’سزائے موت‘ سے پھوٹتی امید کی کرنیں

ٹونی عثمان نے شروع سے ہی فن کو اپنی ذات  کے اظہار کا  ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ  اداکاری ، تھیٹر یا فلم ہی کے ذریعے وہ خود  کوپہچان سکتا ہے۔ خودشناسی کی کوشش  سے شروع ہونے والا یہ سفر اب ایک ایسی سطح  تک پہنچ چکا ہے جہاں   زندگی کے نصف النہار پر وہ  انسانوں کے درمیان مساوات اور انصاف کی بات اس خوبی سے بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے کہ رک کر  دیکھنا پڑتا ہے کہ یہ کون دیوانہ ہے جو ایسے وقت میں  انسانی اقدار کی بات کرتا ہے جب انسانوں کو بے دردی سے  زبح کرنے کی ایک نئی عالمی روایت پر مہر تصدیق ثبت  کی جارہی ہے۔

وہ اپنے دکھ کے اظہار کے لیے کردار تلاش کرنے  میں مہارت رکھتا ہے اور پھر اس کردار کو ایک ایسی شخصیت میں تبدیل کرنے کا ہنر جانتا ہے جو میرے آپ کے  ۔۔۔ سب کے اندر موجود رہتی ہے۔ لیکن جسے وقت کی رفتار اور زندگی کی مجبوریوں میں نظر انداز کرکے  اس کی آواز  دبانے کا عمل بھی اسی تیزی  سے جاری ہے۔  تاہم  ٹونی عثمان  اپنے ہنر و مہارت سے  ،بے مہار خواہشوں کے طوفان کے سامنے  ایسی علامتیں لا کھڑی کرتا ہے کہ ہر شخص لمحہ بھر کو رک کر سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ  میں جس دنیا کا فرد ہوں کیا اس کے لیے مفید بھی ہوں؟ میں جو انسان ہوں ، کیا انسانیت کے لیے لمحہ بھر توقف کرکے سوچتا ہوں کہ  ظلم کو کیسے روکا جائے  اور  کیسے اس  کے مختلف پہلوؤں  کے بارے میں رائے تیار کی جائے۔

معیشت کے گرد گھومتی  کارپوریٹ دنیا میں  ظلم  اب محض مزدور  کو حق سے محروم کرنے کا نام نہیں  رہا بلکہ ترقی کی چکاچوند میں اس    انسانی احساس کو ختم کرنے کا نام بھی ظلم ہی ہے جو اپنے سوا دوسروں کے بارے   میں بھی فکر مندہوتا ہے۔ ٹونی عثمان اسے ذات کے سفر اور  سوچ کے زاویوں میں تلاش کرتا ہے اور پھر اس آگہی کو عام کرنے کے لیے تھیٹر کا اسٹیج سجاتا ہے۔  وہ ایسا ہی ایک اسٹیج 9 اکتوبر کو اوسلو میں سجانے والا ہےجہاں ’سزائے موت‘ کے نام سے ایک ڈرامہ پیش کیا جائے گا جس سے پھوٹنے والی روشنی کی کرنیں مایوس و تاریک ماحول کو منور کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔  یہ مونولاگ پرفارمنس صرف ایک کردار پر مشتمل ہے  لیکن اس ایک  فرد کے ذریعے  ٹونی عثمان   نہ صرف  پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی سانحہ کو بیان کرتا ہے بلکہ اس کے بین بین  ان بنیادی مسائل کی نشاندہی بھی کی جاتی ہے جو پاکستانی معاشرے اور دنیا بھر میں بنیادی حقوق سے محروم لوگوں کا المیہ بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے  ٹونی کا کہنا ہے کہ بھٹو پھانسی چڑھا دیا گیا لیکن اس پھانسی سے پاکستان نے کچھ سیکھا نہیں ہے بلکہ اب عمران خان کی صورت میں ایک نئے کردار کو عوام کی آواز بلند کرنے کے جرم میں نشان عبرت بنایا جارہا ہے۔

ٹونی عثمان نے اپنے کیرئیر کا آغاز ایک اداکار کے طور پر کیا لیکن   فنی اظہار کا یہ طریقہ اس کے اندر اٹھنے  والے طوفان کا احاطہ  کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔ اسی لیے اس نے ڈائریکشن میں قدم رکھا ۔ اب وہ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کوئی کردار  ڈھونڈنے  ،اس کی صفات بیان کرنے اور اس مطالعہ میں  انسانوں کی ضرورتوں کا ادراک کرنے کے لیے شاید ڈائیریکشن کا شعبہ بھی پوری طرح  معاون نہیں ہوسکتا۔  اس لیےوہ کہانی لکھ کر اسے خود ہی اسٹیج پر ڈائریکٹ کرکے ایک ایسی مکمل تصویر بنانے کی کوشش کررہا ہے جس میں ایک  فرد سے  لے کر  پورے معاشرے تک  کے خد و خال  بیان ہوں۔ وہ اپنی ہدایت میں اسٹیج کیے جانے والے ڈرامے کو ایک ایسا آئینہ بنانے کی خواہش رکھتا ہے  جس میں انسانیت جھلکتی ہو اور انسان کے وقار،  احترام اور مساوی حقوق جیسی بنیادی اقدار کی عکاسی ہو  سکے۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو  کی   پھانسی کو بنیاد بنا کر پیش کیے جانے والے اس ڈرامے کے ذریعے ٹونی عثمان نے ایک طرف بھٹو کی پوری سیاسی و نجی زندگی کا  احاطہ کیا ہے جہاں وہ صرف ایک لیڈر  ہی نہیں بلکہ انسان کے طور پر بھی دکھائی دیتے ہیں تو دوسری طرف   قومی و عالمی سطح پر جمہوریت  و انسانی حقوق کے لیے ہونے والی جد و جہد  کو بھی بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’سزائے موت‘ میں بھی  ٹونی عثمان نے ان بنیادی مسائل کو موضوع بنایا  ہے جن کی وجہ سے دنیا بھر میں جمہوریت اور انسانی حقوق خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔

