چائے میں الائچی، اور سیاست میں اجنبیت

لندن کی گلیوں میں پچھلے ہفتے جو شور اٹھا، وہ صرف نعرے نہیں تھے بلکہ ایک اجتماعی بے چینی تھی۔ لوگ سڑکوں پر تھے، جیسے انہیں اچانک یاد آ گیا ہو کہ ان کے محلے میں اب وہی لوگ بستے ہیں جن پر کبھی وہ دور دراز کی زمینوں میں حکمرانی کیا کرتے تھے۔ کچھ چہروں پر غصہ تھا، کچھ پر حیرت، اور کچھ پر وہی پرانا سوال کہ یہ سب یہاں کیسے آ گئے۔

یہ شور صرف برطانیہ تک محدود نہیں۔ یورپ کے کئی ممالک میں یہی کیفیت ہے۔ فرانس، جرمنی، ہالینڈ اور دیگر جگہوں پر افریقی، عرب اور ایشیائی مہاجرین نے نہ صرف پناہ لی بلکہ اپنے ساتھ اپنی ثقافت، عبادات اور رسومات بھی لے آئے۔ جب یہ رسومات سڑکوں پر آتی ہیں، جیسے محرم کے جلوس، عید میلاد النبی کی ریلیاں، یا دیوالی کے موقع پر ہندو برادری کی تقریبات اور سکھ برادری کے نگر کیرتن، تو بعض مقامی لوگ خود کو اجنبی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ انہیں یوں لگتا ہے جیسے ان کی گلیاں اب کسی اور کی ہو گئی ہوں۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ مہاجرین اپنی ثقافت کیوں لاتے ہیں۔ وہ تو لائیں گے ہی، کیونکہ وہ اپنی شناخت، اپنی یادیں اور اپنی روح کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اسے کس انداز میں پیش کرتے ہیں۔ کیا وہ اسے دلوں تک محدود رکھتے ہیں یا سڑکوں پر پھیلا دیتے ہیں۔ کیا وہ مقامی تہذیب کا احترام کرتے ہیں یا صرف اپنی پہچان کو نمایاں کرتے ہیں۔ تہذیب کا احترام صرف عبادت گاہوں میں نہیں ہوتا بلکہ راستوں، آوازوں اور رویوں میں ہوتا ہے۔

افریقی مہاجرین کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ وہ محنتی ہیں، جفاکش ہیں، اور اکثر وہ کام کرتے ہیں جو مقامی لوگ کرنا پسند نہیں کرتے۔ مگر جب ان کی ثقافت، ان کی موسیقی اور ان کی عبادات گلیوں میں گونجتی ہیں، تو کچھ لوگ اسے شور سمجھتے ہیں نہ کہ رنگ۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ہم آہنگی کا خواب ٹوٹنے لگتا ہے۔

اسی دوران ایک اور علامتی تبدیلی بھی آئی۔ برطانیہ میں اب ایک نیا وزیرِاعظم ہے، سر کیئر اسٹارمر، جو لیبر پارٹی کی قیادت میں حکومت سنبھال چکے ہیں۔ اس سے پہلے رشی سونک، جو بھارتی نژاد تھے، برطانیہ کے سربراہ رہے۔ یہ لمحہ تاریخ کا ایک دلچسپ موڑ تھا، جب وہ ملک جو کبھی ہندوستان پر حکومت کرتا تھا، خود ایک ہندوستانی نژاد شخص کی قیادت میں آیا۔ چرچل اگر زندہ ہوتے تو شاید چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتے۔

مگر یہ سب صرف علامتی نہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا بدل رہی ہے، اور شناخت اب صرف رنگ یا نسل سے نہیں بلکہ خدمت، شرکت اور تھوڑی سی قسمت سے بنتی ہے۔ لیکن سب کو یہ تبدیلی ہضم نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ اب بھی چاہتے ہیں کہ برطانیہ وہی رہے، چائے بغیر الائچی کے، اور کرکٹ بغیر پنجابی تبصرے کے۔

معاشی پہلو بھی اس بحث میں خاموشی سے شامل ہے۔ جب مہاجرین زیادہ محنت کرتے ہیں، کم تنخواہ پر بھی خوش رہتے ہیں، تو مقامی لوگ خود کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ ان کی جگہ چھینی جا رہی ہے، ان کی اہمیت کم ہو رہی ہے۔ یہی وہ خوف ہے جو بریگزٹ کے وقت بھی سامنے آیا تھا، اور آج بھی مظاہروں میں گونجتا ہے۔

تو اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسی دنیا بنا سکتے ہیں جہاں ثقافتیں صرف ٹکرائیں نہیں بلکہ آپس میں جڑیں۔ جہاں محرم کا جلوس مسجد کے اندر ہو، اور دیوالی کی روشنی دلوں میں ہو نہ کہ ٹریفک میں۔ جہاں افریقی ڈھول صرف شور نہ ہو بلکہ ایک نغمہ ہو جو سب سنیں اور سب سمجھیں۔ مہاجرین کو چاہیے کہ وہ جس زمین پر آئے ہیں، اس کی تہذیب کا احترام کریں۔ اور میزبان معاشرے کو چاہیے کہ وہ مہاجرین کی پہچان کو صرف برداشت نہ کرے بلکہ تھوڑا سا چکھے بھی۔ اگر دونوں طرف سے تھوڑی سی نرمی، تھوڑی سی سمجھداری اور تھوڑا سا مزاح ہو، تو شاید لندن کی گلیوں میں نعرے کم ہوں اور قہقہے زیادہ۔ مسعود منور نے کیا خوب کہا تھا۔

مرتسر سے راکھی جائے پاکپتن میں بھائی کو
اب گنگا اور سندھ کا پانی ایک ہی تٹ پر مست بہے

(بشکریہ: ہم سب لاہور)