دہشت گردی پر سیاست بند کی جائے: آئی ایس پی آر

  • جمعہ 10 / اکتوبر / 2025

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی، یہاں گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا۔

اس کا خمیازہ آج تک خیبرپختونخوا کے بہادر اور غیور عوام اپنے خون سے بھگت رہے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں گورننس قائم ہونے کی وجہ سے دہشت گردی نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کور ہیڈ کوارٹرز پشاور میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ پریس کانفرنس کا مقصد صوبہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے آغاز میں خیبرپختونخوا کے غیور عوام کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے صوبے میں انسداد دہشت گردی آپریشن کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوامیں2024کے بعد خفیہ اطلاعات پر 14ہزار 535 آپریشنز کیے۔ یومیہ بنیاد پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کی تعداد 40 بنتی ہے۔ 2024 میں آپریشن کے دوران 769 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جن کی یومیہ تعداد 2.1 بنتی ہے۔ ان آپریشنز کے دوران 577 قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا جن میں پاک فوج کے 272 بہادر افسران اور جوان، پولیس کے 140 جبکہ 165 معصوم پاکستانی شہری شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 2025 کے دوران 15 ستمبر تک 10 ہزار 115 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جاچکے ہیں جن کی یومیہ تعداد 40 بنتی ہے جن میں 917 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جاچکا ہے، جن یومیہ شرح 3.5 بنتی ہے۔ رواں سال خیبرپختونخوا میں آپریشنز کے دوران 516 قیمتی جانوں نے جام شہادت نوش کیا جس میں پاک فوج کے 311 افسران و جوانان، پولیس کے 73 اہلکار اور 132 معصوم شہری شامل ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 2016 سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنا شروع کیا اور ایک پر امن خیبرپختونخوا کے خواب کی تکمیل کے قریب پہنچ گئے۔ مگر بدقسمتی سے خیبرپختونخوا میں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو اسپیس دی گئی۔ یہاں گورننس اور عوامی فلاح و بہبود کو جان بوجھ کر کمزور کیا گیا، جس کا خمیازہ آج تک خیبرپختونخوا کے بہادر اور غیور عوام اپنے خون اور اپنی قربانیوں کے ذریعے بھگت رہے ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ان عوامل کو جاننا ضروری ہے جن کی وجہ سے آج دہشت گردی موجود ہے، انہوں نے دہشت گردی ختم نہ ہونے کی 5 بنیادی وجوہات بھی بیان کیں۔

  • نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ کرنا۔
  • دہشت گردی کے معاملے پر سیاست کرنا اور قوم کو اس سیاست میں الجھانا۔
  • بھارت کا افغانستان کو دہشت گردی کے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا۔
  • افغانستان میں دہشت گردوں کو جدید ہتھیاروں اور پناہ گاہوں کی دستیابی۔
  • مقامی اور سیاسی پشت پناہی کا حامل دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کا گٹھ جوڑ۔

ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ کیا آپ کو یہ آواز نہیں آتی کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کرلیے جائیں، کیا ہم اس نیشنل ایکشن پلان پر عمل کررہے ہیں؟ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت ہے؟ اگر حل مسئلے کا حل بات چیت میں ہے تو جب 6 اور 7 مئی کو بھارت نے پاکستان پر میزائل مارے، معصوم بچوں، خواتین، مدرسوں اور مساجد کو شہید کیا تو اس ملک کے عوام نے یہ کیوں نہیں کہا کہ اگلے دن بات چیت کرلیتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اگر ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہوتا تو کوئی غزوہ ہوتا، نہ جنگیں ہوتیں اور نہ مہمات ہوتیں۔ آپ کے عمائدین نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم بیانیہ بنائیں گے مگر گمراہ کن بیانیہ بنایا جاتا ہے۔ ہم نے نہیں ہمارے سیاستدانوں، تمام صوبائی حکومتوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کو ختم کرنا ہے دہشت گردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہے، غیرقانونی کاروباروں، منشیات، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے ناسور سے اپنے خطے کو پاک کرنا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ اس ملک کے سیاستدانوں اور سیاسی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ دہشت گردی کے مقدمات کے لیے اپنے عدالتی نظام کو مضبوط کرنا ہے لیکن ابھی ہم کہاں کھڑے ہیں کہ اگست 2025 میں خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں سے کسی دہشت گرد کو سزا نہیں ہوئی۔ 34 مقدمات زیر التو ہیں، 2878 زیرالتوا مقدمات 3 سال سے کم عرصے جبکہ 1706 مقدمات کو 3 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے۔

