ریاستی فیصلے اور آزاد کشمیر کی تحریک کا بھارت کی طرف سے خیر مقدم
- تحریر نصرت جاوید
- سوموار 06 / اکتوبر / 2025
مرتے دم تک آپ کو بتاتا رہوں گا کہ گزشتہ چند برسوں سے دن کے کئی گھنٹے اپنی ملامت کی نذر کردیتا ہوں۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے فراغت کے بعد جب میرے ساتھیوں کی اکثریت سی ایس ایس کاامتحان دے کر افسر شاہی کا حصہ بننے کو بے تاب تھی میں بے وقوف یہ فیصلہ کربیٹھا کہ صحافت کو بطور پیشہ اپنانا ہے۔
مجھے گماں تھا کہ یہ شعبہ شاید میری معاشی بہتری کے امکانات ممکن نہ بنائے مگر ایسے مواقع ضرور فراہم کرے گا جن کی بدولت میں لوگوں کو سمجھا سکوں کہ ریاستی فیصلہ سازی کیسے ہوتی ہے۔ میری اور آپ کی روزمرہ زندگی سے جڑے کلیدی فیصلے کرتے وقت خلقِ خدا کی بہتری کے بجائے فیصلہ سازوں کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں۔ اپنی نوع کے چند دیوانوں کے ساتھ مل کر ریاستی فیصلہ سازی کے عمل کو ایک بار عیاں کردیا تو لوگ ’بیدار‘ ہوجائیں گے۔ فیصلہ سازی کے عمل میں اپنا حصہ طلب کریں گے اور انہیں یہ حصہ فقط جمہوری نظام کے قیام واستحکام کی بدولت ہی نصیب ہوسکتا ہے۔
مذکورہ بالا خیالات کی رو میں بہہ کر صحافت کو بطور کل وقتی پیشے کے طورپر اپنالیا تو دو ہی برس بعد جنرل ضیا کا مارشل لا لگ گیا۔ اس کی بدولت کئی نوکریوں سے برطرف ہوا۔ طویل بے روزگاری بھی سہی۔ دریں اثنا 1980 کے آخری مہینے میں لندن چلا گیا۔ وہاں کئی دوست ’سیاسی پناہ‘ کی درخواست دے کر برطانوی سرکار کے وظیفے پر زندہ رہ رہے تھے۔ مجھے مگر وطن لوٹنے کی تڑپ تھی۔ بالآخر 1982 میں حالات تھوڑے بہتر ہوئے تو میں نے پاکستان لوٹ کر اسلام آباد سے نجی شعبے میں شائع ہونے والے ’دی مسلم‘ میں رپورٹنگ شروع کردی۔ اس کی بدولت 1984 میں پہلی بار بھارت جانے کا موقع ملا اور اس انتخابی مہم کا جائزہ لیا جو راجیوگاندھی کی تاریخ ساز جیت پر منتج ہوئی۔ راجیوگاندھی کے وزیر اعظم منتخب ہونے کے چند ماہ بعد ہمارے ہاں 1985 میں ’غیر جماعتی بنیادوں‘ پر ہوئے انتخاب کی بدولت قومی اور صوبائی اسمبلیاں بحال کردی گئیں۔ سینیٹ دوبارہ زندہ ہوگیا۔
1985 میں جمہوری عمل کی جزوی بحالی نے مجھے یہ فخر بھرا اطمینان بخشاکہ صحافت کو بطور کل وقتی پیشہ اپنانے کا فیصلہ درست تھا۔ اس کی وجہ سے ’لکشمی‘ تو میری جانب مائل نہ ہوئی۔ ایوان ہائے اقتدار میں لیکن اکثر میرا ذکر ہوجاتا۔ ’شہرت‘ کے نشے میں چند مہینے گزرگئے تو جنرل ضیا نے جونیجو کی اسمبلی توڑ دی۔ 1988 میں وہ یہ اسمبلی توڑنے کے بعد مگر فیصلہ نہ کر پائے کہ اب کیا کریں۔ بالآخر 17اگست 1988 کے دن ہوئے فضائی حادثے کی نذر ہوگئے۔ ان کی وفات کے بعد غلام اسحاق خان سینیٹ کے چیئرمین ہونے کی وجہ سے قائم مقام صدر پاکستان تعینات ہوگئے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ جن انتخابات کا اعلان ہوا ان کے نتیجے میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں جنرل ضیا کی مسلسل مزاحمت کرنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی واضح جیت دیوار پر لکھی نظر آرہی تھی۔
