پنجابیوں اور غیر پنجابیوں کی تین غلط فہمیاں
- تحریر یاسر پیرزادہ
- بدھ 08 / اکتوبر / 2025
ہم پنجابی اپنے پنجابی ہونے پر آخر اِس قدر نادم کیوں ہیں؟ یہ سوال کئی دنوں سے دماغ میں کلبلا رہا تھا، سوچا آج خود ہی سے پوچھ لوں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک عجیب رِیت چل پڑی ہے، جس پنجابی کو دیکھو اُٹھ کر پنجابیوں کے خلاف ایک تقریر جھاڑ دیتا ہے یا پھر کسی وی لاگر کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی ہی قوم کو لتاڑ دیتا ہے۔
شاید اِس کی وجہ یہ ہو کہ پنجابیوں کو گالیاں دینے سے ’ریٹنگ‘ ملتی ہے۔ مجھے تو آج تک کوئی سندھی، بلوچ، پشتون یا افغان نہیں ملا جس نے کبھی اپنی قوم میں اِس قدر کِیڑے نکالے ہوں جتنے پنجابی خود میں نکالتے ہیں۔ اِس بارے میں ضیغم خان نے کیا عمدہ ٹویٹ کی۔ ضیغم صاحب تجزیہ نگار ہیں، لکھاری ہیں، سما ٹی وی پر پروگرام کرتے ہیں، گزشتہ دنوں آپ نے ایک افغان صحافی کے انٹرویو پر ٹویٹ کیا جسے پڑھ کر ط پر زبر والا لُطَف آ گیا، لکھتے ہیں : ”میری آخری خواہش ایک ایسے افغان سے ملنا ہے جو یہ اقرار کرے کہ گزشتہ اَسی سال میں ایک افغان سے ایک غلطی سرزد ہوئی تھی جس سے افغانستان کو معمولی نقصان پہنچا“ ۔ یہ صرف افغان قوم کی مثال ہے، اسی طرح باقی قومیں بھی خود کو تقریباً معصوم من الخطا ہی سمجھتی ہیں۔ نہ جانے کیوں صرف پنجابیوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ صدیوں سے محکوم رہے ہیں، نہ انہیں مزاحمت کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور نہ اُن میں کوئی حریت پسند پیدا ہوا ہے۔ پروپیگنڈے کا یہ عالم ہے کہ اب یہ بات حقائق پر مبنی لگنے لگی ہے کہ اگر کوئی غیرت مند شخص اِس خطے میں پیدا ہوا تھا تو وہ یقیناً غیر پنجابی ہو گا۔ چلیے آج ذرا تاریخ کا ’نتارا‘ ہی کر لیں۔
سب سے پہلی غلط فہمی ہمیں یہ دور کر لینی چاہیے کہ انیسویں صدی سے پہلے دنیا میں سلطنتیں ہوا کرتی تھیں، قوم اور قومی ریاست کا کوئی تصور اُس وقت نہیں تھا، اور خاص طور سے برصغیر کے لوگ تو اِس تصور سے سرے سے آشنا ہی نہیں تھے۔ بے شک یہاں مختلف مذاہب، تہذیبیں اور سلطنتیں تو رہی ہیں لیکن سرائیکی، بلوچ، پنجابی یا اِن معنوں کوئی بھی قوم ہونا شناخت کی ایک جدید شکل ہے جس کا رواج تاریخ میں پہلے نہیں تھا۔ سو، اگر کوئی کہتا ہے کہ میں پانچ ہزار سال سے پنجابی، سندھی، بلوچ یا پشتون ہوں تو یہ ایسی ہی بے سروپا بات ہے جیسے کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے ہی نعرہ بلند کردے کہ میں انگریز ہوں جبکہ ابھی وہ zygote بھی نہ بنا ہو۔
دوسری غلط فہمی یہ بھی دور کر لیں کہ برصغیر میں گزشتہ ایک ہزار برس سے ’باہر سے آنے والے حملہ آوروں کی حکومت رہی۔‘ جن وسط ایشیائی مغلوں کو باہر سے آنے والے حملہ آور کہتے ہیں وہ تو یہاں آ کر رچ بس گئے، شادیاں کیں، نسل در نسل یہیں کے ہو رہے، انہیں تو ہندوتوا کے نظریے کے تحت باہر والا کہا جاتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی برطانوی کرکٹر ناصر حسین کو پاکستانی کہے جبکہ وہ انگریزوں سے بڑھ کر انگریز ہے۔ تیسری غلط فہمی یہ دور کر لیں کہ پنجابی ہمیشہ محکوم رہے، حقیقت یہ ہے کہ پنجابیوں کی حکومت تو پشاور تک قائم رہی۔ یہ بات چونکہ تفصیل طلب ہے اِس لیے کچھ تاریخی حقائق بیان کرنے پڑیں گے۔
جب سلطنتِ مغلیہ کا زوال ہوا تو اُس کی جگہ دو نئی طاقتوں نے لی، احمد شاہ ابدالی کی دُرّانی سلطنت اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سِکھ سلطنت۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ جغرافیائی سرحدیں اور قومی ریاستیں کبھی بھی ابدی نہیں ہوتیں۔ اٹھارہویں صدی میں دُرّانی سلطنت کے قیام سے پہلے، وہ علاقے جو آج افغانستان کہلاتے ہیں، وہ کسی بھی قسم کی خودمختار ریاست نہیں تھے اور نہ احمد شاہ ابدالی کا ظہور کسی قدیم افغان سلطنت کے تسلسل کا نتیجہ تھا، وہ ایرانی فاتح نادر شاہ افشار کا کمانڈر تھا۔ احمد شاہ ابدالی نے 1748 سے 1769 کے درمیان ہندوستان پر کُل نو حملے کیے، اِن حملوں کا بنیادی مقصد لوٹ مار، نذرانہ وصول کرنا اور مغل سلطنت کے بکھرتے سیاسی نظام کو مزید تباہ کرنا تھا۔