دہشت گردی اور غیرقانونی کاروبار کے گٹھ جوڑ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے پیشے غیرقانونی کاروبار کا گٹھ جوڑ ہے۔ منشیات کے 10 ہزار 87 کیسز میں سے صرف 679 مجرموں کو سزا ہوئی جبکہ غیرقانونی ہتھیاروں کے 33 ہزار 389 مقدمات میں صرف 6 ہزار 945 مجرموں کو سزا ہوئی، انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف عدالتی مہم کی یہ صورتحال ہے۔

ترجمان پاک فوج نے کہ نیشنل ایکشن پلان میں مدارس کے اندراج کا فیصلہ ہوا تھا مگر ہم اب تک صوبے میں 4 ہزار 355 تقریباً 55 فیصد مدارس کا آج تک اندراج ہوسکا ہے۔ ابھی اندراج ہی مکمل نہیں ہوسکا تو نصاب ایک کرنا اور اس کے اوپر نگرانی کرنا تو الگ بات ہے۔ اگر سوال یہ ہے کہ دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہورہی تو ان سوالات کا جواب بھی دیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 2014 اور پھر 2021 میں بھی یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانوں کو واپس بھیجنا ہے تو آج یہ بیانیہ کہاں سے آگیا کہ ان کو واپس نہیں بھیجنا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ 2014 اور 2021 میں غلط تھے۔ جب افغانستان میں امن آچکا ہے اور وہاں کوئی قابض افوج نہیں ہے تو کئی دہائیوں تک افغان بھائی کی مہمان نوازی کرنے والی ریاست انہیں واپس جانے کا کہتی ہے تو اس پر سیاست کی جاتی ہے، اس پر بیانیے بنائے جاتے ہیں اور گمراہ کن باتیں کی جاتی ہیں۔

دوحہ معاہدے پر میں کہا گیا کہ افغان سرزمین نہ صرف امریکا بلکہ خطے میں بھی کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگ، مگر آپ کےسامنے اعداد و شمار رکھے ہیں کہ کتنے افغان تشکیلات میں آتے ہیں، کتنے ہم نے ختم کیے اور کتنے افغان خودکش حملوں میں شامل ہیں۔ تو پھر کیسے افغان سرزمین خوارج اور دہشت گردوں کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال ہورہی ہے؟ امریکا افغانستان سے گیا تو اس کا چھوڑا ہوا اسلحہ بڑی تعداد میں خوارج کے پاس گیا۔ امریکا کی اپنی سگار کی 2024 کی رپورٹ کہتی ہے کہ امریکی فوج 7.2 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار افغانستان چھوڑ کر گئی۔

ترجمان پاک فوج نے خیبرپختونخوا میں آپریشنز کے دوران مارے گئے خارجیوں سے برآمد امریکی ہتھیاروں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ پچھلے 3 ماہ میں دہشت گردی کے 3 ہزار 984 واقعات پیش آئے، ان میں سے 70 فیصد خیبرپختونخوا میں کیوں پیش آئے؟ یہ بڑا منطقی سوال ہے جو نوجوان اور سوشل میڈیا بھی کرتا ہے، دہشت گردی کے یہ واقعات پنجاب اور سندھ میں کیوں نظر نہیں آتے؟ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ دہشت گرد ان صوبوں میں کام نہیں کرنا چاہتے اور اپنے نظریات کی وہاں ترویج نہیں چاہتے۔ نہیں اس کی قطعی یہ وجہ نہیں ہے۔

یہ افسوسناک ہے کہ گورننس، کارکردگی، صلاحیت اور استعداد کار اور سی ٹی ڈی کو بڑھانے اور عدالتی نظام کو مضبوط بنانے اور غیرقانونی مقیم افغانوں کو واپس افغانستان بھیجنے کے بجائے ایک کنفیوژن اور ابہام پیدا کیا جائے۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر آرمی چیف واضح طور پر کہہ چکے ہیں، گورننس کے خلا کو پاک فوج کے افسران، جوان، پولیس کے افسر اور جوان، بچے اور ہمارے ادارے اپنے خون سے پُر کررہے ہیں۔ حکومتی خلا کو پاکستان اور خیبرپختونخوا کے عوام روزانہ اپنے خون سے پُر کررہے ہیں۔ ترجمان پاک فوج نے سوال کیا کہ اگر گورننس کے خلا کو پُر نہیں کرنا اور متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرنا تو پھر خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے ناسور سے کیسے چھٹکارا ملے گا؟

