ٹرمپ کے 20 نکات من و عن ہمارے نہیں: اسحاق ڈار

  • جمعہ 03 / اکتوبر / 2025

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ 20 نکات ہمارے نہیں۔ غزہ میں امن بیانات سے نہیں عملی اقدامات سے ہی ممکن ہوگا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں قوم کی بھرپور نمائندگی کی، کشمیر کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ اٹھایا۔ عالمی معاملات پر گفتگو کی اور موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ اٹھایا، وہاں اسرائیل کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ ایک منصوبہ تھا کہ کچھ ممالک مل کر امریکی صدر سے رابطہ کریں اور انہیں اس میں شامل کریں ۔ 5 عرب ممالک، پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا کے صدور اور وزرائے اعظم نے اپنے وزرائے خارجہ کے ہمراہ امریکی صدر سے ملاقات کی۔ صدر ٹرمپ سے ہونے والی مسلم ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات سے ایک اور بھی ایک ملاقات ہوئی، یہ بات ذرائع ابلاغ میں نہیں آئی کیونکہ خدشہ تھا کہ اس معاملے کو خراب کرنے والے میدان میں کود پڑیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ سے ملاقات سے ایک روز قبل 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کی صدر ٹرمپ کے ساتھ اقوام متحدہ کے ہیڈاکوارٹرز کے اندر غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں ہم سب نے بات کی کہ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے وہ شرمناک ہے، اگر ہم اسے روک نہیں سکتے تو پھر جنرل اسمبلی کا کیا فائدہ۔ صدر ٹرمپ نے ہماری باتوں پر مثبت ردعمل دیا اور کہا کہ پھر اس طرح کریں کہ آپ 8 وزرائے خارجہ میری ٹیم کے ساتھ بیٹھ جائیں اور کوئی قابل عمل حل پیش کریں۔ میں پیر (گزشتہ) کو نیتن یاہو سے ہونے والی ملاقات میں نیتن یاہو اسے روکنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس ملاقات کی یہ روح تھی، اس میں کسی کا ذاتی ایجنڈا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگلے دن دوبارہ ملاقات طے ہوئی۔ قطری سفارتخانے میں ملاقات ہوئی، جسے منظر عام پر نہیں لایا گیا۔ کوئی تصویر نہیں جاری کی گئی۔ اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کی ٹیم بھی آئی، جس سے کافی طویل ملاقات ہوئی اور انہوں نے ہمیں 20 نکاتی پرپوزل دیا، جس پر ہم نے انہیں کہا کہ ہم مشاورت کے بعد اگلے روز جواب دیں گے۔ ہم نے اسی ڈرافٹ میں رہتے ہوئے اپنی چیزیں شامل کیں، جمعہ کو ہم 8 ممالک کا حتمی ڈرافٹ امریکا کو بھجوایا گیا جو ہفتے کو امریکی اتنظامیہ کو موصول ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے پیر کو 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا۔ میں اس وقت لندن سے پاکستان آرہا تھا تو میری سعودی ہم منصب سے بات ہوئی۔ سعودی وزیرخارجہ نے بتایا کہ ہماری ہنگامی چیزیں مان لی گئی ہیں لیکن کچھ چیزوں پر ہمیں دوبارہ بات کرنا پڑے گی۔ سعودی وزیر خارجہ نے ان سے کہا کہ ہم چیزوں کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ جو ہورہا ہے اسے ہونے دیں، جتنے لوگ مر رہے ہیں انہیں مرنے دیں۔ جتنی خونریزی ہورہی ہے اسے ہونے دیں۔ یا پھر دوسرا حل یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے معاہدے کو فوری نافذ ہونے دیں اور اپنا ایک مشترکہ بیان جاری کریں، جسے منظر عام پر لایاجائے اور امریکا کو بھی ارسال کیا جائے۔

