خونریزی یا غزہ امن منصوبہ

عرب اسرائیل تنازع کوئی آج تو پیدا نہیں ہوا۔ یہ پون صدی کا قصہ ہے۔ دوسری جنگِ عظیم اختتام پذیر ہونے کے بعد برٹش ایمپائر نے 1917 کے بالفورڈیکلریشن کی مطابقت میں اپنے عہدوپیمان کی پاسداری کرتے ہوئے 14مئی 1948 کو محض اسرائیلی ریاست قائم کی۔

برطانیہ نے جس طرح 15اگست 1947 کو جنوبی ایشیا میں دو قومی نظریہ کے تحت ہندوستان کا بٹوارا کرتے ہوئے پاکستان قائم کروایا، بالکل اسی طرح ارضِ کنعان میں اسرائیل اور فلسطین کے ناموں سے دو ریاستیں اناؤنس کیں۔ اور یہ سب یواین کی چھتری تلے کیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسرائیل کو جو کچھ ملا اسی کو یہود نے نعمت ایزدی گردانتے ہوئے محنت اور سچی لگن سے عظیم تر بنانے کی جدوجہد شروع کردی۔ جبکہ فلسطینیوں نے اپنے لوگوں پر دھیان دینے یا ان کا مستقبل بہتر بنانے کا سوچنے کی بجائے اپنے دماغوں میں یہ دھن پال لی کہ ہم نے کسی بھی طرح اپنے ہمسایہ کو نہیں چھوڑنا۔ اسے سکون سے جینے نہیں دینا، اس نفرت اور دشمنی کا یہ نتیجہ نکلا کہ 1948 میں انہیں جو کچھ بخوشی مل رہا تھا، آج وہ اس سے بھی کہیں کمتر پر آچکے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انہیں پون صدی قبل اپنی جو الگ فلسطینی ریاست مل رہی تھی، آج بالفعل انہی خطوں میں اس کے قیام کی کوئی ٹھوس صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ ہم نفرت و حقارت یا غصے و جنوں کی فضا سے نکل کر ٹھنڈے پیٹوں غور کریں تو اس کی وجہ یا کارن
سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی۔

اس کی وجہ ہے عدم برداشت اور جنونیت، جو جتنا بڑا خودسراور جنونی ہوتا ہے، ہماری مسلم سائیکی میں وہی ہمارا ہیرو یا محبوب لیڈر کہلاتا ہے۔ جو عقل و شعور کی بات کرے، وہ ہمارے روایتی مسلم مائنڈ سیٹ میں بکاؤ مال یا دشمن کا ایجنٹ قرار پاتا ہے۔ پی ایل او یا الفتح کے لیڈر یاسر عرفات کی مثال ہی ملاحظہ فرمالی جائے۔ جب تک وہ شخص حسد، منافرت اور جنونیت کے زیراثر ٹیررازم کے بم پھوڑتا رہا، یہودی نوجوانوں بچوں بوڑھوں اور خواتین پر خودکش حملے کرواتے ہوئے ان کے چیتھڑے اڑاتا رہا ،وہ ہم سب کا ہیرو اور جدوجہدِ آزادی کا معمار کہلایا۔ حالانکہ ان تمام حرکات سے وہ فلسطینی عوام کے لیے نہ حقیقی خوشیاں لا سکا نہ ان کے مفاد میں کچھ حاصل کرسکا۔ پھر جب مصری صدر انورسادات کی پیروی میں اُس نے دہشت گردی کو خیرباد کہتے ہوئے مکالمے کی راہ اپنائی، اضحاق رابن کی طرف پیار محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو دکھی فلسطینی عوام کو ایک نوع کا استحکام نصیب ہوا۔

