ٹرمپ کا غزہ امن معاہدہ، حماس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں!
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 01 / اکتوبر / 2025
چونسٹھ ہزار انسانوں کو مروانے کے بعد بالآخر عالمی دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اسلامک عرب ممالک کی مشاورت سے اپنا بیس نکاتی غزہ امن روڈ میپ پیش کردیا ہے۔
ان آٹھ ممالک میں تین غیر عرب ترکیہ، انڈونیشیا اور پاکستان ہیں جبکہ سعودی عرب، مصر، جارڈن، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت پانچ عرب ممالک ہیں جنہوں نے پریذیڈنٹ ٹرمپ کی ٹیم، جس میں ان کے داماد جیرڈکشنز بھی شامل ہیں، کے ساتھ مل کر غزہ روڈ میپ کے اکیس پوائنٹ تیار کیے تھے۔ جنہیں اسرائیل سے منوانے کے لیے بیس نکاتی منصوبہ قرار دے دیا گیا۔ ان آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں ٹرمپ کے غزہ سیز فائر روڈ میپ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے خطے میں امن و سلامتی کے لیے ناگزیر یاکلیدی قراردیا ہے۔ جسے آگے بڑھانے کے لیے مزید بات چیت کی گنجائش بھی رکھی ہے۔
ٹرمپ کا یہ غزہ امن روڈ میپ ہے کیا؟ اس کے بیس نکات کا جائزہ لینے کے ساتھ اس امر پر بحث ضروری ہے کہ یہ کس قدر قابلِ عمل ہیں اور کیا اس کے نتیجے میں غزہ کی خونریزی واقعی بند ہوجائے گی؟ اس سے فلسطینی عوام کو کیا ملے گا؟ کیا یہ منصوبہ دو ریاستی حل میں معاونت کرے گا؟ کیا بشمول حماس عام عرب اور مسلم عوام اس کی مخالفت میں کہیں اپنی ہی ریاستوں یا حکومتوں کے خلاف کھڑے تو نہیں ہوجائیں گے؟ کیا یہ “ابراہیم اکارڈ” کی ہی توسیعی شکل نہیں ہے جو مسلم عرب ریاستوں کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف لے جائے گی؟ کیا یہ لفاظی حماس جیسی مزاحمتی تحریک کو کچلنے اور اسرائیلی خواہشات کو تحفظ دینے کے لیے تو نہیں ہے؟
سوال یہ ہے کہ خودپسند اور منہ زور اسرائیل چونسٹھ ہزار بے گناہوں کو مارتے ہوئے اپنے ٹارگٹس ہنوز حاصل نہیں کرسکا۔ کیا اب وہ مسلم فورسز کو مسلم تحریک مزاحمت سے لڑوا کر حاصل کرنا چاہتا ہے؟ جس طرح لوہے کو لوہا کاٹتا ہے کیااسی طرح اب مسلم کو مسلم کاٹے گا؟ اس امر کی کیا گارنٹی ہے کہ اسرائیل اپنے تمام یرغمالی چھڑوانے یا اپنا الو سیدھا کروانے کے بعد فلسطینیوں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے دیگر معاملات سے منحرف نہیں ہوجائے گا؟ آج اسرائیلی پرائم منسٹر نے امریکی پریذیڈنٹ کے دباؤ پر واشنگٹن سے دوحا کال ملاتے ہوئے قطری پرائم منسٹر سے اپنے ناجائز حملے کی معافی مانگی ہے۔ قطری سرزمین کی خلاف ورزی اور ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے مرنے والے کے خاندان کو معاوضہ دینے اور قطر پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ لیکن اس امر کی کیا گارنٹی ہے جب امریکی پریشر ہٹے گا، اسرائیل اپنے اس عہد کی پاسداری کرتے ہوئے آئندہ کسی دوسرے عرب ہمسائے یا مسلم ملک پر حملہ آور نہیں ہوگا؟ جیسے کہ پریذیڈنٹ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بنجمن نیتن یاہو نے ایک دم انگریزی روک کر عبرانی زبان میں اپنے ہم وطنو کو یہ یقین دہانی کروانا ضروری سمجھا کہ اس غزہ امن منصوبے کو قبول کرنے کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ ہم خطے میں دو ریاستی حل کو قبول کرنے جارہے ہیں۔
