حماس کی جزوی رضامندی کے بعد امن مذاکرات کی تیاریاں

  • ہفتہ 04 / اکتوبر / 2025

حماس کی طرف سے جنگ بندی پر جزوی رضامندی اور یرغمالیوں کو رہا کرنے کے اعلان کے بعد اسرائیل نے مذاکراتی ٹیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کریں تاکہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر پیش رفت کی جا سکے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز اور چینل 12 کے مطابق، ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آج ہی ’روانگی کے لیے تیار رہیں‘۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کہاں کا سفر کریں گی۔ طبی ذرائع کے مطابق غزہ شہر صبح سے اب تک تین الگ الگ فضائی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ ایک حملے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ معلومات الشفا ہسپتال کے ذرائع نے فراہم کی ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی زمینی گاڑیاں اور ڈرونز (کواڈ کاپٹرز) فائرنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ توپ خانے کے گولے ان عمارتوں پر گرے ہیں جہاں اسرائیلی فوج کارروائیاں کر رہی ہے۔

فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد (پی آئی جے) جو حماس کی اتحادی ہے اور جس پر سات اکتوبر کے حملے میں شرکت کا الزام ہے، نے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے پر حماس کے ردعمل کی تائید کی ہے۔

حماس نے غزہ میں باقی تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم اس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے کئی نکات پر مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس کے حلیف عسکری گروہ اسلامی جہاد کے پاس بھی ماضی میں کچھ اسرائیلی یرغمالی موجود تھے۔ اپنے بیان میں اسلامی جہاد نے کہا ہے کہ ’اسلامی مزاحمتی تحریک ’حماس‘ کی جانب سے ٹرمپ کے منصوبے پر دیا گیا جواب فلسطینی مزاحمتی قوتوں کے مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے۔‘

دریں اثنا پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ غزہ میں امن کے لیے ہونی والی حالیہ پیش رفت سے جنگ بندی کی اُمید روشن ہوئی ہے جو پائیدار امن کے لیے راہ ہموار کرے گی۔

سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری بیان شہباز شریف نے غزہ میں امن کے معاملے پر ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تسلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے جاری کردہ بیان نے جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے ایک موقع فراہم کیا ہے، جسے ہمیں کسی صورت ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔ یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی بلا تعطل فراہمی ممکن بنائی جائے۔ پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کے لیے ایک معتبر سیاسی عمل کا آغاز کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اسلام آباد اس عمل میں تعمیری اور بامقصد کردار ادا کرتا رہے گا۔

فلسطینی تنظیم حماس نے غزہ میں قیام امن کے لیے صدر ٹرمپ کے منصوبے کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے ہی منصوبے پر اپنا بیان جاری کیا تھا۔ بیان میں مکمل معاہدے پر اتفاقِ رائے نہیں کیا گیا لیکن اس میں کچھ اہم شقوں کو قبول کیا گیا ہے جنہیں مغربی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ حماس غزہ امن منصوبے کے تحت تمام اسرائیلی مغویوں کو رہا کرنے اور ہلاک ہونے والوں مغویوں کی باقیات واپس کرنے پر تیار ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ ’فلسطینیوں کی قومی اتفاق رائے اور عرب اور اسلامی حمایت‘ کی بنیاد پر غزہ کا انتظام آزاد فلسطینی باڈی کے حوالے کرنا اُن کے اپنے معاہدے کی تجدید ہے۔ لیکن امن منصوبے کے دیگر نکات پر مزید بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ حماس نے اپنے بیان میں غیر مسلح ہونے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔ حماس نے غزہ میں آئندہ بننے والی حکومت میں مزید کوئی کردار نہ ہونے پر بھی اتفاق نہیں کیا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ ان نکات پر مزید بات چیت کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں۔

بی بی سی کی چیف بین الاقوامی نامہ نگار لیز ڈوسیٹھ کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی بھی امریکی صدر ٹرمپ کو انکار نہیں کرنا چاہتا ہے چاہے وہ حماس ہی کیوں نہ ہو۔ اُن کے مطابق بہت احتیاط سے لکھا گیا حماس کا یہ بیان قطر، مصر اور ترکی جیسے ثالثوں کے بے حد دباؤ کے بعد جاری کیا گیا ہے لیکن یہ ایک مشروط اور نامکمل بیان ہے۔ اس میں صرف چند اہم مسائل پر بات کی گئی ہے جس میں تمام یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا خاتمہ، اور غزہ پر ٹیکنوکریٹس کی حکومت کے قیام کو تسلیم کرنا شامل ہے۔