1761 کی پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں پر ابدالی کی شاندار فتح نے جنوبی ایشیا کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس فتح نے مرہٹوں کے ہندوستان پر حکمرانی کے خواب کو توڑ دیا، لیکن پنجاب کے عوام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن تھے۔ لاہور شہر کو لوٹا گیا، ہزاروں عورتوں اور بچوں کو غلام بنایا گیا، سِکھ برادری کو خصوصاً نشانہ بنایا گیا، سِکھ عبادت گاہوں کو تباہ اور ناپاک کیا گیا۔ وارث شاہ اور اُس دور کی عوامی کہاوتیں، اس ظلم اور افراتفری کی گواہی دیتی ہیں۔ جب بھی کوئی حملہ آور آتا، لوگ جان و مال کے خوف میں مبتلا ہو جاتے۔ یہ بات عرف عام تھی کہ ”کھادا پیتا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا“ ۔ لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
اٹھارہویں صدی کے آخر تک، مغلوں اور افغانوں کے کمزور پڑنے سے پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے پنجاب میں مقامی طاقتیں، خصوصاً سِکھ مِسلوں (Confederacies) کا عروج شروع ہو چکا تھا۔ ابدالی کے استحصالی نظام نے مقامی مزاحمت کو جنم دیا اور اسے ایک منظم سیاسی قوت میں ڈھال دیا۔ ان مِسلوں نے ابتدائی طور پر ابدالی کی فوجوں کا بھرپور مقابلہ کیا لیکن ان میں وہ مرکزی قیادت نہیں تھی جو ایک مستحکم ریاست کو جنم دے سکے۔ پھر آیا مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور۔ رنجیت سنگھ نے وہ قیادت فراہم کی جس کی پنجاب کو ضرورت تھی۔ 1799 میں لاہور پر قبضہ کر کے، رنجیت سنگھ نے منتشر سِکھ مِسلوں کو ایک متحدہ سِکھ سلطنت میں ڈھالنا شروع کیا۔ دُرّانیوں کے برعکس، رنجیت سنگھ ایک وسیع القلب حکمران تھا، اُس نے تمام مذاہب، سِکھ، ہندو، اور مسلم، افراد کو اپنی حکومت اور فوج میں اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا۔ اپنی مسلم بیوی، موراں سرکار کے لیے مسجد (مائی موراں مسجد) تعمیر کروائی، گردواروں، مندروں اور مساجد کی سرپرستی کی اور اپنی سلطنت میں جبری مذہب کی تبدیلی کی اجازت نہیں دی۔
رنجیت سنگھ نے اپنی فوج کو یورپی ماہرین (جیسے فرانسیسی اور اطالوی مہم جو افراد) کی مدد سے جدید بنایا۔ رنجیت سنگھ نے ایک مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جس کی مدد سے اُس نے اپنے تاریخی دشمنوں کو نہ صرف پنجاب سے نکال باہر کیا بلکہ اُن کی سرزمینیں بھی فتح کیں۔ رنجیت سنگھ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اُس نے تاریخ کا دھارا تبدیل کر دیا، صدیوں سے حملہ آور درہ خیبر سے پنجاب میں داخل ہوتے تھے، رنجیت سنگھ نے اس عمل کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ سِکھ سلطنت کی فتح کا سب سے علامتی اور سٹریٹجک عروج پشاور کی فتح تھا۔ پشاور دُرّانیوں کا موسمِ سرما کا دارالحکومت تھا۔ 6 مئی 1834 کو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے باضابطہ طور پر پشاور کو سِکھ سلطنت میں شامل کر لیا۔ پچھلے سات سو برسوں میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی پنجابی فاتح نے اس شہر کی گلیوں میں سے فتح مندانہ انداز میں گزر کر ایک ایسا صوبہ واپس حاصل کیا تھا جو صدیوں سے اجنبی قوتوں کے ہاتھوں میں تھا۔
سِکھ سلطنت کی سرحدیں درہ خیبر تک جا پہنچیں۔ جب ابدالی 1772 میں فوت ہوا تو اُس کی سلطنت فوراً بکھرنا شروع ہو گئی اور اہم علاقے (ملتان، کشمیر، پشاور) محض پچاس سال کے اندر اندر سِکھوں کے ہاتھوں میں آ گئے۔ اس کے مقابلے میں، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سلطنت، اپنی جدیدیت اور مستحکم بیوروکریسی کی بدولت، 1849 میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے براہ راست ٹکرانے تک ایک مضبوط اور مربوط ریاست بنی رہی۔
سو، یہ تو ہوئے حقائق۔ آئندہ اگر آپ کو کوئی پنجابی ملے جو خود پر تبرہ کر رہا ہو تو اُسے کہیں کہ اپنی قوم کا دفاع کرنا کسی افغان سے سیکھے، آخر ہمیں افغانستان کا کوئی تو فائدہ ہو!
(بشکریہ: ہم سب لاہور)