نفرتوں کو فروغ کیسے ملتا ہے؟
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 06 / اکتوبر / 2025
کہا جاتا ہے کہ انسان ایک آدم کی اولاد ہیں، اس طرح انسانوں کے بیچ مضبوط رشتہ قائم ہے۔ پھر انسانوں کے درمیان یہ نفرتیں کیسے در آتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں؟
یہاں لالچ کا ذکر آتا ہے کہ ہر انسان یوں تو پیدائشی طور پر لالچی ہے اور شکی ہے۔ تجسس کے پیچھے دوڑتا ہے، اسی لالچ اور تجسس نے انسانوں کے پہلے جوڑے یا انسانوں کے ماں باپ کو جنت سے نکالا تھا۔ جب پہلے انسان کو اتنا بڑا دھچکا لگا اور اسے ایک غلطی نے جنت سے اٹھا کر اندھیروں کی زمین پر لا پھینکا تو اس کے بعد انسان کو سمجھ جانا چاہیے تھا اور دوبارہ ایسی غلطی کرنے سے باز رہ کر دوبارہ جنت میں داخل ہو سکتا۔ مگر حضرت انسان کی مٹی ایسی ہے کہ وہ لالچ اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے۔ لہذا آدم کی اولاد ایک خاتون کے اوپر لڑ پڑی اور ایک بھائی نے دوسرے بھائی کا قتل کر ڈالا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ حضرت انسان نے جنت سے دھکا کھا کر بھی کچھ نہ سیکھا یا اس کے لالچ اور تجسس میں کمی نہ آئی۔
آپ چھوٹے سے بچے کی حرکات پر غور کریں گے تو اس میں بھی انسانی خصلت کی جھلک نظر آئے گی۔ اس دنیا کی تاریخ نفرتوں، جنگوں، دشمنیوں اور نسل کشیوں سے بھری پڑی ہے۔ دنیا میں دو عالمی جنگوں کے علاوہ ہزاروں علاقائی یا محدود جنگوں کا ذکر ہے۔ اگر ان جنگوں کی وجوہات پر غور کیا جائے تو دو بڑی وجوہات میں ایک لالچ اور دوسری غلط فہمی سے پیدا کی گئی۔ نفرت نظر آتی ہے۔ اگر انسان اپنے لالچ پر کچھ قابو پا لے اور یہ سوچ لے کہ ہر انسان کی ضروریات میرے ہی طرح کی ہیں اور ہم سب نے اس زمین پر زندگی گزارنی ہے، اس لیے اپنے حصے تک محدود رہنا ہی سب کے لیے مناسب ہے۔ تو پھر انسان صرف اپنی محنت اور اپنے حصے پر انحصار کرے گا۔
مہذب معاشروں میں یہ بات کافی حد تک سمجھ لی گئی ہے لیکن نفرت بہت ہی بری چیز ہے۔ انسان نفرت میں اندھا ہو کر اپنے حواس کھو بیٹھتا ہے۔ نفرت کا آغاز تو کسی تعصب، کسی بے انصافی، کسی ظلم یا کسی ایک واقعہ سے ہوتا ہے مگر پھر اس نفرت کو ہوا دینے والی قوتیں ایسا پھیلاتی ہیں کہ یہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ ماضی بعید میں دنیا کے کئی سانحات نفرت کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر رونما ہوئے۔ فرعونوں کی طرف سے دو ہزار سال تک بنی اسرائیل پر ڈھائے گئے۔ مظالم کی تاریخ موجود ہے۔ ہلاکو اور چنگیز کے حملوں اور جرمنی میں یہودیوں کے اوپر کیے جانے والے نازیوں کے مظالم سے کون واقف نہیں؟ ماضی قریب میں خلیج اور افغانستان میں نفرتوں کی وجہ سے کیے گئے مظالم تو ہماری نئی نسل نے بھی دیکھے ہیں۔ آج جو کچھ غزہ میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہو رہا ہے، اس سے ایک بار پھر ثابت ہوا کہ حضرت انسان کچھ نہیں سیکھا۔ ورنہ یہودیوں کو نازیوں کے مظالم یاد ہونے چاہئیں تھے اور ایک اور نفرت پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔
