ڈاکٹر شہباز شریف
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 07 / اکتوبر / 2025
ملائیشیا کی ایک یونیورسٹی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کو قیادت اور گورننس کے شعبے میں ڈاکٹریٹ آف فلاسفی کی اعزازی ڈگری عطا کی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم اس وقت ملائیشیا کے سرکاری دورے پر ہیں۔ مختلف ملکوں کی یونیورسٹیاں کسی ملک سے وابستگی اور دوستی کے اظہار کے لیے مہمان لیڈروں کو اعزازی ڈگریاں عطا کرتی رہتی ہیں۔ تاہم شہباز شریف کے لیے گورننس پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری اعزاز سے زیادہ ’مذاق‘ محسوس ہوتی ہے۔
موجودہ حکومت کامیابی کے متعدد دعوے کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتی۔ پہلے تو صرف معیشت سنبھالنے کے لیے سیاست قربان کرنے کا اعلان ہی کیا جاتا تھا لیکن مئی کے دوران بھارتی حملہ سے کامیاب دفاع کے بعد سے عالمی سطح پر ملک کو قابل ذکر پزیرائی نصیب ہوئی ہے۔ شہباز شریف اس کاکریڈٹ لینے سے بھی نہیں چوکتے۔ ملک کو حال ہی میں حاصل ہونے والی عالمی سفارتی کامیابی کو بھی وزیر اعظم اپنی ہی حکومت کی شاندار کارکردگی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان کی حکومت میں شامل ارکان کی اہلیت کا پول کسی نہ کسی حوالے سے کھلتا رہتا ہے۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے دورہ کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک امریکی یوٹیوبر کے ساتھ انٹرویو میں جو گل کھلائے، ملک میں اب تک ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
’گورننس ‘ پر ڈگری لیتے ہوئے شہباز شریف کو سوچنا چاہئے تھا کہ پاکستان کے موجودہ حالات بدترین طرز حکومت کی نمایاں مثال بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ طغیانی اور سیلاب کی صورت حال میں خیبر پختون خوا سے لے کر سندھ تک تباہی و بربادی کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے۔ لیکن وزیر اعظم سمیت وفاقی حکومت کے ارکان محض اخباری بیانات میں دکھائی دیتے تھے۔ متاثرین کی امداد یا ان کی آباد کاری کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسی قدرتی آفت سے بچاؤ کا کوئی انتظام کرنے کا اعلان کیا گیا۔ البتہ بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ بیان بازی کا سلسلہ ضرور جاری رہا۔ حالانکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بدلتے موسمی حالات کی وجہ سے پاکستان کو مستقبل میں بھی ایسی قدرتی آفات کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے پاکستان شدید بحران کا سامنا کررہا ہے۔ 2025 کو دہشت گردی میں اضافے کے سلسلہ میں بدترین سال قرار دیا جارہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ملک کے کسی نہ کسی حصے میں دہشت گرد حملہ ہوتا ہے یا سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جانی و مالی نقصان برداشت کرتی ہیں۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر دہشت گردی کے مقابلے میں حائل مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے متعدد بار سول حکمرانی کے نقائص کا ذکر کرچکے ہیں۔ انہوں نے اکثر وزیر اعظم اور حکومت کی توجہ خراب گورننس کی طرف مبذول کراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بدانتظامی، ناقص انتظام اور انٹیلی جنس کی کوتاہیوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کو جانیں قربان کرنا پڑتی ہیں۔ کسی حکومت سے ایسے سنگین الزامات کے بعد سخت اقدامات اور فوری اصلاحات کی توقع کی جاتی ہے لیکن وزیر اعظم کا بیشتر وقت غیر ملکی دوروں میں صرف ہوتا ہے اور وہ اسے اپنی قائدانہ کارکردگی کا نمونہ مان کر خوش ہوتے ہیں۔ اسی کا مظاہرہ انہوں نے گورننس اور قیادت میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری وصول کرتے ہوئے بھی کیا ہے۔
ملک کو صرف دہشت گردی کی صورت میں بدامنی اور پریشانی کا سامنا نہیں ہے بلکہ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور ملک کے ہر حصے میں جرائم پیشہ گروہوں کی طاقت میں اضافہ نے بھی عوام کی زندگی حرام کی ہوئی ہے۔ ایک زمانے میں لوٹ مار، چوری یا ڈکیتی کے واقعات کی اطلاعات صرف کراچی سے موصول ہوتی تھیں۔ لیکن اب لاہور سمیت ملک کا ہر بڑا شہر بلکہ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی عوام جرائم پیشہ عناصرکے ظلم سے عاجز ہیں لیکن پولیس لیڈروں کو پروٹوکول دینے یا ان کی سکیورٹی پر مامور رہتی ہے۔ عوام کی حفاظت کا کام یا تو مسلسل نظرانداز ہورہا ہے یا انتظامی ادارے خود ان عناصر کی سرپرستی کا سبب بنتے ہیں۔ حکومتوں میں شامل سیاسی لیڈر بھی حسب ضرورت اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے انتظامی طاقت کو استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ اگرچہ امن و امان سے نمٹنا صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن کوئی وفاقی حکومت بڑھتے ہوئے جرائم اور بدامنی کے حالات سے لاپروا نہیں رہ سکتی۔ خاص طور سے جب ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بھی اسی پارٹی کی حکومت ہو جو اس وقت وفاقی حکومت پر قابض ہے۔