اس سے اسرائیل کے اندر عوامی سطح پر موجود اس دباؤ کا ادراک کیاجاسکتا ہے جو دو ریاستی حل کی بات بھی سننا نہیں چاہتا۔ یہ درویش سات اکتوبر 2023 سے پیہم واضح کرتا چلاآرہا ہے کہ اس بدترین سانحہ کا افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ اب دوبارہ کبھی کیمپ ڈیوڈ یا اوسلو اکارڈ جیسا کوئی معاہدہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان نہ ہوپائے گا۔ کیونکہ 7 اکتوبر کے روز محض 1200 بے گناہ اسرائیلیوں کا ہی خون نہیں ہوا تھا بلکہ ہر دو فرقوں کے بیچ رہے سہے اعتماد کا خون بھی اسی دن ہوگیا۔ نتیجتاً اب یہاں ٹونیشن تھیوری چلے گی نہ دوریاستی حل ممکن ہوپائے گا۔ اگرچہ ٹرمپ امن روڈ میپ میں 8 اسلامک عرب ممالک کی خواہش کے احترام میں انیسواں پوائنٹ یہ واضح کرتا ہے کہ جب غزہ کی تعمیر نوع میں پیش رفت ہوگی اور فلسطینی اتھارٹی اس حوالے سے اصلاحات مکمل کرلے گی، تب فلسطینی خودمختار ریاست کو قائم کرنے کے امکانات پیدا ہوجائیں گے۔ امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات شروع کروائے گا تاکہ پرامن بقائے باہمی کے لیے ایک سیاسی افق طے کیا جاسکے۔
یہ امر بہرصورت واضح رہنا چاہیے کہ غزہ امن منصوبے کا بنیادی مقصد دو برسوں سے جاری اس خونریز جنگ کا خاتمہ ہے جو اتنے بے گناہوں کی جانیں لے چکی ہے جس سے غزہ کا تورابورا بنایا جاچکا ہے۔ ہنستے بستے شہر اور قصبے کھنڈرات کے ڈھیر دکھتے ہیں۔ تباہ حال انفراسٹرکچر میں خیمہ بستیوں کی باتیں ہورہی تھیں بلکہ اس نوع کی تجاویز زیربحث تھیں کہ اگر حماس والے اپنی بقا کے لیے اپنے عوام اور یرغمالیوں کو بطور ڈھال استعمال کررہے ہیں تو کیوں نہ ان عوام ہی کو مختلف گروہوں اور ٹکڑیوں میں بانٹتے ہوئے دیگر مختلف ممالک اور خطوں میں بسانے کا اہتمام کردیاجائے۔ نتیجتاً اسرائیل غزہ ہی نہیں ویسٹ بنک کا الحاق بھی اپنی ریاست کے ساتھ کرلے۔ اب کم از کم ٹرمپ کے اس امن منصوبے میں یہ صراحت واضح طور پر کردی گئی ہے کہ بحوالہ پوائنٹ نمبر16اسرائیل نہ تو غزہ پر قبضہ کرے گا اور نہ ہی اس کے کسی حصے کو اپنے میں ضم کرے گا۔ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز جیسے ہی مرحلہ وار غزہ سے انخلا کریں گی انٹرنیشنل ڈیفنس فورس مرحلہ وار اس کا کنٹرول لیتے ہوئے یہاں استحکام قائم کریں گی۔
اگر حماس اس امن روڈ میپ کو مسترد کردے گی یا تاخیری حربے اختیار کرے گی تب بھی انٹرنیشنل ڈیفنس اورسٹیبلٹی فورسز ان خطوں میں پرامن امدادی کاروائیاں جاری رکھیں گی جو ان کے حوالے کردیے گئے ہوں گے۔ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کا اولین نکتہ ہی یہ ہے کہ غزہ کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے پاک خطہ بنایا جائے گا جو اپنے ہمسایوں اسرائیل اور مصر کے لیے خطرہ نہ ہو۔ غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی تاکہ وہاں بسنے والے عوام اس سے مستفید ہوسکیں۔ درویش یہاں یہ امر واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس غزہ امن منصوبے کا اصل نقصان نہ توکسی عام فلسطینی کو ہے اور نہ اسرائیلیوں کو، نہ ہی کسی عام عرب یا غیر عرب کو، اس کا اصل ٹارگٹ صرف اور صرف حماس ہے جس کے دہشت گردوں کو اگرچہ عام معافی اور لائف سیکیورٹی کی ضمانت دی گئی ہے۔ شق نمبر6 کے مطابق یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی ہونے کے بعد حماس کے وہ ارکان جو پرامن بقائے باہمی پر راضی ہوں اور ہتھیار ڈال دیں، انہیں عام معافی دی جائے گی جو غزہ میں رہنا چاہیں رہیں اور جو چھوڑنا چاہیں انہیں محفوظ رستہ دیاجائے گا۔ اور قبول کرنے والے ممالک جانے کی سہولت دی جائے گی۔
اس کے باوجود درویش کا گمان ہے کہ حماس چونکہ اس منصوبے کو اپنی سیاست یا طاقت کی موت سمجھ رہی ہے، اس لیے وہ اسے مسترد کردے گی۔ حالانکہ یہ اس کی بے بسی بھی ہے کہ اب اسے کماحقہ کوئی بڑی بیرونی سپورٹ حاصل نہیں رہی سوائے ایران کے جس کی رسائی پہلے ہی کم ہوچکی ہے۔ نیز ترکیہ یا قطر بھی اب سوائے محدود مالی امداد کے کوئی زیادہ تعاون کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ البتہ عوامی سطح پر عرب اور غیر عرب مسلم عوام میں موجود شدت پسند گروہ یا تنظیمیں ایک حد تک اب بھی حماس کو سپورٹ کرسکتی ہیں یا کررہی ہیں۔ اس کے باوجود حماس اپنی بقا کے لیے زیادہ دیر اپنی مزاحمتی تحریک جاری نہیں رکھ پائے گی اور خود اس کے لیے یہ نادر موقع ہے کہ جو معافی تلافی مل رہی ہے، اس موقع کو ضائع نہ ہونے دے۔ جیسے کہ شق نمبر پانچ میں واضح کیا گیا ہے کہ اپنے بیس زندہ یرغمالیوں اور چوبیس لاشوں کو وصول کرنے کے بعد اسرائیل حماس یا غزہ کے ڈھائی سو ایسے قیدیوں کو رہا کردے گا جنہیں ان کے جرائم ثابت ہونے پر اسرائیلی عدالتوں سے عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ اور 7اکتوبر کے بعد گرفتار کیے گئے دیگر سترہ سو فلسطینیوں کو بھی رہا کردیا جائے گا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہوں گے۔
ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش کے بدلے 15فلسطینیوں کی لاشیں واپس کی جائیں گی۔ شق نمبر13 کے مطابق حماس یا کسی دوسرے متشدد گروہ کا غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست یا بالواسطہ کوئی کردار نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے تمام اڈے، ڈھانچے بشمول سرنگیں اور ہتھیار بنانے کی فیکٹریاں تباہ کردی جائیں گی۔ غیر جانبدار مبصرین کی نگرانی میں اسلحہ کو ناکارہ بناتے ہوئے غزہ کو غیر مسلح کیاجائے گا۔ درویش کی نظر میں اس روڈ میپ کی سب سے خوبصورت شق 18 ہے جس کے مطابق ایک انٹر ریلیجن ڈائیلاگ کا عمل شروع کیاجائے گا تاکہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کی ذہنی کایا پلٹ کرتے ہوئے باہمی منافرتوں کو ختم کیاجائے اور ذہنی و فکری طور پر امن کے فوائد اجاگر کیے جاسکیں۔
تمامتر خونریزی و فساد کی جڑ یہی مذہبی منافرت ہے۔ جب تک اس حوالے سے شعوری بہتری و صفائی نہیں ہوتی آپ لاکھ سکیمیں بنائیں سب فیل ہوجائیں گی۔