آزاد کشمیر میں حقوق کی جنگ، کون جیتا؟
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 07 / اکتوبر / 2025
آزاد کشمیر کے اندر ستمبر 29 سے 3 اکتوبر کی رات تک جاری رہنے والی 5 روزہ ’جنگ‘ عوامی مجاہدین نے جیت لی ہے۔ مگر یہاں ایک بار پھر غور و فکر کی ضرورت ہے کہ کیا یہ جنگ آزاد کشمیر بمقابلہ پاکستان تھی؟
کیا ایک فریق کسی دشمن کے ایجنڈے پر کام کر رہا تھا؟ کیا یہ جنگ کشمیر کی آزادی کی جنگ تھی؟ نہیں، بالکل بھی نہیں یہ جنگ دو طبقاتی نظام کی جنگ تھی، یہ مجبور اور مغرور کا مقابلہ تھا۔ اگر ہم تاریخ کے چند اوراق پلٹ کر دیکھیں تو دنیا کی تاریخ میں یہ جنگ بارہا لڑی گئی۔ کبھی عوام بمقابلہ بادشاہت، کبھی مظلوم بمقابلہ ظالم تو کبھی جمہوریت بمقابلہ آمریت۔ ایک وقت تھا جب سارے یورپ میں بھی دو طبقاتی نظام ہوتا تھا۔ ایک طرف بادشاہی ٹولے کے گھوڑے اور کتے مربے اور تازہ بوٹیاں کھاتے تھے، سردیوں میں گرم لحافوں اور کمبلوں میں سوتے اور آرام فرماتے تھے تو دوسری طرف غریبوں کے بچے بھوکے اور علاج کے بغیر مر جاتے تھے۔ پھر جب عام آدمی نے سوچنا شروع کیا اور ایک دوسرے سے کھسر پھسر شروع کی کہ ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے؟ تو تحریکیں بنتی گئیں، بادشاہتیں گرتی گئیں اور آج مغرب کے کئی ممالک کے حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ وزرا اور وزرائے اعظم کو شکوہ ہے کہ ان کی تنخواہ سے کئی شعبوں میں کام کرنے والوں کی تنخواہیں زیادہ ہیں۔
کشمیر کے اندر جس تحریک نے انگڑائی لی ہے اس پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اس کی بنیاد رکھنے والوں میں مرکزی کردار کشمیری قوم پرستوں یا خود مختار کشمیر کے نظریے والوں کا ہے۔ مگر اس کی کامیابی میں مرکزی کردار عوام کا ہے، جن کا نظریہ برابری یا سب کے برابر حقوق کا ہے۔ یہاں کوئی بھی پاکستان کے خلاف ہے، نہ پاک فوج کی کسی کو تکلیف ہے۔ ایک اور وضاحت ضروری ہے کہ پاکستان میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کشمیری تو جنت میں رہ رہے ہیں، ان کو بہت حقوق حاصل ہیں۔ بعض نام نہاد دانشور سنی سنائی باتوں کو لے کر ٹی وی پر بیٹھ جاتے ہیں یا وی لاگ بناتے ہیں حالانکہ نہ وہ کبھی کشمیر آئے نہ وہ تاریخ سے واقف ہیں۔
آزاد کشمیر میں جو عوامی حقوق کی تحریک چلی ہے، وہ دراصل اپنے کشمیر کے حکمرانوں کے خلاف ہے۔ ان کی بے اعتدالیوں اور ناجائز مراعات کے خلاف ہے، ساتھ اپنی بے بسی کے خلاف بھی ہے۔ کیونکہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں پاکستان کی جماعتوں کی فرنچائز ہیں۔ اس لیے وہ پاکستان میں اپنے آقاؤں کی ہر بات پر من و عن عمل کرنے کے پابند ہیں۔ زیادہ دور نہ جائیے ،2021 میں آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ جب وزیراعظم منتخب کرنے کا مرحلہ آیا تو معاملہ زمان پارک لاہور میں جا پہنچا اور کئی روز کے تعطل کے بعد جب کوئی فیصلہ نہ ہو پایا تو پھر اس وقت کی خاتون اول پاکستان نے اپنے لوٹے کو گھما کر تمام بڑے امیدواروں کی امیدوں پر پانی پھیر اور ع سے عبدالقیوم نیازی کا قرعہ نکال دیا جو امیدواروں کی فہرست ہی میں تھا ہی نہیں۔ حالانکہ یہ آزاد کشمیر اسمبلی کا اختیار ہونا چاہیے تھا اور اس کا فیصلہ اسمبلی ہال کے اندر ووٹ کے ذریعے ہونا تھا۔ آزاد کشمیر حکومت کا قیام اس بنیاد پر ہوا تھا کہ یہ سارے کشمیر کی آزادی کا بیس کیمپ ہوگا اور اس کی حکومت آزادی کشمیر کی تحریک کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر کے انتظامی معاملات بھی چلائے گی۔