حال ہی میں آزاد کشمیر میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والی عوامی ہڑتال متعدد وزرا اور لیڈروں پر مشتمل ایک وفد نے ایکشن کمیٹی کے مطالبات مان کر اور وعدے کرکے ختم کرائی ہے۔ آزاد کشمیر جیسے پر امن علاقے میں سرکاری انتظام کے خلاف یہ احتجاج درحقیقت بری گورننس کے خلاف ایسی پکار تھی جس کی گونج ملک بھر میں سنی گئی۔ ایکشن کمیٹی کے بنیادی مطالبات میں اشرافیہ کی سہولتیں ختم کرنے، کرپشن روکنے اور عوامی مسائل پر توجہ دینے کے لیے کہا گیا تھا۔ ان معاملات پر کسی خطے کے عوام کو کام کاج چھوڑ کر سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے ساتھ دھرنا دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ اس حکومت کے بارے میں آخر کیا کہا جاسکتا ہے جس کی نگرانی میں پر امن احتجاج کرنے والے پولیس تشدد کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہوں۔
حکومتی تشدد کی بدترین مثال اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب پر پولیس دھاوے کی صورت میں دیکھی گئی۔ یہ وقوعہ کسی چھوٹے شہر کی بجائے وفاقی دارالحکومت میں رونما ہؤا۔ آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی نے میڈیا تک اپنی بات پہنچانے کے لیے نیشنل پریس کلب کے باہر علامتی مظاہرہ کیا تھا لیکن پولیس ان مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔ بعض لوگوں نے پریس کلب میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکار کلب کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور مظاہرین کے علاوہ صحافیوں کو بھی زد و کوب کیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اس ملک میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ بعد میں وزیر داخلہ نے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور قصور واروں سزا دلوانے کا عہد کیا ۔ البتہ پانچ دن گزرنے کے باوجود اس حوالے سے کوئی پیش رفت دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی۔
اس دوران ملائیشین سرکاری خبر رساں ادارے ’برناما‘ کے مطابق بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا (آئی آئی یو ایم) نے کوالالمپور کیمپس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران وزیراعظم پاکستان کو ’قیادت اور طرزِ حکمرانی‘ کے شعبے میں فلسفے کی اعزازی ڈگری عطا کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نیلے رنگ کا گاؤن پہنے تقریب میں شریک ہوئے اور اس اعزاز کو بڑی سعادت اور قابل فخر لمحہ قرار دیا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے میں نے پنجاب کے عوام کی خدمت میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں۔ اور اب بطور وزیر اعظم پاکستان اپنی انسانی کمزوریوں کے باوجود دیانت داری اور خلوص نیت کے ساتھ عوام کی خدمت کی کوشش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ اس اعزازی ڈگری کے ذریعے وہ مسلم دنیا کی ایک معتبر درسگاہ سے وابستہ ہوئے ہیں جو علم، ایمان اور اخلاق کے امتزاج اور اعلیٰ معیار کی جستجو کی علمبردار ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ’قیادت کوئی استحقاق نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے جسے دیانت داری، خلوص، انصاف اور اللہ کے سامنے جوابدہی کے جذبے کے ساتھ ادا کرنا چاہیے‘۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے ان اصولوں کو مضبوطی سے تھاما، وہ خود بھی ترقی یافتہ ہوئے اور دنیا بھر کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنے۔ موجودہ مسلم دنیا کو درپیش تنازعات، غربت اور انتشار جیسے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےزور دیا کہ ایسے نازک وقت میں ہمیں اپنے دینی اور اخلاقی اصولوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہوگا ۔تاکہ اقوامِ عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کیا جا سکے۔
تقریروں میں بڑی بڑی باتیں کرنے والے وزیر اعظم ڈاکٹر شہباز شریف کو سوچنا چاہئے کہ کیا انہوں نے بھی کبھی اقتدار کو عوام کی دی ہوئی مقدس امانت سمجھا ہے؟ اگر وہ واقعی اسے اپنا یا کسی کا پیدائشی حق نہیں سمجھتے تو ملک کے عوام کو بتایا جائے کہ پھر اقتدار کے لیے سازشوں، گٹھ جوڑ اور سودے بازی کا سلسلہ کب بند ہوگا؟ اور اگر وہ واقعی اس عہدے کو عوام کا تفویض کردہ سمجھتے ہیں تو انہیں اپنے ہی بیان کیے ہوئے اصولوں کی روشنی میں بتانا چاہئے کہ پھر پاکستان کا شمار دنیا میں غربت، احتیاج، انصاف یا آزادی رائے جیسے معاملات پر سامنے والے جائزوں میں نچلے درجوں میں ہی کیوں ہوتا ہے؟