غزہ جانے والے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کا دھاوا، 200 گرفتار

  • جمعرات 02 / اکتوبر / 2025

اسرائیلی فورسز نے غزہ امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کرکے متعدد ایکٹوسٹوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اب انہیں قانونی کارروائی کے بعد ڈی پورٹ کردیاجائے گا۔

گرفتار ہونے والوں میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان سے تعلق رکھنے والے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت 37 ممالک سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں کارکن شامل ہیں۔ اسرائیلی کارروائی پر دنیا بھر میں احتجاج کیا جارہا ہے۔  اطلاعات کے مطابق اب بھی بحری جہازوں کے اس گروپ میں شامل کچھ کشتیاں غزہ کی طرف جانے کی کوشش کررہی ہیں۔

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ انہیں اسرائیلی افواج نے جہاز پر چڑھائی کے دوران حراست میں لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پاک-فلسطین فورم نے لکھا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیل نے گرفتار کر لیا ہے۔ گروپ نے مزید کہا کہ صرف ایک جہاز بچ نکلنے میں کامیاب ہوا یعنی مبصر کشتی، جس کی ذمہ داری معلومات اکٹھی کرنا اور واپس جانا تھا۔ ہمارے ایک مندوب سید عذیر نظامی مبصر کشتی پر سوار تھے اور انہوں نے سینیٹر مشتاق احمد خان کے جہاز پر اسرائیلی کارروائی کی اطلاع دی۔

ترجمان گلوبل صمود فلوٹیلا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے فلوٹیلا میں شامل 37 ممالک کے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ترجمان سیف ابو کشیک نے انسٹاگرام پر ایک ’مشن اپ ڈیٹ‘ جاری کی ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ اسرائیلی افواج نے سمندر میں 13 کشتیوں کو روک لیا ہے۔ ابو کشیک نے بتایا کہ ان کشتیوں میں 37 ممالک کے 201 سے زائد افراد سوار تھے، جن میں اسپین کے 30، اٹلی کے 22، ترکی کے 21 اور ملائیشیا کے 12 افراد شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ گرفتاریوں کے باوجود گروپ کا مشن جاری ہے اور جہاز اب بھی بحیرۂ روم کے راستے غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے رواں دواں ہیں۔ ہمارے پاس تقریباً 30 جہاز ہیں جو اب بھی قابض افواج کے فوجی جہازوں سے بچتے ہوئے غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابوکشیک نے کہا کہ وہ پُرعزم ہیں، وہ پُرجوش ہیں اور اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ صبح سویرے یہ محاصرہ توڑ سکیں اور اکٹھے پہنچ سکیں۔

دوسری جانب اسرائیل کی گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ اٹلی، یونان، اسپین، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا سمیت دیگر ممالک میں بھی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اور دھرنے دیے۔ یہ احتجاج گلوبل صمود فلوٹیلا کی اپیل پر شروع کیا گیا ہے۔ استنبول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیا اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی۔

پاکستان میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن دو بجے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔ یہ کال پاک-فلسطین فورم کی جانب سے دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ وقت گھر سے نکلنے کا ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فلوٹیلا کے حراست میں لیے گئے کارکن اسرائیل کی جانب ’پرامن طور پر‘ جا رہے ہیں۔ ایکس پر ایک بیان میں کہا گیا کہ غزہ کے وہ کارکن جو فلوٹیلا سے حراست میں لیے گئے تھے، محفوظ اور صحت مند ہیں۔  بحری کمانڈوز نے انہیں سمندر میں روک کر گرفتار کیا۔ اب حراست میں لیے گئے افراد کو یورپ واپس بھیجنے کے لیے ڈی پورٹیشن کے اقدامات شروع کیے جائیں گے۔

جنویی افریقہ کے رہنما نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈلا منڈیلا بھی گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل ہیں۔ جب اسرائیلی جہاز ان کی کشتی کے قریب یہنچے تو انہوں نے غزہ جانے کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا۔ منڈلا منڈیلا نے اس وقت ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم پوری عالمی برادری سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالیں تاکہ ہمارے لیے غزہ کا محفوظ راستہ یقینی بنایا جا سکے۔

گلوبل صمود فلوٹیلا ٹریکر کے مطابق 44 کشتیوں پر مشتمل بیڑے کی تقریباً تمام کشتیاں اسرائیلی بحریہ نے روک لی ہیں یا پھر یہ تصور کیا جارہا ہے کہ انہیں پکڑ لیا گیا ہے۔ اب صرف چار کشتیاں سمندر میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں سمر ٹائم-جونگ اور شرین بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں قانونی معاونت فراہم کرنے والی کشتیاں ہیں جن پر وکلا سوار ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی پانیوں میں داخل ہونے والی پہلی کشتی میکینو اور میرینیٹ بھی ابھی تک سفر میں ہیں۔