اسحٰق ڈار نے بتایا کہ میں نے سعودی وزیر خارجہ سے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہمیں ایسا ہی کرنا چاہیے۔ وہ مشترکہ بیان مجھے پیر کی رات کو ملا، اس پر سعودی وزیر خارجہ سے رابطے میں ہوں۔ میں نے سعودی وزیر خارجہ  کے مشترکہ بیان میں موجود اسرائیل کا نام بھی کٹوایا ہے کہ ہم اس کا نام بھی سننا نہیں چاہتے رات ایک بجے یہ بیان فائنل ہوا۔

5 عرب اور پاکستان سمیت 3 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عربیہ، ریاست قطر اور عرب جمہوریہ مصر کے وزرائے خارجہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی سنجیدہ کوششوں کا خیرم مقدم کرتے ہیں اور امن کا راستہ تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔

بیان میں مزیدکہا گیا ہے کہ ہم خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتے ہیں۔ آٹھوں وزرائے خارجہ غزہ میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی عوام کی بے دخلی روکنے ، پائیدار امن کے قیام اور مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو قبول نہ کرنے کے امریکی اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزرائے خارجہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ تیار ہیں کہ وہ امریکا اور دیگر فریقین کے ساتھ اس معاہدے کو حتمی شکل دیں۔ اور اس پر اس طرح عملدرآمد کو یقینی بنائیں جس کے ذریعے اس خطے میں لوگوں کو امن و سلامتی میسر آسکے۔

اسحٰق ڈار نے بتایا کہ بیان کے آخری حصے میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع منصوبے کے ذریعے غزہ میں جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔ اس منصوبے میں میں غزہ میں امداد کی بلا روک ٹوک رسائی، فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے، یرغمالیوں کی رہائی، تمام فریقین کی یقینی سلامتی کا لائحہ عمل، مکمل اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور ایسے راستے کا قیام جس کے ذریعے دو ریاستی حل کے ذریعے امن کا قیام ممکن ہوسکے۔

اسحٰق ڈار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی ریاست پالیسی تو دو ریاستی حل ہی ہے، کسی ایک کی پالیسی نہ ہو تو الگ بات ہے۔ پاکستان کی پالیسی تو یہی ہے۔ مغربی کنارہ غزہ کے ساتھ فلسطینی ریاست کا حصہ ہوگا اور اسے اسرائیل کے ساتھ شامل نہیں کیا جائے گا۔ بین الاقوامی قانون کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے قیام کی یہی کلید ہے۔ یہ وہ مشترکہ بیان ہے جسے 29 ستمبر کی رات حتمی شکل دی گئی ہے۔ تمام ممالک کے وزرائے خارجہ کی ویب سائٹس پر یہ مشترکہ بیان موجود ہے اور جس میں کوما اور فل اسٹاپ کا بھی کوئی فرق نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یا تو ہماری انفرادی طور پر اتنی استعداد ہونی چاہیے کہ ہم اس جنگ کو بند کرواسکیں تو ہمیں ہر قربانی دینی چاہیے۔ لیکن اگر ہم نہیں کرسکتے تو یہی ایک راستہ تھا جہاں اقوام متحدہ ناکام ہوگئی، جہاں سلامتی کونسل ناکام ہوگئی، جہاں عرب ممالک اور اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی جو دوسرا بڑا کثیر الملکی اتحاد ہے، ناکام ہوگیا تو پھر کیا راستہ تھا؟ کیا ہم نے تماشا دیکھنا ہے۔ بیانات دینے ہیں، ٹاک شوز میں بیٹھ کر سیاست کرنی ہے یا کوئی عملی کام کرنا ہے۔ قرآن کیا کہتا ہے کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانا اور ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، یہاں تو روز درجنوں لوگ شہید ہورہے ہیں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ میں نے وزارت میں منگل کو پریس بریفنگ میں واضح طور پر اعلان کیا کہ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ ہمارا نہیں ہے۔ یہ من و عن ہمارے نکات نہیں ہیں، ہمارے مسودے میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سفر میں تھے، انہوں نے ٹرمپ کے ٹوئٹ کے جواب میں ٹوئٹ کردی۔ کسی کو الہام تو نہیں ہونا تھا کہ یہ 20 نکات وہ نہیں ہیں جو اسلامی ملکوں نے بھیجے ہیں۔ یہ حتمی نتیجہ ہے جس میں سیاست کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے لیے بہت آسان تھا کہ ہم واک آؤٹ کرجاتے اور یہ کوشش نہ کرتے۔ یہ کوشش جنرل اسمبلی اجلاس کا حصہ نہیں تھی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ تمام 8 ممالک اپنے مشترکہ بیان کا فالو اپ لیتے رہیں گے اور جب تک ہمارے مقاصد پورے نہیں ہوتے، ہم اس پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔ 20 نکاتی منصوبے کا سب سے پہلے فلسطین اتھارٹی نے خیرمقدم کیا۔ نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ فلسطین پر پاکستانی کی وہی پالیسی ہے جو حضرت قائداعظمؒ کی پالیسی تھی۔ ہم دارالحکومت القدس کی حامل آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

