری فیملی مختلف پروگرام اور مقبول ڈرامے دیکھنے کے لئے ایک ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتی تھی، پھر حالات سوچ ترجیحات اور منظر بدلے ٹی وی سیٹ اور انٹینے عنقا ہوئے۔ اور موبائل کی صورت سب کچھ لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا۔
اب اس سے جو چاہیے جو دیکھے۔ گویا جو چاہے آ پ کا کرشمہ ساز کرے ہے والا معاملہ باقی رہ گیا ہے۔ پی ٹی وی بس ایک ادارہ بن کے رہ گیا۔ پی ٹی وی کے مقابلے میں پرائیوٹ چینل اور پرائیویٹ پروڈکشن آ گئی اور اب پی ٹی وی صرف کرکٹ میچوں کے دیکھنے تک محدود ہو گیا ہے۔ مہنگی ایل سی ڈی کی وجہ سے اب عوام انڈیا سے میچ کے دوران مرضی کا رزلٹ نہ آ نے پر اپنے ٹی وی توڑنے سے بھی باز آ گئی ہے۔ مگر یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پی ٹی وی اس وقت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، زخموں سے چور ہے مگر اس کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہے۔
اپنے ہی گراتے ہیں نشمین پہ بجلیاں کے مصداق اس کے کرتا دھرتا ہی اسے بسمل سے بسمل اور بنا کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ ہر آنے والی حکومت نے ہمیشہ اس اہم قومی اور عوامی ادارے کو نہ صرف اہنے تابع رکھنے کی کوشش کی بلکہ اس کے وسائل کو بھی جی بھر کے استعمال کیا۔ یوں بھی ہمارے ہاں قومی اداروں کے وسائل اور خزانے کو شیر مارد کی طرح ہڑپ کرنے کی روایت پنپ اور رچ بس چکی ہے۔ مختلف اداروں کو ان کے افسران اور ملازمیں ہی کھانے پر تلے ریتے ہیں۔ پی آ ئی اے ریلوے اسٹیل مل اور یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن جیسے ادارے اس بات کا بین ثبوت ہیں اور اب پی ٹی وی کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
ہر حکومت نے پی ٹی وی کے خبر نامے کو حکومت نامہ بنانے کی کوشش کی اور ٹی وی پر قابل لوگوں کی بجائے سفارشی لوگوں کو لانے سے اس کے پروگراموں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔ پی ٹی وی میں جب تک پرانے اور تجربہ کار لوگوں کا دور دورہ تھا، یہ ادارہ نہ صرف ترقی کی منازل طے کر رہا تھا بلکہ اس کی پروڈکشن کا معیار بھی بہت بہتر تھا۔ مگر اب صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ پی ٹی وی کے بعض سینیر افسران اور کچھ جونئیر ملازمین نے اس ادارے کے حوالے سے کئی ہوشربا انکشافات کئے ہیں جس سے اس گھر کو آ گ لگ گئی گھر کے چراغ سے والا معاملہ سامنے آ تا ہے۔
ہر ماہ بجلی کے بلوں میں 35 روپے اس ادارے کے لئے وصول کئے جاتے تھے جو اربوں میں بنتے تھے۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ان اربوں روپے میں بھی گھپلے کئے گئے ہیں۔ اگر اس کثیر امداد کو ادارے کی ترقی کے لئے استعمال کیا جاتا تو یہ ادارہ آ ج اپنے پاؤں پر کھڑا نظر آ تا۔ 1964 سے اپنی نشریات کا آغاز کرنے والا یہ قومی ادارہ آ ج ایک چھتنار درخت بن چکا ہوتا اور اس کے ملازمین یوں زبوں حالی کا شکار نہ ہوت۔ے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر سمیت علاقائی سنٹر بھی بدحالی اور مسائل کا شکار ہیں۔ ایک پی ٹی وی کے خیر خواہ اعلی افسر کا کہنا ہے کہ پرانے لوگوں کو خوار کرنے، وسائل کو ہڑپ کرنے اور ادارے کے مخلص افسران کو ذہنی اذیت سے دو چار کرکے انہیں ادارہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کنٹریکٹ پر آ نے والے افسران نہ صرف پرکشش پیکج اور مراعات لے رہے ہیں بلکہ اپنی نااہلی چھپانے کے لئے ادارے میں خوف و ہراس پیدا کر رہیے ہیں۔ منظور نظر جونئر سینئر لوگوں پر مسلط ہیں۔
ایک نائب قاصد کی طرف سے پی ٹی وی میں اربوں روپے کرپشن کی درخواست نیب کو بھی دی جا چکی ہے۔ مگر اس حوالے سے اعلی افسران اور ہمارے میڈیا کی زبانیں خاموش ہیں۔ شنید ہے کہ وزارت اطلاعات کے اعلی افسران اور ایم ڈی کو بھی تمام حقائق بتائے گئے ہیں مگر معاملہ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد والا ہے۔ افسران بالا کی چشم پوشی اور خاموشی کی وجہ سے جہاں ان اداروں کے وسائل ختم ہو رہے ہیں، وہاں سفارش اقربا پروری اور خواتین کے ساتھ ہراسمنٹ کی شکایات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
مختلف سنٹروں میں کام نہ ہونے کی وجہ سے سیاست عروج پر ہے۔ گروپ بندی اور ایک دوسرے کے خلاف محاذ آ رائی کی وجہ سے اس ادارے کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ ٹی وی پروگراموں میں مخصوص اور منظور نظر چہیتے لوگوں کو نوازنے کی وجہ سے علمی ادبی عوامی اور ثقافتی حلقوں میں تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سفارش کی وجہ سے جہاں پروگراموں کا معیار گر رہا ہے وہاں پروڈیوسر صاحبان کی بے بسی بھی دیکھنے والی ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ ان اداروں اور ان کے پروگراموں پر مسلط ہونے والے چہرے کسی بڑے کا فون کرا کے اپنا الو سیدھا اور دوسروں کو الو بنائے ہوئے ہیں:
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
پی ٹی وی اگر آ ج کماؤ پوت بنا ہوتا تو آ ج
قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن، والی صورت حال کا سامنا نہ کرنا ہڑتا اور ملازمین کو دو دو ماہ تنخواہوں کے لئے نہ ترسنا پڑتا۔ اب تو اس ادارے میں دکھ جھیلے بی فاختہ اور کوے انڈے کھائیں، والی صورت حال کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ ادارے کے وسائل کو لوٹنے اور اسے انحطاط کا شکار کرنے والوں کو پوچھنے والا بھی کوئی نہیں۔ اگر اس ادارے کے کرتا دھرتاؤں کے پاس اس ادارے کی زبوں حالی دور کرنے کے اختیارات نہیں ہیں اور وہ بے بسی سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں تو پھر یہ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس اہم قومی نشریاتی ادارے کی ساکھ بحال کرنے اسے معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے فوری اقدامات کرے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا اور عوامی و سماجی حوالوں سے مقبول ہمارے دوست ناصر محمود شیخ نے انکشاف کیا کہ ان سمیت بہت سے کام کرنے والے آرٹسٹوں اور پروگرام کے شرکا کو ان کے معاوضے کے چیک ادا نہیں کیے گئے۔ ان کی پوسٹ پر ملتان کے شاعروں ادیبوں اور دانشوروں نے شکایات کے انبار لگا دئیے۔ پروگراموں میں مخصوص اور منظور نظر افراد کی شمولیت کی نشان دہی کرتے ہوئے اس شعر کی صورت مطالبہ کیا گیا کہ:
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
پی ٹی وی کو ایک بار پھر سے کماؤ پوت بنانے کے لئے فوری اور دور رس اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس قومی اور سرکاری ادارے کو گروپ بندی اور حکومتی ذیلی اور طفیلی ادارہ بنانے کی بجائے اہل افراد کے سپرد کریں۔ ہوشربا مشاہروں پر مخصوص لوگوں کو نوازنے کی بجائے علاقائی سنٹروں کو فنڈز دیں۔ ان کا بجٹ بڑھائیں۔
ملتان ٹی وی سنٹر پر ہر چھ ماہ بعد سوائے جی ایم تبدیل کرنے کے کوئی خاطر خواہ تبدیلی دیکھنے سننے میں نہیں آ ئی۔ شہر کی پیشتر تقاریب اس لئے کور نہیں ہوتیں کہ مین پاور اور کیمروں کا مسئلہ ہے۔ ابھی تک اینٹینے کے بغیر اس اہم حکومتی تہزیبی اور ثقافتی مرکز کی نشریات قومی سطح پر نہیں دیکھی جارہیں۔ گویا معاملہ جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا، سے آ گے نہیں نکل سکا۔
ارباب بست وکشاد اس اہم ادارے کو دلدل سے نکالیں اور اسے انحطاط پذیر کرنے والوں کے شکنجے سے نکال کے عوام کی امیدوں کا مرکز بنائیں:
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