اور کچھ نہیں تو نعرے ہی بدلو
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 06 / اکتوبر / 2025
78 برسوں میں عوام کو سیاستدانوں اور معاشرے کے بااثر طبقوں نے بہت سے چورن بیچے ہیں۔چورن بیچ بیچ کے پون صدی گزاری جا سکتی ہے، یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔ مگر ایک چورن ایسا بھی ہے، جس پر کم ہی نظر جاتی ہے،وہ ہے نعروں کا چورن۔
کئی نعرے تو ایسے ہیں وہ آج بھی عوام کے حالات کی طرح پون صدی میں نہیں بدلے۔ میں جب طالب علم تھا تو میں نے بھی یہ نعرے لگائے۔یہ نعرے لگاتے ہوئے لگتا تھا کہ بس اب حالات بدلے۔ مگر صاحبو! یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد کے مصداق حالات تو کیا بدلنے تھے، یہ نعرے بھی نہیں بدلے۔مجھے یاد ہے کہ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، نہیں چلے گی، کا نعرہ میں نے سکول کے زمانے میں سنا تھا۔جب کچہری چوک میں ایوب خان کے خلاف طلبہ مظاہرہ کر رہے تھے،جس میں جودت کامران نام کا ایک طالب علم پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ پچپن سال گذر جانے کے باوجود یہ نعرہ آج بھی ہر اُس موقع پر گونجتا ہے،جب لاٹھی گولی کی سرکار اپنا کام دکھاتی ہے۔
ابھی چند روز پہلے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب پر پولیس نے دھاوا بول کر لاٹھی گولی کی سرکار کا نظارہ کرایا تو وہاں بھی صحافیوں نے اسی نعرے کے ذریعے اپنی بھڑاس نکالی۔اس کا واضح مطلب یہ ہے اس نعرے میں کوئی جان نہیں،لاٹھی گولی کی سرکار گویا آج بھی چل رہی ہے جس کے خلاف یہ نعرہ لگایا جاتا ہے۔اب تو خیر حالات کافی بدل گئے ہیں۔سرکار کے پاس اور بہت سے حربے آ گئے ہیں،جو کل تک نعرے لگوا رہے ہوتے ہیں وہ اگلے دن اپنے ہی مطالبات اور مظاہرین کا سودا کر کے اپنا ذاتی اُلو سیدھا کر لیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ نعرہ بے توقیر ہوا ہے۔میں اب جب بھی یہ نعرہ سنتا ہوں تو میری ہنسی چھوٹ جاتی ہے، کیونکہ اُسی دوران لاٹھیاں بھی چل جاتی ہیں اور بات آنسو گیس کے شیلوں تک آ جاتی ہے۔
عوام کو بھڑکانے کے لئے نعروں کی چٹنی چورن ہر دور میں ہر جماعت بیچتی ہے یہ اور بات ہے کہ اپوزیشن میں رہ کر جس چورن کو بے دھڑک استعمال کرتی ہے، اقتدار میں آ کر وہی چورن بیچنے والوں پر لاٹھی گولی کا استعمال بھی کرتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں چلتی ہی لاٹھی گولی کی سرکار ہے۔یہاں جمہوریت کا چلن تو ہوتا نہیں، مذاکرات کی نوبت تو بہت بعد میں آتی ہے،جب حالات کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں،سرکار کے پاس پہلا حل تو یہی ہوتا ہے کہ پولیس کو شیلڈز پہنا کر میدان میں اتار دیا جائے۔ حتیٰ کہ یہ فارمولا غیر سیاسی تنظیموں کے مظاہرین پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اساتذہ،خواتین حتیٰ کہ لاہور میں نابیناؤں کو بھی اس فارمولے کی زد میں آتا دیکھا ہے۔ اب تو عوام بھی اس بات کے عادی ہو گئے ہیں کہ باہر نکلے تو لاٹھیاں بھی پڑیں گی اور گولیاں بھی کھانی پڑ سکتی ہیں۔ مگر اِس کے باوجود جسے دیکھو اپنی تحریک یا احتجاج کا چورن سب سے پہلےاس نعرے کو آگے رکھ کر بیچتا ہے۔