انہوں نے وزیراعظم کی امریکی انتظامیہ سے ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ چین ہمارا ہر موسم کا تزویراتی شراکت دار ہے۔ اس کی ایک تاریخ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ امریکا سے تعلق چین سے تعلقات کی قیمت پر نہیں ہیں اور نہ چین سے تعلقات کسی اور ملک کی قیمت پر استوار ہیں۔ ہماری ایک آزادانہ پالیسی ہے، جس میں چین کا منفرد مقام ہے۔ چین ہر موقع پر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد کئی ممالک نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں کچھ عرب ممالک ہیں اور کچھ غیر عرب اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ بہت اہم چیز ہے۔ اگر اتنے ممالک مل گئے تو یہ اتحاد مشرقی نیٹو کی صورت اختیار کرجائے گا۔ پتا نہیں اللہ کو کیا منظور ہے مگر مجھے یقین ہے کہ اگر ہماری زندگیوں میں نہیں تو ہمارے بعد وہ وقت ضرور آئے گا کہ جب پاکستان امت کی قیادت کرے گا۔

نائب وزیراعظم نے جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کرنے والے وفد میں خاتون شمع جونیجو کی شمولیت کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے وفد کے لیے وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام لیٹر آف کریڈنسی جاری کرتا ہے، جس پر میں نے دستخط کیے تھے۔ لیٹر ریکارڈ پر موجود ہے، اس میں ان خاتون کا نام نہیں تھا۔ ایک اور لیٹر جو وزیراعظم کی جانب سے بھیجا گیا جو سیکریٹری جنرل کے نام نہیں تھا۔ اس میں وزیراعظم کے خانساما، ملازمین، سیکیورٹی کے سارے بندے بھی تھے۔ اس میں ان خاتون کا نام تقریر نویسوں کے گروپ میں شامل تھا، ان خاتون کو غیر ذمہ دارانہ حرکتیں نہیں کرنی چاہیے تھیں۔

تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نائب وزیراعظم نے جو تفصیل اس وقت پارلیمنٹ کے سامنے رکھی ہے وہ خود بھی کافی الجھن کا شکار نظر آئے۔ بجائے اس کے وہ مخصوص بات کرتے وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے۔ میرا سوال یہ ہے جب آپ اتنا بڑا فیصلہ لینے جارہے ہیں تو اس فیصلے میں آپ نے پارلیمنٹ سے کوئی مشاورت کرنی تھی یا نہیں کرنی تھی؟ جب اتنا بڑا فیصلہ لینا تھا تو اس فیصلے میں وہ پارلیمنٹ سے تجاویز لیتے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے تو شاید اپنے ساتھیوں سے بھی اس بارے میں مشاورت نہیں کی۔ اور اکیلے جاکرپاکستانی قوم یا پارلیمنٹ سے مشاورت کیے بغیر بڑے بڑے فیصلے کرلیے۔

دریں اثنا، اسلام آباد پریس کلب پرپولیس کے دھاوے کے خلاف صحافیوں نے بھی پریس گیلری میں احتجاج کیا۔