حسین نقی کون ہیں؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 03 / اکتوبر / 2025
لاہور میں قائم اشاعتی ادارہ جمہوری پبلیکیشنز ایسی کتابیں چھاپتا ہے جو کتاب برائے کتاب نہیں ہوتیں،بلکہ ایک عہد کی تاریخ، فکر و سماجی کی بنتی بکھرتی لہروں کی کہانی اور پاکستان کے سیاسی و صحافتی اُفق کی داستان ہوتی ہیں۔
میں سمجھتا ہوں ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے۔ وہ کتابیں جو سرکاری معیت میں لکھی گئیں، انہوں نے تاریخ کو مسخ کیا ہے۔ تاریخ وہ ہے جو زندہ کردار اپنی آزاد فکری اور آزاد نظر سے رقم کریں۔جمہوری پبلیکیشنز نے حال ہی میں ایک ایسی ہی کتاب شائع کی ہے۔ یہ معروف صحافی، نظریاتی کارکن،ترقی پسند ادیب و سماجی ورکر حسین نقی کی سوانح حیات ہے۔”جو مجھ سے ہو سکا“ کے نام سے شائع ہونے والی یہ کتاب پاکستان میں صحافتی و سیاسی تاریخ کی ایک ایسی زندہ دستاویز ہے،جن میں عہد بہ عہد کی کہانی اپنی پوری زمینی حقیقتوں کے ساتھ محفوظ ہو گئی ہے۔
حسین نقی جیسی شخصیت کو اس کام کے لئے راغب کرنا یقینا آسان نہیں ہو گا، مگر جمہوری پبلیکیشنز میں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ناممکن کو ممکن کر دکھاتے ہیں۔میرے ذرائع کے مطابق حسین نقی اپنی سوانح عمری کو لکھنے پر آمادہ نہیں تھے تو اُنہیں یہ پیشکش کی گئی وہ اپنی یادداشتیں ریکارڈ کرا دیں انہیں کتابی شکل میں شائع کیا جائے گا۔ اس پر وہ بصد اصرار راضی ہو گئے اور اس طرح ایک ایسی سوانح عمری تیار ہو گئی جو پاکستان کے صحافتی و سیاسی، نظریاتی و سماجی افق کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
حسین نقی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے صحافت میں سچ بولنے کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے، جن کی اپنی زندگی بھی ہمہ جہت رہی ہے اور جنہوں نے طالب علموں کی سیاست سے عملی سیاست تک کے بہت سے مدو جزر دیکھیں ہیں۔ صحافت کو آمروں کے دور میں درپیش چیلنجوں کا بھی ڈٹ کر سامنا کیا، مشکلات سے بھی گزرے اور اپنی ثابت قدمی نیز بے باکی سے آزادیئ صحافت کا علم بھی تھامے رکھا۔ ایک شخص کتنا مضبوط اور باحوصلہ ہو سکتا ہے، اس کی مثال حسین نقی ہیں۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں ایسے بہت سے سچ بیان کر دیئے ہیں جن پر شاید وقت کی گرد نے پردہ ڈالا ہوا تھا۔ اس سوانح عمری کا مطالعہ اس لحاظ سے بھی دِل و نظر کو ترو تازہ کرتا ہے کہ اس میں مطمع کاری یا تصنع موجود نہیں۔ جو ہوا، جو حسین نقی سے ہو سکا، وہ سب بلا کم و کاست بیان ہوا ہے۔ سوانح عمریوں میں عام طور سوانح نگار کی اپنی شخصیت یا اپنی شخصیت کے بارے میں مبالغہ آمیزی غالب رہتی ہے، لیکن حسین نقی کی اس سوانح حیات میں واقعات، حقائق اور تاریخ کا تناظر نمایاں رہتا ہے اُن کی ذات کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
اِس کتاب کے بنیادی طور پر دس ابواب ہیں، جنہیں تاریخی اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے۔ ابواب کے عنوانات اور زمانہ کچھ اس ترتیب سے آیا ہے۔خاندانی پس منظر، وسیب، لکھنؤ اور وطنی و مذہبی شناختیں،1935-54،دوسرا باب، پاکستان میں مستقل سکونت، طلبہ سیاست اور کراچی 1954-58، تیسرا باب، ایوبی آمریت، لاہور سے تعارف اور حسن ناصر1958-60، چوتھا باب، ایوب مخالف لہر میں ترقی پسند طلباءکا کردار 1960-63،پانچواں باب، رپورٹنگ اور صحافت کا طلسم باوسیلہ پی پی آئی،1963-66،چھٹا باب، لاہور، ایوبی زوال، منتخب بنگالی قیادت کو اقتدار دینے سے انکار، ساتواں باب، ذوالفقار علی بھٹو اور اُن کا عہد، 20دسمبر 1971 تا پانچ جولائی1977، آٹھواں باب، ضیائی مارشل لا جولائی1977تا دسمبر1988، نواں باب، کچھ عشق کیا کچھ کام کیا، سجن، دی نیوز اور ایچ آر سی پی 1989 تاحال۔ دسواں باب،چند آخری باتیں۔