ممکنہ جیت کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لیے راتوں رات ایک دوسرے سے واضح ’نظریاتی اختلاف‘ رکھنے والی جماعتیں مثال کے طورپر مذہب کے نام پر قائم جماعت اسلامی اور ’سیکولر‘عوامی نیشنل پارٹی اسلامی جمہوری اتحاد نامی متحدہ محاذ میں یکجا ہوگئیں۔ پیپلز پارٹی کو اقتدار میں لانے سے روکنے والے تمام ووٹ یوں ایک چھتری تلے جمع ہوگئے۔ آئی جے آئی کی صورت پیپلز پارٹی کے ’ووٹ گھٹانے‘ والے اتحاد کی بدولت آبادی کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ یعنی پنجاب نواز شریف کا حامی بن گیا۔ میرے کئی ’ترقی پسند‘ دوست نجی محفلوں میں نہیں بلکہ بھاری بھر کم انگریزی میں لکھے مضامین کے ذریعے بھی مجھے سمجھانا شروع ہوگئے کہ پاکستان کو ’جاگیردارانہ نظام کی بدولت ورثے میں ملی پسماندگی‘ کا علاج ’صنعت کار‘ نواز شریف ہی ہے۔
’صنعت کار‘ نوازشریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب وفاق میں بے نظیر حکومت کو ایک پل چین لینے نہیں دیا۔ ستمبر1989 میں اس کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد بھی پیش ہوئی۔ وہ منظور ہوجاتی تو غلام مصطفیٰ جتوئی مرحوم پاکستان کے نئے وزیر اعظم بن سکتے تھے۔ ان دنوں مقبول سازشی تھیوری کے مطابق ’صنعت کار‘ نواز شریف کو ’جاگیردار‘ بے نظیر کی جگہ ایک اور ’جاگیردار‘ مصطفیٰ جتوئی کا وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونا قبول نہ تھا۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے لہٰذا چند روز قبل انہوں نے اس کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا اور وزیر اعظم کے خلاف پیش ہوئی تحریک کامیاب نہ ہوسکی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فارغ نہ ہوئیں تو 6اگست 1990 کے دن آئین کی آٹھویں ترمیم کو بروئے کار لاتے ہوئے صدر غلام اسحاق خان نے وزیر اعظم بے نظیر کی حکومت کو نااہل اور بدعنوانی کے الزامات لگاکر گھر بھیج دیا۔ غلام مصطفیٰ خان نے یقین دلایا کہ 1990 کا انتخاب ان کی وزارت عظمیٰ یقینی بنائے گا۔ ریاست ہی کے چند طاقتور اداروں میں یہ بات برسرعام ہونے لگی کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے تو ایک نوجوان ’صنعت کار‘ نوازشریف نے لگایا ہے۔ پنجاب ہی نے 1990 کے انتخابات کے دوران آئی جے آئی کو واضح اکثریت دی ہے۔ ’پنجاب کا مینڈیٹ‘ گویا نواز شریف کو وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہے۔ جو سرگوشیاں سنیں بالآخر حقیقت کے طورپر سامنے آئیں۔ نواز شریف نے 1990 میں وزیر اعظم پاکستان کا حلف لیا۔
