لندن کا بِرک لین اور کری فیسٹیول
- تحریر فہیم اختر
- اتوار 05 / اکتوبر / 2025
لندن دنیا کے اُن چند شہروں میں سے ہے جو تاریخ، ثقافت، فنون، تعلیم اور جدیدیت کا حسین امتزاج پیش کرتے ہیں۔ یہ شہر نہ صرف برطانیہ کا دارالحکومت ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک نمایاں ثقافتی اور فنی مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
لندن کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ رومیوں نے اس شہر کی بنیا د "لونڈینیئم "کے نام سے رکھی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ لندن نے کئی نشیب و فراز دیکھے، لیکن ہر دور میں اس کی اہمیت کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی گئی۔ آج بھی شہر کے قدیم حصوں میں وہ تاریخی عمارتیں اور آثار موجود ہیں جو اس کے شاندار ماضی کی گواہی دیتے ہیں، جیسے برطانوی میوزیم، ٹاور آف لندن، بِگ بین اور ویسٹ منسٹر ایبی قابلِ ذکر ہیں۔
لندن دنیا کے مختلف ممالک، زبانوں اور ثقافتوں کا سنگم ہے۔ یہاں ہر قوم اور مذہب کے لوگ آباد ہیں جو مل جل کر ایک متنوع معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔ شہر میں مختلف ثقافتی میلوں، نمائشوں اور تقریبات کا انعقاد ہوتا رہتا ہے، جیسے نوٹنگ ہل کارنیول، چائنیز نیو ائیر فیسٹیول اور تھیمز فیسٹیول وغیرہ۔ یہ تقریبات لندن کے کثیرلثقافتی رنگوں کو نمایا ں کرتی ہیں۔ لندن کو فنون لطیفہ کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے مشہور تھیٹر، گیلیریاں اور موسیقی کے مراکز موجود ہیں۔ ویسٹ اینڈ تھیٹر میں شیکسپئیر، برناڈ شا، اور جدید مصنفین کے ڈرامے پیش کیے جاتے ہیں۔ نیشنل گیلری، ٹیٹ ماڈرن اور رائل اوپیرا ہاؤس جیسے ادارے لندن کی فنی عظمت کے علمبرداد ہیں۔ ادبی لحاظ سے بھی لندن نے بے شمار نامور لکھاری پیدا کیے، جن میں ولیم شیکسپئیر، چارلس ڈکنز، ورجینا وولف اور جی کے چیسٹرٹن شامل ہیں۔
ہمارے رفیق اور ہمدرد جناب شاہد چودھری نے کئی ہفتے قبل ہم سے لندن کے بِرک لین کری فیسٹیول،(ہندوستانی سالن فیسٹیول)میں چلنے کی درخواست کی تھی۔ ہم نے بھی حامی بھر لی اور ان سے درخواست کی کہ ہمیں عنقریب ضرور یاد دلا دیں۔اسی درمیان میں تیونس چھٹیاں گزارنے چلا گیا اور واپس آتے ہی چودھری صاحب نے ہمیں یاد دلایا کہ اتوار 19 ستمبر کو بِرک لین کری فیسٹیول کا آخری دن ہے۔ میں نے خوشی خوشی برِک لین کری فیسٹیول میں شرکت کے لیے اتوار 19 ستمبر کو گیارہ بجے آلڈ گیٹ ایسٹ انڈر گراؤنڈ اسٹیشن پر ملنے کا وعدہ کیا۔
ستمبر کے مہینے میں لندن کی ہوا میں خنکی گھلنے لگتی ہے۔ سورج اگر چہ بادلوں کے پیچھے سے جھانک کر مسکرارہا تھا مگر اس کی دھوپ میں وہ گرمی نہ تھی جو دل کو حرارت دے۔سرد ہواؤں نے میرے ارادوں کو جیسے منجمد سا کر دیا تھا، پھر بھی میں لندن کی اس دلکش سردی سے کوئی شکوہ نہ کر سکا۔ کیونکہ اس کے لمس میں ایک عجیب سی خوبصورتی، ایک خاموش سی شاعری چھپی ہوئی تھی۔ میں بھی گرم کپڑے پہن کر، صبح کے دس بجے گھر سے نکلا اور کچھ ہی فاصلے پر رینس پارک سے ویمبلڈن جانے والی بس پر سوار ہو کر چل دیا۔ لگ بھگ بیس منٹ کا سفر طے کر کے ہم ویمبلڈن پہنچ گئے۔ویمبلڈن پہنچ کر لندن انڈر گراؤنڈ کے ڈسٹرکٹ لائن پر سوار ہو کر لگ بھگ چالیس منٹ میں آلڈ گیٹ ایسٹ اسٹیشن پہنچا۔ اسٹیشن سے باہر نکلا تو چودھری صاحب ہمارا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ہم دونوں بغل گیر ہوئے اور باتیں کرتے ہوئے برِک لین کی طرف چل دئیے۔
