غزہ امن معاہدے پر حکومت پاکستان کی لغزشیں
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 03 / اکتوبر / 2025
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آج قومی اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے پالیسی بیان میں ایک بار پھر اصرار کیا ہے کہ ٹرمپ کا بیس نکاتی منصوبہ ان تجاویز سے مختلف ہے جو پاکستان سمیت آٹھ عرب ممالک نے امریکہ کو پیش کی تھیں ۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس وقت اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی ادارے غزہ میں امن قائم کرانے میں ناکام ہوچکے ہیں ، اس لیے صدر ٹرمپ کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
اسحاق ڈار کے اس بیان کے تھوڑی دیر بعد ہی امریکی صدر ٹرمپ نے حماس کو ان کا بیس نکاتی منصوبہ اتوار کی شام تک تسلیم کرنے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ’ اگر حماس نے اس منصوبہ کو منظور نہ کیا تو غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ ایسی تباہی ہوگی جوکسی نے دیکھی یا سنی نہیں ہوگی‘۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ وضاحت اور عذر تراشی کی ہے کہ ٹرمپ امن منصوبہ کے بارے میں پاکستان اکیلا نہیں ہے بلکہ دیگر سات عرب و مسلم ممالک بھی اس کے ساتھ شامل ہیں جو ٹرمپ کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے اسے فوری امن کا واحد ذریعہ مانتے ہیں۔ اس طرح پاکستانی حکومت نے اپنے تئیں، اس معاہدے پر پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں سامنے آنے والی تنقید کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔
اس حوالے سے دو نکات پر غور کرنا اہم ہوگا۔ ایک تو یہ کہ معاہدے میں حماس اور اسرائیل کے علاوہ کسی ملک کو فریق نہیں بنایا گیا اور نہ ہی کسی دوسرے عرب یا مسلم ملک کی طرف سے ان تجاویز کی توثیق کی ضرورت محسوس کی گئی ہے۔ البتہ اسرائیل کی منظوری کے لیے وزیر اعظم نیتن یاہو کو وائٹ ہاؤس بلا کر تمام تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔ پھر صدر ٹرمپ نے ان کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس منعقد کی۔ اس حوالے سے دوسرا قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اس معاہدے میں شامل بیس نکات پر کسی متبادل رائے یا تجاویز کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوموار کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنی تجاویز کو ایک طے شدہ اور حتمی معاہدے کے طور پر پیش کیا اور حماس کو 72 گھنٹے کے اندر اسے تسلیم کرنے کا مشورہ نما حکم دیا۔ اب اسی لب و لہجہ میں ایک نئے بیان میں حماس کو مکمل تباہی کا انتباہ دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ اتوار کے بعد ان کے پاس معافی مانگنے کا بھی کوئی موقع نہیں ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے بیان اور الفاظ کے چناؤ اور اس کے مقابلے میں پاکستانی نائب وزیر اعظم کے پالیسی یا وضاحتی بیان کو پیش نظر رکھا جائے تو ان میں تضاد محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ معاہدے کو حتمی قرار دے کر اس پر ہوبہو عمل کرنے کا حکم صادر کررہے ہیں جبکہ اسحاق ڈار کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے علاوہ اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر نے ایک وضاحتی بیان میں ٹرمپ کے منصوبہ سے اختلاف کیا ہے اور اس میں کچھ امور شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے ہونے والی سرکاری مواصلت کے مطابق پیش کردہ بیس نکات کے بارے میں کسی وضاحت یا اضافے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے میں قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے لیڈر اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر کی اس بات سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ ’ نائب وزیراعظم تفصیلات بتاتے ہوئے خود بھی کافی الجھن کا شکار تھے۔ واضح بات کرنے کی بجائے، وہ آئیں بائیں شائیں کرتے رہے‘۔ اسد قیصر نے بجا طور سے یہ سوال بھی کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ایسے اہم اور نازک معاملہ پر ہائی اسٹیک اجلاسوں میں شریک ہونے اور فیصلے کرنے سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
قومی اسمبلی میں اسحاق ڈار کے طویل بیان کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستان اور دیگر 7 مسلم ممالک غزہ سے اسرائیلی فوجوں کے فوری انخلا کا وعدہ چاہتے تھے ۔ اس کے علاوہ اس خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بعد فلسطینی ریاست کے قیام کی بات صاف طریقے سے معاہدے میں شامل کی جائے۔ البتہ ٹرمپ حکومت نے ان نکات کو معاہدے میں شامل نہیں کیا۔ اسی بنیاد پر دنیا بھر میں ان تجاویز پر نکتہ چینی ہورہی ہے اور اسی بنیاد پر پاکستانی حکومت سے یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اس نے ایک ایسے معاہدے کے ساتھ کیسے اتفاق کرلیا جس میں ان دونوں نکات کے بارے میں ابہام موجود ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم بار بار اصرار کرتے ہیں کہ وہ کبھی دوریاستی حل کو نہیں مانیں گے۔ اسی طرح وہ جنگ بندی یعنی ٹرمپ تجاویز کو ماننے کے بعد بھی غزہ کی ’سکیورٹی‘ سے دست بردار ہونے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ایسے میں تو امریکی تجاویز کا ایک ہی مقصد باقی رہ جاتا ہے کہ حماس کو معاملات سے بے دخل کیا جائے، اس کی رہی سہی قوت کو ختم کرکے غزہ کا کنٹرول امریکی صدر کی نگرانی میں قائم ہونے والی کمیٹی کے سپرد ہوجائے۔ گویاغزہ کے باشندوں اور فلسطینیوں کو بالواسطہ طور سے اسرائیل کی کالونی بن کر رہنے کا آپشن دیا گیا ہے۔
اپنی نام نہاد امن تجاویز پر اصرار کرتے ہوئے ٹرمپ فلسطینیوں کویہ لالی پاپ دے کر خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ غزہ کے باشندے وہاں رہ سکیں گے اور ان کی زندگیوں کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ گویا آزادی سے اپنے وطن میں زندہ رہنے کے بنیادی انسانی حق کو بھی جزوی طور سے احسان کے نام پر عطا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس میں فلسطینیوں کی خود مختاری اور آزادی کا حق چھین لیا گیا ہے۔ بلکہ یہ واضح کیاجارہا ہے کہ فلسطینیوں کی خود مختاری کی بات کرنے والے کسی بھی گروہ کا حشر بھی حماس جیسا ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا تازہ بیان نہ صرف فلسطینیوں کی نسل کشی کی توثیق کے مترادف ہے بلکہ امریکی صدر واضح کررہا ہے کہ وہ خود اسرائیل کے ساتھ مل کر غزہ کے شہریوں کو نیست و نابود کردے گا۔ ایسے میں یہ سمجھنا ناقابل فہم ہے کہ اسحاق ڈار یا دیگر سات مسلمان ممالک کے لیڈر کیسے ان تجاویز کو غزہ اور فلسطینیوں کے لیے آخری امید قرار دے سکتے ہیں؟
اسحاق ڈار کی وضاحت میں یہ عنصر بھی غائب ہے کہ انہوں نے 8 ممالک کے جس مشترکہ بیان کا حوالہ دیا ہے، اس کا اعلان کسی دوسرے ملک کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔ گزشتہ چند روز کے دوران دنیا بھر کے میڈیا میں غزہ کے بارے میں ٹرمپ پلان زیر بحث ہے لیکن اس پرکسی عرب یا مسلمان ملک کا کوئی تبصرہ دکھائی نہیں دیا۔ بلکہ یہی بیان سامنے آئے ہیں کہ یکے بعد دیگرے متعدد مسلمان ممالک اس منصوبے کی توثیق کررہے ہیں۔ ان 20 نکات پر بے پناہ خوشی کا اظہار کرنے والوں میں پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سر فہرست تھے۔ اب اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انہیں بیان جاری کرتے ہوئے یہ معلوم نہیں تھا کہ صدر ٹرمپ کے حتمی نکات مسلمان ممالک کی پیش کردہ تجاویز کے مطابق نہیں ہیں۔ البتہ حیرت ہے کہ وزیر اعظم نے خود ایک غلط بیان واپس لینے یا اس کی وضاحت جاری کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