اس وقت آزاد کشمیر میں ایک ہی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس تھی، جسے پاکستان اسٹیبلشمنٹ نے گود لے رکھا تھا۔ بعد میں آزاد مسلم کانفرنس اور لبریشن لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعتیں بھی وجود میں آئیں۔ وہ بھی کشمیری جماعتیں تھیں، مگر 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کی بنیاد رکھ کر ایک نئے سلسلے کی ابتدا کر دی اور 2008 میں میاں نواز شریف نے بھی اپنی جماعت مسلم لیگ ن آزاد کشمیر بنا دی۔ اس کے علاوہ دوسری پاکستانی سیاسی جماعتوں نے بھی آزاد کشمیر میں اپنے تانگے بنا رکھے تھے۔ اور اب عمران خان نے بھی پی ٹی آئی آزاد کشمیر بنا کر ایک اور بڑی سیاسی فرنچائز کا اضافہ کر دیا۔ مگر اس وقت آزاد کشمیر میں کسی بھی جماعت کی حکومت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے باغی ایم ایل ایز کے ساتھ پیپلزپارٹی، مسلم کانفرنس اور ن لیگ نے مل کر حکومت بنائی تھی جس کے وزیراعظم پی ٹی آئی کے ایم ایل اے انوار الحق ہیں۔ جو آدھی رات کو وزیراعظم بنتے ہوئے پی ٹی آئی کے ممبر تھے اور اگلے دن اعلان کر دیا کہ میرا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
مسلم لیگ ن کے جیتے ہوئے ممبران وزارتوں کے مزے لے رہے ہیں اور ہارے ہوئے حزب اختلاف کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے جیتے ہوئے وزارتوں پر براجمان اور ہارے ہوئے حکومت مخالف۔ یہی وجہ ہے کہ ایکشن کمیٹی کا احتجاج کامیاب ہوا کیونکہ تمام جماعتوں کے کارکنوں نے ایکشن کمیٹی کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے اور حکومت میں بیٹھے وزرا پاکستان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو غلط اطلاعات دیتے رہے۔ پاکستان حکومت نے بھی سوچنے سمجھنے کی زحمت نہیں کی۔ حالانکہ آزاد کشمیر حکومت میں شامل تمام جماعتوں نے مل کر پونچھ میں پاور شو کا اعلان کیا۔ اس جلسے میں موجودہ وزیر اعظم اور چار سابق وزرائے اعظم سمیت آزاد کشمیر کے تمام سیاستدانوں نے شرکت کی اور تمام آزاد کشمیر سمیت پاکستان سے بھی کرائے کے لوگوں کو لایا گیا۔ پھر بھی جلسہ بری طرح ناکام ہوا، تمام راہنما خالی کرسیوں پر تقاریر کے جوہر دکھاتے رہے۔
ہم نے 29 ستمبر سے تقریباً دو ہفتے قبل پریس کانفرنس کر کے حکمرانوں کو متنبہ کر دیا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ میز پر بیٹھیں اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کریں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بھارت تو مقبوضہ کشمیر میں بربریت کر سکتا ہے مگر پاکستان کی فوج یا دوسری فورسز کبھی بھی کشمیریوں پر ہتھیار نہیں اٹھا سکتے۔ اور نہ ہی ہم خطے میں افراتفری کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ مگر پاکستانی حکمرانوں نے وقت پر توجہ ہی نہیں دی اور تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں درجن بھر لوگ جاں بحق ہوئے اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ اربوں روپے کا مالی نقصان اور عوام کو شدید مشکلات اور ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا۔
اس خاکسار سمیت تمام لوگوں نے متعدد بار حکمرانوں کو متنبہ کیا کہ معاملے کو مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے اور پاکستان کی تمام پارلیمانی جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی بنا کر مذاکرات کیے جائیں۔ پھر بھی شکر ہے حکومت نے یہ راستہ چنا اور مذاکرات کامیاب ہو گئے اور کشمیر ایکشن کمیٹی کے متعدد مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ جبکہ کچھ مطالبات کے لیے کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ اس سارے ہنگامے میں کچھ شرپسندوں نے پاکستان اور کشمیر کے بیچ رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جسے دونوں فریقین نے ناکام تو بنا دیا۔ مگر پاکستان سے آئی فورسز کو زدکوب کیا گیا جس سے پاکستان میں غلط پیغام گیا ہے۔
آزاد کشمیر کے پولیس ملازمین پر بھی تشدد ہوا۔ فورسز آزاد کشمیر کی ہوں یا پاکستان کی سب ہماری ہی ہیں۔ اور ان کا کام ہر صورت میں قانون پر عملدرآمد کروانا ہوتا ہے۔ وہ تو حکمرانوں اور سیاستدانوں کی غلطی تھی کہ معاملات تشدد تک پہنچے۔ اور قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