اوسلوا کارڈ کے تحت فلسطینی اتھارٹی کا قیام وقوع پذیر ہوا لیکن جنونیت کے مائینڈ سیٹ کو کیسے یہ امن و سلامتی کی راہ گوارا ہوسکتی تھی۔ کہا گیا کہ پی ایل او، یاسر عرفات اور محمود عباس بک گئے ہیں۔ یہ فلسطینیوں کے غدار ہیں۔ یوں ایک نئی جنونی تنظیم حماس کا ظہور ہوا جس کا فاؤنڈر شیخ احمد یٰسین اخوان المسلمون کی سوچ کا حامل تھا۔ ان لوگوں نے ٹیررسٹ کاروائیوں کو نئے ہتھکنڈوں سے پیش کرنا شروع کیا، ساتھ ہی عرفات اور اس کی پی ایل او کو اسرائیلی ایجنٹ گردانتے ہوئے اس پر حملے شروع کردیے۔ ایک موقع پر تو یاسر عرفات ان کے ہاتھوں قتل ہونے سے بمشکل بچے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف فلسطینی اتھارٹی دو ٹکڑوں میں بٹ گئی بلکہ دنیا بھر میں اس کی ساکھ دو ٹکے کی ہوگئی۔

یاسرعرفات پی ایل او یا فلسطینی اتھارٹی کو جو کچھ مل رہا تھا، وہ اس سے مشروط تھا کہ آپ لوگ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی سلامتی پر حملہ آور نہیں ہوں گے۔ پی ایل او چیف نے یہ معاہدہ اپنی ذاتی حیثیت سے نہیں فلسطینی صدر یا قائد کی حیثیت سے کیا تھا جس کی پاسداری تمام فلسطینیوں پر عائد ہوتی تھی۔ لیکن حماس نے دہشت گردی کی اپنی دکان چمکانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں کو اپنے جوتوں کی نوک پر رکھا۔ اور خون خرابے کا نیا طوفان اٹھادیا۔ 7اکتوبر 1923 کو یومِ کپور کے روز حماس والوں نے اسرائیل کے اندر گھس کر جس وحشت و دہشت کا مظاہرہ کیا اس کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ اگرچہ وقتی طور پر تو اس روز غزہ میں حماس کی طرف سے خوشیوں کے شادیانے بجائے گئے مگر ان ناعاقبت اندیش لوگوں نے ذرا ادراک نہ کیا کہ اس پر اسرائیلی ردِعمل کتنا شدید آۓ گا۔ اور پھر جب وہ آیا تو ان لوگوں نے فوری مظلومیت کی چادر اُڑھ لی۔

اب اس دہشت کی قیمت غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام چکا رہے ہیں۔ ان کی جو بربادی ہورہی ہے، وہ پوری دنیا کو غمناک کیے ہوئے ہے۔ غزہ کے عوام چکی کے دوپاٹوں میں پس رہے ہیں۔ ایک طرف اسرائیل ہے اور دوسری طرف حماس۔ حماس کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ غزہ کے عوام پر کیا بیت رہی ہے۔ 7اکتوبر سے قبل اہل غزہ کو خود اسرائیل کی طرف سے کیا کیا سہولیات میسر تھیں، ذرا اس کی تفصیلات ملاحظہ فرمالیں۔ بجلی، پانی، خوراک سب کا بڑا حصہ اسرائیل کی طرف سے میسر تھا۔ ہزاروں فلسطینی روزگار کیلیے روزانہ اسرائیل جاتے اور اپنے بال بچوں کے لیے روزی کماکرملاتے۔ صورتحال مزید بہتری کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن پچھلے دو برسوں میں ان لوگوں کی زندگیاں برباد ہوکر رہ گئی ہیں۔

