امن کا نوبل انعام جمہوریت کی جد و جہد کے لیےوینزویلا کی مریا کورنا مچڈو کو ملا
2025 کا نوبل امن انعام ونزیویلا کی مرِیا کورِنا مَچَڈو کو دیا گیا ہے۔ نوبل کمیٹی کے مطابق مرِیا کورِنا مَچَڈو کو نوبل انعام برائے امن وینزویلا کے عوام کے جمہوری حقوق کے فروغ کے لیے انتھک محنت پردیا گیا ہے۔
انہوں نے آمریت سے جمہوریت کی جانب انصاف پسند اور پرامن تبدیلی کے لیے جدوجہد کی ہے۔
کمیٹی کی پریس ریلیز کے مطابق 2025 کا نوبل انعام برائے امن ایک ایسی ’خاتون کو دیا گیا ہے جو بڑھتی ہوئی تاریکی کے باوجود جمہوریت کی شمع کو جلائے رکھے ہوئے ہیں‘۔ وہ حالیہ وقتوں میں لاطینی امریکہ کی سب سے ’غیر معمولی مثالوں‘ میں سے ایک ہیں۔
نوبل کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مَچَڈو ایک متحد کرنے والی شخصیت رہی ہیں۔ یہ کوئی راز نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام برائے امن چاہتے تھے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو ان چند عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے امریکی صدر کو ناروے میں انعام کمیٹی کے سامنے نامزد کیا تھا۔ تاہم کمیٹی کے سرببراہ نے بتایا کہ سال رواں کا امن انعام 2024 کے دوران رونما ہونے والی سرگرمیوں کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔
امن نوبل انعام کے اعلان کی تقریب ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ہوئی۔ یہ انعام رسمی طور پر 10 دسمبر کو پیش کیا جائے گا۔
نوبل امن کمیٹی کی جانب سے اس سال 338 نامزدگیوں پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا کہ ماریہ کورینہ نے وینزویلا میں جمہوریت کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور کئی مشکلات برداشت کیں۔ یہ عالمی اعزاز امن، انسانی حقوق اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے دیا جاتا ہے اور اپنی 124 سالہ تاریخ کے ساتھ آج بھی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
نویل امن انعام سویڈن کے سائنسدان الفریڈ نوبیل کی وصیت کے مطابق قائم کیا گیا تھا جنہوں نے اپنی دولت کا ایک حصہ اُن شخصیات یا اداروں کے نام کرنے کی ہدایت دی جو دنیا میں امن اور بھائی چارے کے قیام کے لیے نمایاں کردار ادا کریں۔ پہلا نوبل امن انعام 1901 میں دیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس انعام کے لیے خاصے پرامید تھے اور اعلان سے چند گھنٹے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی‘۔