غزہ فلوٹیلا پر سوار ایک پاکستانی واپس کراچی پہنچ گئے
غزہ فلوٹیلا میں سوار ایک پاکستانی عزیز نظامی پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ تاہم سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی کے لیے وزارت خارجہ سرگرم ہے۔ امید ہے کہ وہ ایک دو روز میں رہا ہوجائیں گے۔
رہائی کے بعد عزیر نظامی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم بین الاقوامی پانیوں میں غزہ سے 99 ناٹیکل میل دور تھے جب اسرائیلی کشتیوں اور جہازوں نے ہمارا راستہ روکا، ہم وہاں سے پیچھے مڑگئے‘ پاکستانی شہری عزیر نظامی کا جو غزہ کی طرف سفر کرنے والے گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی ایک کشتی میں سوار تھے۔ دنیا بھر سے جی ایس ایف کی کشتیوں میں سوار 470 افراد کو اسرائیلی فورسز نے اپنی حراست میں لیا۔ عزیر نظامی کا کہنا ہے کہ وہ اور ان کی کشتی میں سوار افراد اسرائیلی فورسز کو ’چکمہ‘ دینے میں کامیاب رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم جب وہاں سے پیچھے مُڑے تو ایک اسرائیلی بحری جہاز نے 40، 45 منٹ ہمارا پیچھا کیا اور ہمارے پیچھے ڈرون بھی لگائے۔ عزیر نظامی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وہ لوگ وہاں سے اپنی کشتی میں قبرص پہنچے اور اس کے بعد قطر کا ہوائی راستہ اختیار کرتے ہوئے اتوار کو پاکستان آئے۔
عزیر نظامی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مشتاق احمد خان ان کی کشتی میں سوار نہیں تھے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے مشتاق احمد خان کے اسرائیل کی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اردن کے شہر عمان میں پاکستانی سفاتخانے کی مدد سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی باحفاظت واپسی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اردن کی حکومت کی مدد سے ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دنوں کے دوران یہ عمل مکمل کر لیا جائے گا۔
دریں اثنا اسرائیل نے کہا ہے کہ تحویل میں لیے گئے 170 افراد کو ڈی پورٹ کردیا گیا ہے۔ جی ایس ایف میں شامل کشتیاں غزہ امدادی سامان پہنچانے گئی تھیں لیکن وہ اپنے مشن میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ عزیر نظامی کہتے ہیں کہ امدادی سامان پہنچانے کی کوشش ایک علامتی مشن تھا۔ ہمارا مقصد اقوامِ عالم کی توجہ غزہ اور اس کے لوگوں کی طرف مبذول کرانا تھا۔ 45 ممالک کے شہری ہمارے ساتھ تھے اور دنیا بھر کی حکومتیں ہمارے سفر کے سبب متحرک ہوئی ہیں۔ ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوئے ہیں۔