متشدد جہادی تنظیم حماس اپنی کارروائیاں ڈالنے کے لیے عام فلسطینیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتی ہے ہسپتالوں کے تہہ خانوں میں بارودخانوں سے لے کر سکول کالجز، مساجد، چرچز اور دیگر پبلک مقامات تک کو وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں جب اسرائیلی ٹارگٹ حملے ہوں گے تو کون مریں گے؟ فلسطینی عوام۔ عام لوگوں کو بتایا ہی نہیں جاتا کہ حماس والے کس طرح پرہجوم آبادیوں میں اپنی کمین گاہیں بناکر عوام کو مرواتے ہیں۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں عرب ممالک کی معاونت سے امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیم نے خونریزی کو ختم کروانے کے لیے غزہ امن منصوبہ کے خدوخال تیار کیے جن پر مابعد آٹھ اسلامک عرب ممالک کی قیادتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کو قائل کیا گیا۔ اب کہاجارہا ہے کہ مصر، ترکی اور قطر کی قیادت دوحا میں موجود حماس قیادت کو یہ سمجھارہی ہے کہ خون خرابے سے عام لوگوں کو جس طرح پہلے کچھ حاصل نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی کچھ نہیں ملے گا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ تم لوگ عام فلسطینی عوام کے دکھوں کا ادراک کرلو اور اپنی انا اور ذاتی مفادات کا مسئلہ نہ بناؤ۔ یہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر تم لوگوں کی جان بخشی بھی ہوسکتی ہے اور فلسطینی عوام کے دکھوں کا مداوا بھی۔

امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے دباؤ ڈالتے ہوئے اسرائیلی پرائم منسٹر سے جس طرح اپنا امن روڈ میپ منوایا ہے، حماس کے ہمدرد تینوں ممالک کا فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اسی طرح حماس قیادت پر دباؤ ڈالتے ہوئے اس سے غزہ امن منصوبہ منوائیں۔ بصورتِ دیگر جو تباہی آگے چل کر ہونی ہے، اس کے اثرات فلسطینی عوام کے علاوہ پوری عرب یا مسلم ورلڈ تک پہنچیں گے۔ جس طرح انڈونیشیا کے پریذیڈنٹ نے اپنے بیس ہزار ٹروپس غزہ بھیجنے کی پیشکش کی ہے، اسی طرح پاکستان، ترکی، مصر اور جارڈن بھی اپنی فورسز یہاں بھیج سکتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کی لڑائی غزہ میں اسرائیلیوں سے نہیں حماس سے ہوگی۔ ایسی نوبت آنے سے قبل ہی کیوں نہ ان نام نہاد جہادیوں کو دباؤ ڈالتے ہوئے نتھ ڈال لی جائے۔

ہمارے جو لوگ اس امریکی امن منصوبہ پر مختلف النوع اعتراضات اٹھارہے ہیں، بالخصوص اس حوالے سے کہ اس میں دو ریاستی حل کی گارنٹی نہیں ہے۔ ان پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ یہ امن منصوبہ بنیادی طور پر دوبرسوں سے جاری غزہ جنگ یا خونریزی کو رکوانے کے لیے ہے اور اسے اسی تناظر میں ملاحظہ کیاجائے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کے عزیز کو آگ لگی ہو تو آپ فوری طور پر اس آگ کو بجھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس بھائی کو کیا ملنا ہے یا کون سی جگہ کس کی ہے؟ یہ بعد کی باتیں ہیں اس وقت بھڑکی ہوئی آگ کا اصل ایندھن غزہ کے بے بس فلسطینی عوام بن رہے ہیں۔ اصل ایشو ان کا ہے، اس امن منصوبے کا یہ انسانی پہلو سامنے رکھتے ہوئے اس پر تنقید کی جانی چاہیے۔

یہ امر بھی واضح رہے کہ جب پورا مغرب، پوری مسلم اور عرب ورلڈ بالخصوص خود فلسطینی اتھارٹی اور اس کے صدر محمود عباس اس امن روڈمیپ کی حمایت کر رہے ہیں تو دوسرے کون ہوتے ہیں مخالفت کرنے والے۔ بیس نکاتی منصوبے میں جس نوع کی چینجز کا نام نہاد فیک پروپیگنڈا کیاجارہا ہے اس کی نوعیت قطعاً جوہری نہیں اس پر بحث اگلی نشست میں۔