پیپلز پارٹی کا پنجاب حکومت سے معافی مانگنے کا مطالبہ
پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بارے میں سینیٹ میں شیری رحمان کی تقریر کے بعد پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کیا۔
سینیٹ کے اجلاس میں کارروائی کے ابتدا میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت وفاق کو استحکام کی شدید ضرورت ہے۔ سرحدوں پر پھر میلی آنکھ کی بات ہو رہی ہے۔ جس پر ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ پنجاب کے وزرا کو ’صوبائی کارڈ کھیلنے‘ پر معافی مانگنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیلاب کے باعث 60 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جن کی اکثریت پنجاب سے تعلق رکھتی ہے۔ کئی علاقے زیرِ آب ہیں۔ آفات کے دوران متفق ہونے کی بجائے پنجاب اور سندھ میں الفاظ کی جنگ حکومتی اتحاد کو متاثر کر رہی ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ’جب سرخ لکیر عبور ہوتی ہے، جب کوئی پنجاب کارڈ استعمال کر کے کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ (بلاول بھٹو) نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تحفظ نہیں کیا اور آصفہ بھٹو نے بھی ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ یہ باتیں تنقید کے دائرے سے آگے نکل جاتی ہیں اور تمیز کے دائرے کو بھی عبور کر جاتی ہیں۔‘
پنجاب حکومت نے پارلیمانی لیڈروں کی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے صرف اتنا کہا تھا کہ آپ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوشل سکیورٹی کی منتقلی کا سب سے موثر طریقہ ہے۔ تاہم اسے مداخلت سمجھا گیا۔ معافی مانگنے میں کسی کی عزت نفس میں کمی نہیں آتی۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کوئی صوبہ کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ سب پاکستانی ہیں۔ اس وقت صوبائی کارڈ نہ کھیلیں۔ ہر شخص فوری ریلیف کا مستحق ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر معافی نہیں مانگی جاتی تو سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے۔ ’ہماری سپورٹ کو نظر انداز نہ کریں۔ ہم کچھ توڑنا نہیں چاہتے۔
سینیٹر شیری رحمان کی اس تقریر کے بعد ایوان سے پیپلز پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کر دیا۔
پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی طرف سے ’انگلی توڑنے‘ کے بیان کے بعد سے سندھ اور پنجاب کے وزرا کے درمیان سخت الفاظ کا تبادلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز سندھ کے وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت وفاق کو ’نشانہ‘ بنا رہی ہے۔ اس کے جواب میں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ سندھ کے وزیر وفاق اور پنجاب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اگرچہ سندھ میں پیپلز پارٹی اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومتیں قائم ہیں مگر وفاق میں یہ دونوں جماعتیں اس حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں جس کے سربراہ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔
سینیٹ میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شیری رحمان کی تقریر کے جواب میں کہا کہ جمہوریت میں احتجاج ہر کسی کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں دو صوبوں کے حکومتی عہدیداروں کے بیانات کے حوالے سے سینیٹ کے اجلاسوں کو اثر انداز نہ ہونے دیں۔ اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو مجھے اس پر تکلیف ہے۔
وزیر قانون نے کہا کہ پانی کی تقسیم ارسا کے معاہدے کے تحت ہی ہو گی۔ ہم کوشش کریں گے کہ اپنے دوستوں کو منا کر لائیں۔ سیاست میں نرمی گرمی چلتی رہتی ہے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ پنجاب حکومت نے بہت محنت کرکے سیلاب سے نمٹا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) کے درمیان حالیہ بیان بازی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں نرمی گرمی چلتی رہتی ہے، یہاں موسم تھوڑا گرم ہے لیکن سردی آنے والی ہے۔ اگر کسی کے الفاظ سے دل آزاری ہوئی ہے تو بطور سیاسی کارکن مجھے دکھ ہے۔ صدر زرداری بزرگ سیاستدان ہیں وہ صلح کار کا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کے سینیٹ اجلاس سے کے واک آؤٹ کرنے پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن خوش نہ ہو، کوشش کریں گے کہ دوستوں کو منا کر واپس لے آئیں۔ صدرمملکت نے اپنا آئینی کردار ادا کیا، کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہیے تھی۔