اسرائیل اور حماس غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر متفق

  • جمعرات 09 / اکتوبر / 2025

اسرائیل اور حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس معاہدے پر جمعرات کو دستخط کیے جائیں گے جس کے تحت قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی امداد کے بڑے پیمانے پر داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ اقدام دو سال سے جاری نسل کشی کے بعد کیا جا رہا ہے جو اس وقت شروع ہوئی تھی جب تل ابیب نے اکتوبر 2023 میں حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد فلسطینی علاقے پر بمباری شروع کی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے 20 نکاتی امن منصوبے پر مصر میں ہونے والے مذاکرات کے بعد طے پانے والے معاہدے کے بعد کہا کہ حماس تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی، جب کہ اسرائیل اپنی افواج کو ایک طے شدہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا۔

قطر نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے جو جنگ کے خاتمے، اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، اور امداد کی فراہمی کا باعث بنے گا۔ حماس کے ایک ذریعے نے جمعرات کو ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں رہا کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ تبادلہ معاہدے پر عمل درآمد کے 72 گھنٹوں کے اندر متوقع ہے، جس پر جمعرات کو دستخط کیے جائیں گے۔

یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے عمر قید کی سزا کاٹنے والے 250 فلسطینی اور جنگ شروع ہونے کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 دیگر فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ ’میں بہت فخر سے اعلان کرتا ہوں کہ اسرائیل اور حماس دونوں نے ہمارے امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر دستخط کر دیے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام یرغمالیوں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا، اور اسرائیل اپنی افواج کو ایک متفقہ لائن تک پیچھے ہٹا لے گا جو ایک مضبوط، پائیدار اور دائمی امن کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ ٹرمپ نے ثالثی کرنے والے ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’امن قائم کرنے والوں پر سلامتی ہو‘۔

امریکی صدر نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ سے گفتگو میں کہا کہ مصر میں طے پانے والا یرغمالیوں کے بدلے جنگ بندی کا یہ معاہدہ دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے۔ ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’پوری دنیا اس معاملے پر یکجا ہو گئی ہے۔ آج دنیا کے لیے ایک شاندار دن ہے۔ یہ دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے، ایک خوشی کا دن، سب کے لیے ایک شاندار دن‘۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ ’خدا کی مدد سے‘ اسرائیلی یرغمالیوں کو واپس لائیں گے۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ جمعرات کو اپنی حکومت کا اجلاس طلب کریں گے تاکہ معاہدے کی منظوری دی جا سکے۔

اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اپنے برادر ممالک قطر، مصر اور ترکیہ کے ثالثوں کی کوششوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ان کوششوں کو بھی سراہتے ہیں جو جنگ کے مکمل خاتمے اور غزہ کی پٹی سے قبضے کے مکمل انخلا کے لیے کی جا رہی ہیں‘۔

حماس نے کہا کہ ’ہم صدر ٹرمپ، معاہدے کے ضامن ممالک اور تمام عرب، اسلامی و بین الاقوامی فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض حکومت کو اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل طور پر ادا کرنے پر مجبور کریں اور اسے طے شدہ شرائط سے پہلو تہی یا عمل درآمد میں تاخیر سے روکیں‘۔

ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اس ہفتے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کر سکتے ہیں کیونکہ معاہدہ ’انتہائی قریب‘ ہے۔ ایک ڈرامائی لمحے میں ’اے ایف پی‘ کے صحافیوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران مداخلت کرتے دیکھا، جب انہوں نے ٹرمپ کو مصر میں جاری مذاکرات کی پیش رفت کے بارے میں ایک فوری نوٹ دیا۔

برطانوی نشریاتی دارے ’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور حماس کے امن منصوبے پر متفق ہونے کے اعلان کے بعد غزہ کے شہر خان یونس میں فلسطینیوں نے سڑکوں پر جشن منایا۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق غزہ میں حماس کے ہاتھوں یرغمال اسرائیلیوں کے اہلخانہ نے تل ابیب کے یرغمالی چوک میں جمع ہوکر جشن منایا۔

حماس نے ان فلسطینی قیدیوں کی فہرست جمع کرائی ہے جن کی رہائی وہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں چاہتی ہے۔ اس کے بدلے میں حماس 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر اپنے حملے کے دوران پکڑے گئے باقی 47 یرغمالیوں کو، خواہ زندہ ہوں یا ہلاک، رہا کرے گی۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب غزہ پر مسلط کردہ اسرائیلی جنگ کو 2 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج غزہ میں اب تک کم از کم 67 ہزار 183 افراد کو شہید کرچکی ہے۔ یہ اعداد و شمار علاقے کی وزارتِ صحت نے جاری کیے ہیں جنہیں اقوامِ متحدہ قابلِ اعتبار قرار دیتی ہے۔

غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے بتایا کہ معاہدے سے چند گھنٹے قبل بھی غزہ پر بمباری نہیں رکی تھی۔ اسرائیل میں غزہ کی سرحد کے قریب موجود ’اے ایف پی‘ کے ایک صحافی نے صبح کے وقت متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