نعروں کا ذکر آیا ہے تو ایک اور نعرہ بھی ہاٹ کیک بنا ہوا ہے۔اس نعرے کی خوبی ہے کہ اسے کوئی بھی طبقہ اپنا نام شامل کر کے استعمال کر سکتا ہے۔کیا صحافی،کیا وکلا، کیا تاجر اور کیا سیاسی ورکر سب سے پہلے اس نعرے کی گردان کرتے نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد والے واقعہ کے بعد پورے ملک میں صحافیوں نے احتجاج کیا تو یہی نعرہ لگا، ”زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں“۔پہلی بار دیکھا گیا ہے کہ زندہ لوگوں کو یہ نعرہ لگا کر بتانا پڑا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ یہ ہمارے وکلا کسی چھوٹے موٹے افسر یا کسی جج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھی سب سے پہلے یہی نعرہ لگاتے ہیں ”زندہ ہیں وکلا زندہ ہیں“۔دوسری طرف یہ حال ہے کہ ملک میں عدلیہ سخت دباؤ میں ہے۔ جج صاحبان اپنے لئے انصاف مانگ رہے ہیں،مگر وکلا اپنے زندہ ہونے کا ثبوت ہی نہیں دے رہے۔
عام آدمی حیران ہے کہ یہی وکلاافتخار محمد چودھری کے لئے کیسے نکلے تھے۔آج ایک کی بجائے کئی جج دہائی دے رہے ہیں،مگر اس ایشو پر زندہ ہیں وکلا زندہ ہیں، کا کوئی نعرہ سننے میں نہیں آ رہا، البتہ گزشتہ دِنوں جب شیخوپورہ کے ایک تعلیمی آفیسر پر وکلانے دفتر میں گھس کر تشدد کیا تو جواب میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت پرچہ ہو گیا۔اس پرچے کے جواب میں وکلانے احتجاج شروع کر دیااور اس میں سرفہرست یہی نعرہ تھا، ”زندہ ہیں وکلازندہ ہیں“،جب نعرے اپنے ذاتی مقاصد کے لئے لگائے جائیں گے یا قانون شکنی کا ارتکاب کر کے قانون سے بچنے کے لئے ان کا استعمال کیا جائے گا تو اُن میں کیا اثر رہ جائے گا۔ ایک عام پاکستانی کیسے قائل ہو سکے گا کہ واقعی وکلا کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔
مجھے یاد ہے تین چار دہائی پہلے کسی کے ذاتی فعل کی حمایت میں مظاہرے نہیں ہوتے تھے۔ مظاہرے صرف اجتماعی کاز یا کسی بڑے مقصد کے لئے کئے جاتے تھے۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ ایک قانون شکنی کے تحفظ کی خاطر مظاہرہ کریں اور یہ نعرہ بھی لگائیں کہ ”زندہ ہیں وکلازندہ ہیں“، یعنی قانون توڑ کر خاص طور پر وکلا کی کمیونٹی زندہ رہ سکتی ہے۔اُس نے تو قانون کی حفاظت کرنی ہے اُس کی طاقت بڑھانی ہے، جہاں تک صحافی بھائیوں کا تعلق ہے تو وہ بھی اس نعرے کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں،حالانکہ اس نعرے کی اہمیت و طاقت اسی وقت بڑھ سکتی ہے جب آپ کسی اعلیٰ مقصد اور واقعتاً آزادی صحافت کے لئے لگائیں۔ وگرنہ یہ صرف ایک نعرہ برائے نعرہ رہ جائے گا۔
یہ نعرہ بھی سب نے سینکڑوں بار سنا ہو گا،”ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے“۔کل میرا مظفر گڑھ جانے کا اتفاق ہوا، مقصد اپنے دیرینہ دوست سابق آئی جی بلوچستان محمد ایوب قریشی کے بھائی ڈاکٹر تنویر قریشی کی وفات پر تعزیت کرنا تھا۔ میرے ساتھ شوکت اشفاق، چودھری شریف ظفر اور ڈاکٹر ذوالفقار علی رانا تھے۔ ہم ایک بازار سے گزرے تو وہاں نعرہ بازی ہو رہی تھی،معلوم ہوا کہ پیرا اتھارٹی والے تجاوزات کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں اور تاجر مشتعل ہیں۔وہاں ایک نعرہ بار بار گونج رہا تھا، ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے۔ شوکت اشفاق نے کہا اب یہ لوگ اِس بات کو ظلم کہہ رہے ہیں حالانکہ انہوں نے ہمیشہ قانون کا مذاق اُڑایا ہے۔ سڑکوں بازاروں پر پانچ چھ فٹ آگے تجاوزات کی ہیں۔ پہلی بار ان کے خلاف ایک فورس بنا کر کارروائی ہو رہی ہے تو یہ اسے ظلم کے ضابطے قرار دے رہے ہیں۔
شریف ظفر نے کہا وہ نعرہ تو ٹھیک لگا رہے ہیں۔ اِس ملک میں پہلے کب یہ نعرہ غلط قرار پایا ہے۔ حتیٰ کہ میں نے بطور پولیس افسر منشیات فروشوں کی عورتوں کو بھی مظاہرہ کرتے ہوئے یہی نعرہ لگاتے دیکھا ہے۔ تو صاحبو! جب نعروں کا استعمال اپنے مفادات کے لئے کیا جائے اور اُن کی روح کے مطابق عمل نہ ہو تو وہ نعرے پھسپھسے ہو جاتے ہیں اور سب نعرے اب بے جان اور پھسپھسے ہو چکے ہیں چاہے جتنا کہا جائے کہ ہم زندہ ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)