پنجاب اور سندھ، نورا کشتی یا اصلی مقابلہ؟
- تحریر نسیم شاہد
- جمعرات 09 / اکتوبر / 2025
عوام ابھی تک سمجھ رہے ہیں پنجاب اور سندھ میں نورا کشی ہو رہی ہے، کیونکہ دونوں صوبوں میں برسر اقتدار جماعتیں وفاق میں اتحادی ہیں اور اتحادی بھی ایسی کہ ایک چھوڑ جائے تو دوسری اقتدار میں نہ رہ سکے۔
اس کے باوجود بڑی کامیابی سے آج کا بڑا مسئلہ، پنجاب اور سندھ کی لڑائی کو بنا دیا گیا ہے۔ جہاں تک وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا تعلق ہے تو وہ پنجاب کے معاملے میں کسی بھی طرح پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں بلکہ ہر نئے دن کے ساتھ وہ اس حوالے سے جارحانہ انداز اختیار کر رہی ہیں ۔یہ لڑائی اصلی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر یہ حقیقت تو سامنے آ رہی ہے کہ پنجاب میں کتنا کام ہو رہا ہے اور سندھ میں کتنا۔ سندھ کے وزرا جب یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ مریم نواز کو خود پسندی کا خبط ہو گیا ہے یا وہ نرگسیت کا شکار ہو گئی ہیں تو یوں لگتا ہے وہ کسی مضبوط دلیل کی بجائے شخصی حملوں تک آ گئے ہیں۔
ہر سیاسی رہنما کی جو اقتدار میں آتا ہے یہ خواہش تو ہوتی ہے کہ وہ عوام کی نظر میں خود کو نمایاں کرے۔ مریم نواز نے اس پر کچھ زیادہ ہی توجہ دی ہے تو اس کا نتیجہ بھی تو نکل رہا ہے کہ پیپلزپارٹی اُن کی شخصیت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ میں ذاتی طور پر خود بھی بعض اوقات یہ سمجھتا ہوں کہ بات کچھ ہو گئی ہےلیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ آج ہر طرف مریم مریم ہو رہی ہے تو اس حکمت عملی نے اپنا اثر تو دکھایا ہے۔ اب اس بات پر اعتراض کیسے کیا جائے کہ مریم نواز پنجاب کی بات کیوں کر رہی ہیں۔ وہ پنجاب کی وزیراعلیٰ ہیں تو اپنے صوبے کی بات تو کریں گی۔ ایسا پہلے کبھی کسی وزیراعلیٰ نے نہیں کیا، شاید اس وجہ سے یہ ایک انہونی بات لگ رہی ہے۔
میں سمجھتا ہوں صوبائیت کو اتنا نہیں بڑھانا چاہئے کہ نفرتیں بڑھیں۔ حقیقت یہ ہے ہر صوبے میں ہر صوبے کے افراد موجود ہیں اور اپنی زندگی گزار رہے۔ہاں اگر صحت مندانہ مقابلہ ہو تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں میں تو یہ بھی سوچتا ہوں کہ کیا لاہور اور کراچی کا مقابلہ بنتا ہے؟ کراچی ایک بہت بڑا اور بین الاقوامی شہر ہے۔لاہور اُس کے مقابلے میں آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا ہے۔ کراچی سے جب لوگ لاہور آتے ہیں تو انہیں لگتا ہے جیسے وہ لاہور سے ملتان آ گئے ہوں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ لاہور پنجاب کا دِل ہے اور اپنے حساب سے ایک ترقی یافتہ اور خوبصورت شہر ہے۔ ہم پنجابیوں کی ایک سرشت ہے کہ ہم کھلے دِل کے مالک ہیں۔ ہم اُس طرح نہیں سوچتے جیسے دوسرے سوچتے ہیں،اس لئے بھی کہ پنجاب ایک بڑا بھائی ہے، جس نے سب کو لڑی میں پرو رکھا ہے۔
مریم نواز کبھی کبھی پنجاب کے معاملے میں جذباتی ہو جاتی ہیں وہ صوبے میں ترقی کی بات ضرور کریں اور دوسرے صوبوں کو اِس حوالے سے کھلا چیلنج دیں تاہم یہ یاد رکھیں کہ وہ ملک میں سب سے بڑے بھائی کی وزیراعلیٰ ہیں۔ اُن کی طرف سے دوسرے صوبوں کو ٹھنڈی ہوائیں ہی جائیں تو بہتر ہے۔
کچھ لوگ یہ سوچ کر بھی حیران ہوتے ہیں کہ پنجاب کا مقابلہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے کیوں نہیں کیا جا رہا؟ خیبرپختونخوا میں تو تحریک انصاف کی حکومت ہے جو مسلم لیگ(ن) کی اتحادی بھی نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو مسلم لیگ(ن) کے صوبائی وزرا علی امین گنڈا پور کی حکومت پر تنقید کرتے رہےمگر اب سارا رخ سندھ کی طرف ہے جہاں پیپلزپارٹی کی17برسوں سے حکمرانی ہے۔ یہ معاملہ سیلاب کے بعد گرم ہوا ہے۔ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریاں بہت زیادہ ہوئیں ۔جن دِنوں ابھی سیلاب لاہور اور اُس کے بعد نکل کر جنوبی پنجاب میں تباہی پھیلا رہا تھا، بلاول بھٹو زرداری نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ حکومت بیرونی امداد کیلئے اپیل کیوں نہیں کر رہی۔وہ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے ملتان آئے تو انہوں نے یہاں بھی یہی بات کی۔ تکنیکی طور پر اُن کی یہ بات اُس وقت درست نہیں تھی۔ یہ پنجاب حکومت کا اختیار تھا کہ وہ سیلاب کے نقصانات سے خود نمٹتی ہے یا عالمی برادری سے امداد کی اپیل کرتی ہے۔