ٹونی  عثمان کا بچپن ایک ایسے پاکستان میں گزرا جہاں    ذوالفقار علی بھٹو  پاکستانی عوام کو بااختیار بنانے  کا نعرہ لگا کر ملک میں ایک ایسی تبدیلی لانے کی جد و جہد کا آغاز کرچکے تھے جس میں جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بجائے عوام کو اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہوتا۔ اسی خواہش و کوشش کے نتیجے میں بھٹو ملک کو ایسا  متفقہ  جمہوری  آئین دینے میں کامیاب ہوئے جو تمام تر مشکلات کے باوجود آج بھی پاکستان میں جمہوریت کی سب سے طاقت ور  امید  ہے اور اس پر عمل کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اسی جد وجہد و خواہش کے نتیجے میں بھٹو کو سزائے موت دی گئی اور ان کی  آواز ہمیشہ کے لیے خاموش کرانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عوام کو شعور دینے والے کسی لیڈر کو ماضی  کے دھندلکوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا  البتہ طاقت کے زور پر  خود کو مسلط کرنے والے عناصر ضرور حرف غلط کی طرح فراموش کردیے جاتے ہیں۔

ایسے ماحول میں ذہنی پرورش پانے والے ٹونی عثمان کو بچپن میں ہی ناروے جیسے جمہوری ملک میں آنے اور یہاں تعلیم پاکر کام کرنے کا موقع ملا۔  تاہم وہ اس ملک کو کبھی اپنے دل سے نکال نہ پائے جہاں ان کا جنم ہؤا تھا  اور جہاں بھٹو جیسے ذہین اور عوامی لیڈر نے شعور اور خود آگہی کی ایک طاقت ور مہم کا آغاز کیا تھا۔   ٹونی عثمان کی سوچ کو ایک طرف ناروے میں قائم جمہوری نظام اور مساوی حقوق کے ماحول نے  جلا  بخشی  تو د وسری طرف سعادت حسن منٹو کی تخلیقات نے انہیں انسانوں اور ان کے مسائل و دکھوں کے بہت قریب کردیا۔ ایک حساس  انسان اور فنکار کے طور پر انہوں نے  اس احساس کو اپنی طاقت بناکر تبدیلی کے لیے اپنی سی کوشش جاری رکھی۔

ٹونی عثمان  فن کو ایک ہتھیار  سمجھتے ہیں جسے عالمی سطح پر انصاف و مساوات کے حصول کے لیے  استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے خود اپنی تخلیقات میں ہمیشہ اس پیغام  کوسامنے لانے کی کوشش کی۔  تاہم ان کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ وہ پاکستانی ماحول، سیاسی تجربوں یا  فن پاروں سے حاصل  ہونے والے شعور کو آفاقی  زاویے سے پیش کرنے اور ایک فرد یا ایک جگہ کے دکھ کو  میرا ، آپ کا اور سب کا  دکھ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔  انہوں نے یہ ہنر شاید منٹو کے مسلسل مطالعے اور ان کی تخلیقات کے عمیق  جائزے  سے حاصل کیا ہے ۔یا پھر  انسانوں سے ان کی محبت اس حد تک گہری ہے کہ وہ کسی  عام سے وقوعہ کو بھی  ایک ایسا آئینہ بنا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس میں ہر شخص کو اپنی تصویر دکھائی دیتی ہے۔

ان کا یہ  ہنر  نئے ڈرامہ ’سزائے موت‘  میں بجا طور سے دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔  ٹونی عثمان کا کہنا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے کردار کو چننے کی ایک وجہ تو  ان سے وابستہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم ترین باب ہے لیکن اس کے علاوہ بھٹو کی شخصیت، نشست و برخاست اور لب و لہجہ میں جو ڈرامائی انداز موجود تھا، وہ کسی بھی  فنی تخلیق کے لیے بے حد دلچسپ  اور  دلکش ہے۔ بھٹو کی شخصیت کے ان پہلوؤں نے بھی انہیں   ’سزائے موت‘ کا مسودہ لکھنے پر

 مائل کیا۔

ایک حقیقی فنکار کے طور پر ٹونی عثمان  انسانوں سے تعلق  کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اسی لیے ان کی نئی تخلیق و پیش کش ’سزائے موت‘ بھی کسی ایک سیاسی لیڈر یا شخصیت کی  کہانی پیش کرتے ہوئے درحقیقت عوامی مسائل اور ایک بہتر دنیا کے خواب کا ایک علامتی اور طاقت ور اظہارہے۔