افغانستان میں کسی ایک واقعہ میں ایک نسل کے لوگوں نے دوسری نسل کے کچھ افراد کو کنٹینر کے اندر بند کر کے ظلم سے قتل کیا تھا اور ایک دوسرے واقعے میں کچھ لوگوں نے چند زندہ افراد کی کھالیں اتاریں۔ یہ دونوں بہیمانہ واقعات چند لوگوں کی انتہائی گھٹیا اور غیر انسانی سوچ کا مظہر تھے۔ مگر اس کے بعد یہ دو قومیں جو ایک ہی ملک کی باسی تھیں کے درمیان ایسی نفرت پیدا ہوئی جو اب تک قائم ہے۔ اس تمہید کا مقصد کشمیری اور پاکستانی عوام اور اداروں کو باور کرانا ہے کہ چند افراد کی بربریت اور گھٹیا سوچ کو بنیاد بنا کر نفرت پھیلانا درست نہیں ہوتا۔ بلکہ اس نفرت کو ختم کرنے کے لیے ان عوامل پر غور کیا جانا چاہیے جن کو بنیاد بنا کر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ کچھ شرپسندوں کو نفرت پھیلانے کا موقع ملتا ہے۔
آزاد کشمیر میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے پیچھے عوام کی دہائیوں پر محیط محرومیوں، بے انصافیوں اور فرسودہ نظام کی بے اعتدالیوں کا ہاتھ ہے۔ جب عوام تنگ آ کر احتجاج کے لیے نکلتے ہیں تو پھر ان کے جذبات مختلف ہوتے ہیں۔ سب کو قابو رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں تو کوئی تربیت بھی نہیں ہے جو لوگوں کو اتنی سمجھ ہو کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔ یہ بات کشمیریوں کو ماننا ہوگی کہ ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو نفرت کو ہوا دیتے ہیں، جو بلا وجہ پاکستان اور پاکستانی اداروں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں ایسے عناصر پر نظر رکھنا چاہیے، قوم پرستی یا اپنی الگ ریاست کے قیام کی سوچ یا نظریہ رکھنا حق ہے۔ اگر کشمیر میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو کشمیر کو خود مختار ریاست بنانے کے متمنی ہیں تو یہ ان کی سوچ ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس آڑ میں کسی دوسرے ملک سے نفرت کا کوئی جواز نہیں ہے۔
پاکستانی عوام اور کشمیری عوام کے درمیان صرف رشتہ نہیں بلکہ ہم ایک ہیں، اگر پاکستانی حکمرانوں اور اداروں کی زیادتیوں کی بات کی جائے تو وہ صرف کشمیریوں کے ساتھ نہیں ہوئیں، پاکستان میں رہنے والے سب لوگوں کے ساتھ ہوئیں ہیں۔ بنگالیوں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں تو وہ الگ ہوئے۔ ایک عرصہ سندھیوں کو وفاق سے گلے شکوے تھے۔ آج بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں بھی بہت لوگ اپنے اداروں سے شاکی ہیں۔ دودھ کی نہریں تو پنجاب میں بھی نہیں بہتی ہیں، گجرات اور راولپنڈی کے لوگوں کے بھی وہی مسائل ہیں جو بنوں، نوشہرہ، نواب شاہ، سکھر، بلوچستان کے شہروں اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے ہیں۔ جنوبی پنجاب، زیریں سندھ، قبائلی علاقے اور بلوچستان کے حالات آزاد کشمیر سے کہیں برے ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگ بیرون ملک سے لائی گئی خوشحالی کی وجہ سے بہت بہتر ہیں۔ آزاد کشمیر کے لوگوں نے پاکستان کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، پاکستان کے لوگوں نے کالاباغ ڈیم نہیں بننے دیا مگر کشمیریوں نے اپنے آباو اجداد کی قبروں کی پرواہ کی، نہ اپنے آبائی گھروں کو برباد ہوتے دیکھ کر ملال کیا بلکہ خوشی سے منگلا ڈیم بنوا دیا۔ پھر اس کی اپ ریزنگ بھی خوشی سے قبول کی جس سے 1100 میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔
نیلم جہلم اور جاگراں پاور پلانٹ اس کے علاوہ ہیں، جن سے لگ بھگ ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے۔ المختصر ہم ایک ہیں۔ ہم چند لوگوں کے ناپسندیدہ اعمال کی بنیاد پر نہ تو الگ ہو سکتے ہیں، نہ اپنے درمیان نفرت کو جگہ بنانے دیں گے۔ سب کو مثبت سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا۔ حکمرانوں کو بھی اپنی روش بدلنا ہوگی۔