آزاد کشمیر میں معاہدے کے بعد ہڑتال ختم ہوگئی

  • ہفتہ 04 / اکتوبر / 2025

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین معاہدے کے بعد پانچ روز سے جاری ہڑتال ختم ہو گئی ہے اور معمولاتِ زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

معاہدے کے بعد کشمیر کے مختلف علاقوں میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہو رہی ہے۔ کشمیر کے مختلف اضلاع کو دارالحکومت اسلام آباد سے ملانے والی اہم شاہرایں بھی کھول دی گئی ہیں تاہم سڑکوں پر رش انتہائی کم دیکھائی دے رہا ہے۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر نے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ہڑتال اور مظاہروں میں تین قیمتیں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی نے تین دن سوگ کا اعلان کیا ہے اور کشمیر بھر سات اکتوبر کو یومِ تشکر منایا جائے گا۔

وفاقی حکومت کے مذاکراتی وفد نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر کے ساتھ حتمی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ حکومت کے مذاکراتی وفد کی جانب سے آگاہ کیا گیا ہے کہ مظاہرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، تمام سڑکیں کھل گئی ہیں اور یہ امن کی فتح ہے۔ آزاد کشمیر زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔

دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کو خراج تحسین پیش کیا، اراکین کی انفرادی اور اجتماعی کاوشوں کو سراہتے ہوئے بھرپور شاباش دی۔

انہوں نے اسے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ امن کا قیام اور حالات کا معمول پر آجانا خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سازشیں اور افواہیں آخر کار دم توڑ گئیں اور تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے الحمدللہ۔ شہباز شریف نے مذاکرات کی کامیابی پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اراکین کا بھی شکریہ ادا کیا اور امن کے قیام پر مبارکباد دی۔

یاد رہے کہ 3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد تھی۔ پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