وفاقی حکومت نے بھی یہ اپیل اُسی وقت کرنی تھی جب پنجاب ہاتھ کھڑے کر دیتا۔ بلاول بھٹو زرداری کی یہ بات یا مطالبہ بالواسطہ طور پر پنجاب حکومت کے خلاف ایک بیانیہ تھا کہ وہ خود کچھ کر رہی ہے اور نہ عالمی برادری سے اپیل کرنا چاہتی ہے۔یہاں سے وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنا بیانیہ دینا شروع کیا۔وہ امداد کی اپیل کو کشکول پکڑنے کی عادت اور بھکاری پن تک لے گئیں۔ انہوں نے کہا پنجاب کو کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں، خود اپنے وسائل سے متاثرین کی مدد و بحالی کی جائے گی۔ بلاول بھٹو زرداری کیلئے یہ ایک بڑا تازیانہ تھاکیونکہ بالواسطہ طور پر کشکول پکڑنے کے طعنے انہیں دیئے گئے تھے۔ اس پر بات آگے بڑھ گئی۔ پھر یہ بھی ہوا کہ سیلاب کا پانی چونکہ زیادہ دیر تک پنجاب میں رکا رہا اور آہستہ آہستہ سندھ سے گزرا اس لئے سندھ میں سیلاب سے تباہ کاری بہت کم ہوئی۔گویا پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کے پاس سیلاب کارڈ نہ رہا۔جبکہ دوسری طرف پنجاب میں سیلاب زدگان کی امداد کیلئے بڑی مربوط سرگرمیاں جاری رہیں۔ مریم نواز،وزرا اور سرکاری حکام نے دن رات جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں کام کیا۔ بلاول بھٹو زرداری ایک بار آئے اور چلے گئے۔ پیچھے گیلانی خاندان نے پیپلزپارٹی کی طرف سے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں مگر اُن کا پیمانہ اتنا وسیع نہیں تھا۔ سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی اور علی حیدر گیلانی سرگرم رہے اور اب بھی سرگرم ہیں۔ لیکن پیپلزپارٹی نے اجتماعی طور پر وہ سرگرمی نہیں دکھائی جو یہ تاثر دینے کیلئے ضروری تھی کہ پیپلزپارٹی نے سیلاب زدگان کو تنہا نہیں چھوڑا۔دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹوں کی سکیورٹی واپس لے لی گئی۔گیلانی خاندان کے ارکان اسمبلی بیٹے واحد ایم این اے یا ایم پی اے ہیں جنہیں سرکاری سکیورٹی حاصل رہی ہے، وگرنہ رکن اسمبلی کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی۔
اب صورتحال یہ ہے پنجاب اور سندھ اِس وقت چائے کی پیالی میں طوفان کا شکار ہیں۔پیپلزپارٹی کے وزرا اور نمائندے روزانہ یہ باور کراتے ہیں کہ ہم مسلم لیگ(ن) کا ساتھ چھوڑ دیں تو یہ سسٹم ایک دن باقی نہ رہے۔چند روز پہلے پیپلزپارٹی کے ارکان نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تو تحریک انصاف کے اسد قیصر نے پیشکش کی کہ پیپلزپارٹی تحریک عدم اعتماد لائے تو تحریک انصاف حمایت کرے گی۔ مگر سب جانتے ہیں کہ یہ ممکن ہی نہیں،جس بندوبستی نظام کے تحت یہ سب چل رہا ہے ،اُس میں پیپلز پارٹی کے پاس یہ اختیار ہی نہیں کہ وہ کوئی ایسا فیصلہ کر سکے۔ اسی لئے اس ساری لڑائی پر نورا کشتی کا گمان ہوتا ہے۔
البتہ مریم نواز کو اس کا سیاسی فائدہ ہو رہا ہے۔وہ پنجاب کے بارے میں بول رہی ہیں اور بڑی خوبصورتی سے یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہی ہیں کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں اُن کی بے مثال کارکردگی سے خائف ہے اور انہیں نشانہ بنائے ہوئے ہے۔سندھ کے وزراجب یہ کہتے ہیں کہ وہ جلد لاہور کو بھی کراچی جیسا ترقی یافتہ شہر بنا دیں گے، بلکہ پورے پنجاب کو سندھ جیسی ترقی دیں گے تو عام آدمی کی بھی ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔کراچی کو کھنڈرات کا شہر بنا دیا گیا ہے اور اس کی ذمہ دار پیپلزپارٹی کے سوا اور کون ہو سکتی ہے جو سترہ برسوں سے صوبے کے سیاہ و سفید کی مالک بنی ہوئی ہے۔پنجاب اور سندھ کے اس مقابلے میں اگر عوام کا کچھ بھلاہوتا ہے، تو اس سے اچھی کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)