اب ان ادوار اور اُس کے عنوانات ہی سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ حسین نقی اپنی سوانح عمری نہیں بلکہ اپنے عمر کے ماہ و سال میں گزرنے والے حالات و واقعات کی ایک زندہ تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ فرخ سہیل گوئندی جو خود بھی خاص شخصیت کے مالک ہیں اور تاریخ و سیاست کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔حسین نقی اپنی45سالہ رفاقت کے باوصف ایک ایسا کام کرنے میں کامیاب رہے جو شاید کوئی دوسرا نہ کر سکتا۔ ہماری نسل کے لوگوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک اور اُس کے بعد ضیاالحق کے مارشل لا کو اپنے سامنے رونما ہوتے دیکھا، مگر جن گوشوں تک حسین نقی کو بطور صحافی رسائی حاصل تھی ہم جیسے لوگوں کو نہ تھی ۔اس لئے انہوں نے جو تاریخ دیکھی ہے،وہ عام آدمی نہیں دیکھ سکا۔ انہوں نے ضیا دور میں اپنی گرفتاری اور شاہی قلعہ کے عقوبت خانے میں رکھنے کا احوال بھی بیان کیا ہے۔اُن کی گرفتاری کی وجہ مضمون میں لکھا گیا ایک جملہ بن گیا تھا جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ جنرل ضیا نے حکم دیا ہے صحافیوں، طلبہ اور مزدور یونینز کا آپس میں اتحاد نہ ہونے دیا جائے۔ ضیاکا یہ خط یا آرڈر صوبوں کو بھیجا گیا تھا اور صوبوں سے اضلاع کی انتظامیہ تک پہنچا تھا، تاہم اس کی نوعیت خفیہ آرڈر کی تھی اسی لئے مضمون میں انکشاف پر بھانڈاپھوٹ گیا اور تفتیش اس بات پر ہو رہی تھی کہ اُن تک یہ مراسلہ کیسے پہنچا اور اب کہاں ہے؟
واقعات و تحیرات کی ایک دنیا ہے جو اِس کتاب میں موجود ہے۔ تلخ و شیریں حالات کی ایسی کہانی پہلے کہیں پڑھنے کو نہیں ملی۔ کتاب کے چھٹے باب میں بنگلہ دیش بننے کے عوامل کی نشاندہی اُس تناظر میں کی گئی ہے کہ منتخب بنگالی قیادت کو اقتدار دینے سے انکار کر کے اس کی بنیاد رکھی گئی۔ حسین نقی کی زندگی جتنی متنوع ہے، اتنی ہی یہ سوانح عمری بھی ہے۔ زمانہ طالب علمی سے ایک متحرک زندگی کا آغاز کرنے والے حسین نقی پھر زندگی بھر سکون سے نہیں بیٹھے۔انسانی حقوق کے لئے لڑتے رہے تو کہیں صحافتی آزادیوں کی خاطر سربکف نکلے،انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔2010میں جب وزیراعلیٰ شہباز شریف تھے تو انہوں نے عطائیوں اور ڈاکٹروں کی غفلتوں سے پیدا ہونے والے مسائل کے لئے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن بنایا تھا، تحریک انصاف کی حکومت بنی تو اُس نے کمیشن توڑ کے نیا بنایا تھا جس کے چیئرپرسن سابق جج عامر رضا تھے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل ایسوسی ایشن نے اس کمیشن کا حسین نقی کو ممبر نامزد کر دیا،جب نیا کمیشن بنا تو صدر کے انتخاب کے لئے الیکشن ضروری تھا۔ عامر رضا بغیر الیکشن کے صدر بننا چاتے تھے۔ حسین نقی اڑ گئے اور الیکشن کے ذریعے ایک سینئر ڈاکٹر کو صدربنا دیا جس کا ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا۔
بیگم یاسمین راشد کو بھی طلب کیا گیا اور عدالت لگتے ہی ثاقب نثار نے چیختے ہوئے پوچھا،یہ حسین نقی کون ہے؟ جس کی وجہ سے معزز جج عامر رضا کو استعفا دینا پڑا۔ حسین نقی سامنے آئے اور کہا جناب میں ہی حسین نقی ہوں۔ ثاقب نثار نے کہا تمہیں ہمت کیسے ہوئی اونچی آواز میں بات کرنے کی؟ اور معافی مانگنے کا کہا، حسین نقی نے معافی تو مانگ لی،لیکن عامر رضا کو ثاقب نثار چیئرمین بھی نہ بنا سکے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)