آٹھ مسلمان ممالک کے نام نہاد وضاحتی بیان میں ضرور فلسطینی ریاست اور اسرائیلی فوجوں کے فوری انخلا کی بات کی گئی ہے لیکن یہ بنیادی مطالبات ٹرمپ کی توصیف میں استعمال کیے گئے الفاظ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگر بطور خاص انہیں تلاش نہ کیا جائے تو اس نام نہاد اختلافی بیان سے بھی یہی اندازہ ہوتا ہے کہ درحقیقت مسلمان ممالک ٹرمپ کی امن دوستی اور غزہ میں جنگ بندی کی سرتوڑ کوششوں پر بے حد ممنون و مسرور ہیں۔
اسحاق ڈار نے اس مشترکہ بیان کے جو حصے قومی اسمبلی کے سامنے پڑھ کرسنائے ، وہ درج زیل ہیں: ’اردن، متحدہ عرب امارات، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، جمہوریہ ترکیہ، مملکت سعودی عربیہ، ریاست قطر اور عرب جمہوریہ مصر کے وزرائے خارجہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ان کی سنجیدہ کوششوں کا خیرم مقدم کرتے ہیں اور امن کا راستہ تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ہم خطے میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ شراکت داری کو اہمیت دیتے ہیں۔ آٹھوں وزرائے خارجہ غزہ میں جنگ کے خاتمے، غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی عوام کی بے دخلی روکنے ، پائیدار امن کے قیام اور مغربی کنارے کو ضم کرنے کے اسرائیلی اقدام کو قبول نہ کرنے کے امریکی اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وزرائے خارجہ اس یقین کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ تیار ہیں کہ وہ امریکا اور دیگر فریقین کے ساتھ اس معاہدے کو حتمی شکل دیں۔ اور اس پر اس طرح عملدرآمد کو یقینی بنائیں جس کے ذریعے اس خطے میں لوگوں کو امن و سلامتی میسر آسکے۔وزرائے خارجہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک جامع منصوبے کے ذریعے غزہ میں جنگ کے خاتمے کی امریکی کوششوں کا ساتھ دیں گے۔ اس منصوبے میں غزہ میں امداد کی بلا روک ٹوک رسائی، فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے، یرغمالیوں کی رہائی، تمام فریقین کی یقینی سلامتی کا لائحہ عمل، مکمل اسرائیلی انخلا، غزہ کی تعمیر نو اور ایسے راستے کا قیام جس کے ذریعے دو ریاستی حل کے ذریعے امن کا قیام ممکن ہوسکے‘۔
پاکستان کے وزیر خارجہ نے قومی اسمبلی کے ارکان اور پاکستانی عوام کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان ٹرمپ کے بیس نکات سے متفق نہیں ہے۔ لیکن جس اختلافی بیان کا انہوں نے حوالہ دیا ہے ، وہ صدر ٹرمپ کی نیک نیتی کے سرٹیفکیٹ اور ان تجاویز کی مکمل توثیق کا ہی اظہار ہے۔ اگر یہ بیان ٹرمپ کی تجاویز کو ناکافی کہنے کے لیے تیار کیا گیا تھا تو اس میں واضح ہونا چاہئے تھا کہ وزرائے خارجہ کو کن نکات سے اختلاف ہے اور کون سی تجاویز اسرائیل اور فلسطینیوں کے پر امن بقائے باہمی کے لیے ضروری ہوں گی۔
نائب وزیراعظم البتہ یہ بتا کر پاکستانی عوام کو خوش کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے اصرار پر اس مشترکہ بیان میں سے اسرائیل کا نام نکلوا دیا گیا تھا کیوں کہ ہم یہ نام سننا بھی نہیں چاہتے۔ حیرت ہے کہ ایک ذمہ دار ملک کا وزیر خارجہ ملکی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایسا کمزور اور عالمی اخلاقیات سے کم تر بیان دے رہا ہے۔ پاکستانی حکومت کو یہ بتانا چاہئے کہ عوام کو اسرائیل دشمنی کا چورن بیچ کر ، وہ کیسے کسی امن معاہدے میں باوقار شراکت دار کا کردار ادا کرسکتی ہے؟