چودھری صاحب کو لندن میں رہتے ہوئے پچاس برس سے زیادہ ہوگئے ہیں اور انہوں نے اُن دنوں کا ذکر چھیڑ دیا جب وہ لندن کی گلیوں میں بھٹکتے تھے۔میں بھی چودھری صاحب کی باتوں کا خوب لطف لینے لگا اور گاہے بگاہے سوالات کرکے لندن کے متعلق اپنی معلومات میں اضافہ بھی کرتا رہا۔جوں جوں ہم برِک لین کے قریب ہونے لگے، ہمیں محسوس ہونے لگا کہ آج یہاں کوئی تقریب ہونے والی ہے۔ برِ ک لین کی گلیوں کے نام انگریزی زبان کے علاوہ بنگالی زبان میں بھی لکھے ہوئے تھے۔ بنگلہ دیشیوں سے علاقہ بھرا ہوا تھا۔ زیادہ تر دکانوں کے مالک بنگلہ دیشی تھے۔ جس میں مٹھائی، کھانے پینے کے علاوہ موبائل اور سبزی بیچنے اور خریدنے والے زیادہ تر بنگلہ دیشی تھے۔ تاہم ان کے بیچ انگریز بھی خوب کھاتے پیتے دکھائی دئیے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ برِک لین کے رہائشی تو بنگلہ دیش کے ہیں تاہم یہاں سیر و تفریح کے لیے زیادہ تر لوگ انگریز اور سیاح تھے۔پوری اسٹریٹ رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہم نے بھی دال پوری، کولکتا سنگھاڑا، روس گولا، مغلئی پراٹھا، برفی اور مسٹی دوئی کا خوب لطف لیا اور بھیڑ بھاڑ میں ایک دکان سے دوسری دکان کا چکر لگاتے رہے۔
لندن کا برِک لین فیسٹیول شہر کی مشہور ترین ثقافتی تقریبات میں سے ایک ہے جو ہر سال مشرقی لندن کے علاقے برِک لین میں منعقد ہوتا ہے۔ تاہم آخری برِک لین کری فیسٹیول مکمل طور پر 2016 میں ہوا تھا۔ برِک لین کری فیسٹیول کا مقصد برِک لین کے بہترین کری (جسے ہم سالن کہتے ہیں) کی نمائش کرنا ہے۔ یہ فیسٹیول لندن کی کثیر الثقافتی زندگی، رواداری اور فن و ذائقے کے امتزاج کا خوبصورت مظہر ہے۔ برِک لین اپنی متنوع کمیونٹی، رنگین بازاروں، خوشبودار کھانوں اور تاریخی پس منظر کے باعث لندن کی ثقافت کا دل کہلاتا ہے اور فیسٹیول میں یہ علاقہ زندگی سے بھر پور منظر پیش کررہا تھا۔لندن کا برِک لین کا علاقہ صدیوں سے ہجرت کرنے والوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں پہلے فرانسیسی ہُوگینٹ بُنکر آباد ہوئے، پھر یہودی تاجر آئے اور بیسویں صدی میں بنگلہ دیشی کمیونٹی نے یہاں اپنی جڑیں مضبوط کیں۔ اسی لیے آج برِک لین کو بنگلہ ٹاؤن بھی کہا جاتا ہے۔ جہاں جنوبی ایشیائی ثقافت، ذائقہ دار کھانوں اور روایتی فنون کا گہرا رنگ نمایاں ہے۔ فیسٹیول اسی تنوع اور ہم آہنگی کا جشن منارہا تھا۔
ہم نے محسوس کیا کہ برِک لین کری فیسٹیول صرف ایک میلہ نہیں، بلکہ بین الثقافتی ہم آہنگی اور برطانیہ میں اقلیتوں کی شمولیت کی علامت ہے۔ یہ فیسٹیول مختلف قومیتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتا ہے جہاں سب ایک دوسرے کی روایات، ذائقے اور موسیقی کو سراہتے ہیں۔ جس سے لندن کی بردباری، محبت اور تنوع کی روح جھلکتی ہے۔برِ ک لین کری فیسٹیول لندن کے اُن میلوں میں ہے جو نہ صرف دل کو خوش کرتے ہیں بلکہ یہ احساس بھی دلاتے ہیں کہ ثقافت انسانوں کو جوڑنے کا سب سے خوبصورت ذریعہ ہے۔ برِک لین کی گلیوں میں سجے رنگ، کجانوں کی خوشبو اور موسیقی کی لے اس بات کی علامت ہیں کہ لندن آج بھی ایک ایسا شہر ہے جہاں دنیا بھر کی ثقافتیں ایک ساتھ سانس لیتی ہیں اور یہی اس کی اصل خوبصورتی ہے۔
دوپہر کے تین بج چکے تھے، مگر وقت کا احساس ہم سے کہیں دور جا چکا تھا۔ برِ ک لین فیسٹیول کی رنگینیوں، خوشبوؤں اور لذتوں نے ہمیں اس طرح اپنے سحر میں جکڑ رکھا تھا کہ لمحوں کا گزرنا محسوس ہی نہ ہوا۔ ہم چودھری صاحب کے ساتھ ایک دکان سے دوسری دکان تک گھومتے رہے، نت نئے ذائقے چکھے اور یادوں کے جھولے میں جھولتے ہوئے ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزوں خرید ڈالیں۔ آخر کار ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے رخصت ہوئے اور جب واپسی کا وقت آیا تو دل نے مسکرا کر کہا "چلو، لوٹ کے بدھو گھر کو چل دیے! "۔ یوں ہنسی، ذائقے اور رنگوں سے بھرا برِک لین کری فیسٹیول اپنے اختتام کو پہنچا مگر اس کے خوشگوار لمحات دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ کے لیے بس گئے۔