1993 کا آغاز ہوتے ہی مگر اسلام آباد میں افواہیں پھیلنا شروع ہوئیں کہ نواز شریف کو ’اقتدار‘ میں لانے والے ان کی بطور وزیر اعظم کارکردگی سے خوش نہیں۔ ’نوجوان‘ صنعت کار لاہور-اسلام آباد موٹروے جیسے ’غیر ضروری‘ میگاپراجیکٹ کی تعمیر میں قوم کا پیسہ ’ضائع‘ کرنے کا مرتکب نظر آیا۔ شکایت یہ بھی ہوئی کہ اوورسیز پاکستانیوں کو کسٹم افسران کی من مانی اور رشوت ستانی سے بچانے کے لیے بین الاقوامی ایئرپورٹس پر قائم ہوا ’گرین چینل‘ خزانے کو نقصان پہنچارہا ہے۔ جن اشیا کی پاکستان درآمد پر پابندی ہے، وہ اس چینل کے ذریعے پاکستان آرہی ہیں۔
اصل حقیقت جبکہ یہ تھی کہ غلام اسحاق خان 1993 میں دوبارہ ملک کے صدر بنناچاہ رہے تھے۔ نواز شریف انہیں اس حوالے سے یقین دلانے میں ناکام رہے۔ فیصلہ لہٰذا یہ ہوا کہ ’صنعت کار‘ سے جی بھرگیا ہے۔ انہیں بھی آئین کی آٹھویں ترمیم کے تحت فارغ کردیا گیا۔ ان کی فراغت کے ساتھ مگر ’کاکڑ فارمولے‘ کے تحت صدر غلام اسحاق خان بھی مستعفی ہونے کو مجبور ہوئے۔ 1993 کے نئے انتخابات کی بدولت ’جاگیردار‘ بے نظیر بھٹو وزارت عظمیٰ واپس آگئیں۔
اکیلے بیٹھا ’غم ِجہاں کا حساب‘ کرتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ 1993 میں دریافت کرلیا تھا کہ ہمارے ہاں کا جمہوری نظام ’دکھاوا‘ ہے۔ حکومت کے آنے اور جانے کی جن خبروں کو بہت مشقت سے ڈھونڈنے کے بعد میں پیسے کے بجائے ’مشہوری‘ کماتا ہوں، عظیم تر واہمہ ہیں۔ اس دھندے سے دوری اختیار کرلینا چاہیے۔ انسان مگر بتدریج عادت کا غلام بن جاتا ہے۔ اب فقط ملال ہے اور عمر کا وہ حصہ جب ’صحافت‘ کے علاوہ کسی اور دھندے کے قابل ہی نہیں رہا۔ ہفتے کے پانچ دن صبح اٹھتے ہی یہ کالم لکھتا ہوں۔ وہ میری ’کوتاہی پرواز‘ سے آپ کو بیزار کرتے ہیں۔ میری ’دیہاڑی‘ اگرچہ لگ جاتی ہے۔
کالم ختم کرنے سے قبل آپ سے مگریہ سوال پوچھنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ اگر اسلام آباد پولیس نیشنل پریس کلب پر جمعرات کی سہ پہر چند کشمیری مظاہرین کا تعاقب کرنے کے نام پر دھاوا نہ بولتی تو پاکستان کے نیشنل مین سٹریم میڈیا کی بدولت آپ کو علم ہوتا کہ آزادکشمیر میں کوئی ’تحریک‘ چل رہی ہے؟ اس تحریک کا ذکر ’مستند‘ اخباروں اور ٹی وی نیٹ ورکس پر نیشنل پریس کلب کے واقعہ کے بعد ہی آنا شروع ہوا۔ آپ میں سے کسی ایک نے کوئی ایسا مضمون پڑھا ہو یا یوٹیوب پر دیکھا/سنا ہو جو آپ کو جامع انداز میں مذکورہ تحریک کے بارے میں آگاہ رکھ رہا تھا تو خدارا مجھے اس کا نام بتاکر ثو اب کمائیں۔ تاکہ میں جو اپنی عمر تمام ’صحافت‘ کی نذر کردینے کا دعوے دار ہوں یہ جان سکوں کہ یہ تحریک کیا تھی۔ اس کے کلیدی کردار اور اہداف جاننا بھی ضروری ہیں۔
یہ سب بتانے کے بعد یہ بھی فرمادیجیے گا کہ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے مذکورہ تحریک کا ’خیرمقدم‘ کیوں ہوا؟
( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )