آئین کے برساتی پاسبان
- تحریر وجاہت مسعود
- بدھ 01 / اکتوبر / 2025
ایسٹ انڈیا کمپنی مغل شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں تجارت کے نام پر ہندوستان آئی۔ اٹھارہویں صدی میں کمپنی کے سیاسی عزائم سامنے آنا شروع ہوئے۔ اس وقت عالمی سیاسی بندوبست سلطنتوں، نو آبادیات، مقامی رجواڑوں، احیائے علوم اور ابتدائی صنعتی انقلاب کا ایک پیچیدہ نقشہ تھی۔
قومی ریاست کے تصور نے ابھی جنم نہیں لیا تھا۔سلطنت عثمانیہ، ایرانی سلطنت اور مغل سلطنت کے نام پر مسلمان گھرانے حکومت کر رہے تھے۔ 1648 میں معاہدہ ویسٹ فیلیا کے ذریعے چرچ کو سیاسی اقتدار سے الگ کیا جا چکا تھا۔ اٹھارہویں صدی کا یورپ علوم اور افکار کی دنیا میں نئے آفاق دریافت کر رہا تھا۔ بحیرہ اوقیانوس کے پار برطانیہ کی امریکی نوآبادی نے 1776 میں اس اصول پر آزادی کی لڑائی لڑی کہ عوامی نمائندوں کی فیصلہ سازی میں شرکت کے بغیر ریاست کو محصولات وصول کرنے کا حق نہیں۔ 1789 میں انقلاب فرانس نے عوام کی حکومت کا تصور متعارف کروایا۔ سائنس، تجارتی اجارہ داری اور صنعتی پیداوار کی سہ جہتی رستاخیز سے قومی شناخت کا تصور پھوٹا۔ قدیم علمی تصورات کی تغلیط کے نتیجے میں عالمی نظام کو ازسرنو مرتب کرنے کی تحریکیں پیدا ہوئیں۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ ایڈم سمتھ کی کتاب ’دولت اقوام‘ اسی برس شائع ہوئی جس برس تھامس جیفرسن نے اعلان آزادی کی وہ ابتدائی سطر تحریر کی تھی ’سب انسان مساوی تخلیق کیے گئے ہیں اور انہیں زندگی، آزادی اور خوشیوں کے حصول کے لاینفک حقوق ودیعت کیے گئے ہیں‘۔ یہ بھی اتفاق نہیں کہ کارل مارکس، ڈارون، سگمنڈ فرائیڈ اور میکس ویبر ہم عصر تھے۔ یہاں سے ایک نئی اور بہتر دنیا کے خوابوں پر مشتمل آئیڈیالوجی کا عہد شروع ہوا۔ آئیڈیالوجی معیشت، سیاست،علم اور تہذیب کا ایک مبسوط نمونہ تھا۔ ان نظریات میں قدر مشترک انسانوں کی فکری آزادی، استحصال سے نجات اور تخلیقی تنوع کے مواقع پیدا کرنا تھا۔ اس دنیا میں مذہب مسلسل پسپا ہو رہا تھا اور فرد انسانی کی فکری پرواز اور عملی اثر و نفوذ بڑھ رہا تھا۔ اٹلی اور جرمنی کی ریاستی تشکیل سے قومی ریاست متعارف ہوئی۔ اس زمانے میں حق خود ارادیت، قومی شناخت اور مقامی باشندوں کے حق حکمرانی کے تصورات ہندوستان پہنچے۔
1858میں ملکہ وکٹوریہ نے ہندوستان کی حکومت سنبھالی۔ سلاطین اور مغل حکومت میں غیر ملکی حکمرانی کے باوجود مقامی دولت کو حکمران کے آبائی علاقے میں منتقل کرنے کا باقاعدہ بندوبست موجود نہیں تھا۔ برطانوی اقتدار میں قانون سازی اور پالیسی کے تحت ہندوستان کی دولت برطانیہ منتقل کرنا قرار پایا۔ 1707 میں اورنگزیب کی موت کے وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہندوستان کا عالمی معیشت میں 25 فیصد حصہ تھا جو 1947میں صرف 4 فیصد رہ گیا۔ ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد 24 فیصد تھی اور وہ آزادی کی صورت میں جمہوری بندوبست کے تحت اقلیت کا درجہ پانے سے خائف تھے۔ ہندوستانی مسلمان معیشت، تعلیم اور سیاسی اثر و رسوخ میں غیر مسلم آبادی سے بہت پیچھے تھے۔ بیسویں صدی میں تحریک آزادی شروع ہوئی تو مسلمانوں کو اپنے لیے آئینی تحفظات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تقسیم بنگال اس کشمکش کا پہلا اشارہ تھی۔ انگریز حکومت اس مذہبی تقسیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اقتدار کو ممکنہ حد تک طول دینا چاہتا تھا۔ ایک غیر فرقہ ورانہ سیاسی جماعت کانگرس تحریک آزادی میں ہراول کا کردار ادا کر رہی تھی۔ مسلم لیگ مسلمان اشرافیہ کی ایک سیاسی جماعت تھی جس کے مسلمان عوام سے کمزور تعلق کا اعتراف خود علامہ اقبال نے بھی کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں مسلمان اپنے عہد حکومت کے ناسٹیلجیا میں مبتلا تھے نیز فرقہ ورانہ اور صوبائی بنیادوں پر دھڑوں میں منقسم تھے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں سے ان کا جذباتی تعلق تھا۔ ایسے میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں مذہب کو ایک آئیڈیالوجی کے طور پر متعارف کرایا گیا۔
مسلمان مذہبی پیشوا جدید سیاست کی حرکیات سے بے خبر تھے۔ قائداعظم کے استثنا کے ساتھ کوئی مسلمان رہنما ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کی دستوری ڈھانچے میں تجسیم کی اہلیت نہیں رکھتا تھا۔ عنایت اللہ مشرقی اور ابوالاعلیٰ مودودی نے بالترتیب فسطائی اور اشتراکی نمونے پر مذہبی آئیڈیالوجی کا تصور پیش کیا۔ جمعیت علمائے ہند کی قیادت ماضی میں حریت پسند کردار کے باوجود ہم عصر سیاسی حرکیات سے لاتعلق تھی۔ ہندوستان کی تقسیم ایک سیاسی کشمکش تھی جس میں کانگرس اور مسلم لیگ کی قیادت ایک آئینی سمجھوتے پر پہنچنے میں ناکام رہی چنانچہ ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم میں پنجاب اور بنگال کے بٹوارے، تبادلہ آبادی اور فسادات جیسے عوامل کی پیش بینی ممکن نہیں تھی۔ پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت دیکھ کر شکست خوردہ مذہبی پیشواﺅں نے پاکستان کی سیاسی، تمدنی اور دستوری سمت پر اجارہ قائم کرنے کا ارادہ باندھا۔ مطالبہ پاکستان کے مخالف پاکستان میں اقتدار کے دعویدار بن بیٹھے۔ جغرافیائی طور پر غیر متصل دو منطقوں میں اقتدار کا ارتکاز مغربی پاکستان کے حصے میں آیا اس لیے آئین سازی اور جمہوریت سے بیگانگی شروع ہوئی۔
1943 تک جمعیت علمائے ہند کا حصہ رہنے والے شبیر احمد عثمانی نے 1945 میں جمعیت علمائے ہند کا اپنا دھڑا قائم کیا لیکن سیاسی قیادت کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔ دسمبر 1949 میں ان کی موت کے بعد سلیمان ندوی پاکستان تشریف لائے۔ ان مذہبی پیشواﺅں کے دستوری فہم کا اندازہ جنوری 1951 کے 22 نکات سے کیا جا سکتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں حقیقی اقتدار کے مالک عناصر خاکسار تحریک، مجلس احرار، جماعت اسلامی وغیرہ سے مہروں کا کام لے رہے تھے چنانچہ ایوب مارشل لا میں مذہبی جماعتوں کا کردار مختلف تنازعات اٹھانے تک محدود رہا۔ قدامت پسند مذہبی گروہوں کو سیاسی رسوخ کا پہلا موقع یحییٰ آمریت میں نصیب ہوا۔ بھٹو حکومت فکری طور پر جمہوریت، اشتراکیت اور مذہبی موقع پرستی میں منقسم رہی۔ ضیا الحق آمریت نے اسلام پسندی کے نام پر مذہبی گروہوں کو افغان جہاد میں استعمال کر کے اپنے اقتدار کو طوالت بخشی۔ فرقہ وارانہ تنظیمیں کھڑی کی گئیں۔ جمہوری شعور کی فصل کاٹ دی گئی اور آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا۔
آج عملی طور پر مذہبی سیاست ختم ہو چکی ہے لیکن خواب کی دنیا میں بسنے والے کچھ عناصر آئین کے ان حصوں کی بنیاد پر مذہبی حکومت کا خواب دیکھ رہے ہیں جو سرے سے جمہوری اقدار سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)