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ ریاست پاکستان کے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے حوالے سے جو جھوٹا، فرضی اور من گھڑت بیانیہ بنایا جارہا ہے اور شہدا اور افواج پاکستان اور پولیس کی قربانیوں کی جو تضحیک کی جاتی ہے، یہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کے مزموم عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے یہی سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی عوام کی سیکیورٹی کسی دوسرے ملک ، بالخصوص افغانستان کو رہن نہیں کی جاسکتی۔ صرف ریاست، افواج پاکستان اور اس کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی پاکستان کے عوام کی سلامتی کے ضامن ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج اور اس کے اداروں کو کسی سیاسی شعبدہ بازی سے پریشان نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کو کسی فرد واحد کی خواہش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جاسکتا۔ وہ فرد کو تن تنہا انتہائی غیر ذمہ داری سے دہشت گردی کو پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا میں واپس لایا۔ کسی فرد واحد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنی ذات اور اپنے مفاد کے لیے پاکستان اور خیبرپختونخوا کے غیور اور باعزت عوام کے جان، مال اور عزت آبرو کا سودا کرے۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان آئین اور قانون کے مطابق خیبرپختونخوا میں داخلی سلامتی کے فرائض انجام دے رہی ہیں، جس کی بنیادی ذمہ داری صوبائی اور مقامی انتظامیہ کی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بجائے منفی سیاست، الزام تراشی اور خارجہ جرائم پیشہ مافیا کی سہولت کاری کے بجائے آپ اپنی اس بنیادی ذمہ داری پر توجہ دیں گے۔

ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ خیبرپختنخوا کے غیور عوام کی حفاظت کے لیے افغانستان سے سیکیورٹی کی بھیک مانگنے کے بجائے اس صوبے کے ذمہ داران ہوتے ہوئے خود اس کی حفاظت کریں گے جو نہ صرف خیبرپختونخوا کے عوام کا حق ہے بلکہ آپ کا فرض ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افواج پاکستان یہ بات بھی واضح کرنا چاہتی ہیں کہ خارجی دہشت گرد اور ان کے سہولت کار چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی عہدے پر ہو، اس کے لیے زمین تنگ کردی جائے گی کیونکہ پاکستانی قوم سیسہ پلائی دیوار ’بنیان مرصوص‘ کی طرح دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کھڑی ہے اور انشااللہ کھڑی رہے گی۔ ہمارے شہدا کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمدشریف چوہدری نے کہا کہ ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اب اسٹیٹس کو نہیں چلے گا۔ جو شخص یا گروہ اپنی مجبوری یا کسی فائدے کی وجہ سے خارجیوں کی سہولت کاری کررہا ہے اس کے پاس 3 راستے ہیں۔ اول یہ کہ وہ خود ان خارجیوں کو ریاست کے حوالے کردے۔ 2۔ یا پھر وہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ریاست کے اداروں کے ساتھ مل کر اس ناسور کو اپنے انجام تک پہنچائے تاکہ معصوم عوام کو نقصان نہ ہو۔ 3۔ تیسرا راستہ یہ ہے کہ اگر یہ دونوں کام نہیں کرنے تو پھر خارجیوں کے سہولت کار ہوتے ہوئے ریاست پاکستان کے بھرپور ایکشن کے لیے تیار ہوجائیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیاروں کے دہشت گردوں کے ذریعے استعمال ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ ضروری نہیں کہ یہ ہتھیار اور سامان فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان ہی استعمال کریں، یہ سامان اور ہتھیار کہیں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔ خود امریکی حکومت بھی فکرمند ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں اور سامان کو واپس لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا افغانستان کی حکومت کاکام ہے کہ وہ غیرریاستی عناصر کی سرپرستی جاری رکھنا چاہتی ہے یا نہیں ہمارا کام انہیں اپنا پیغام پہنچادینا ہے اور وہ ہم زبانی اور عملی طور پر کام کررہے ہیں۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ ہم نے ان ( دہشت گردوں) سےکیسے نمٹنا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چیزیں کیسے تبدیل ہوں گی، چیزیں اس وقت تبدیل ہوں گی جب ہم میں یکجہتی ہوگی اور ہم نیشنل ایکشن پلان پر عمل کریں گے۔ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردوں سے پوری قوم نے لڑنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو سیاسی شعبدہ بازی کرتے ہیں ان کا گریبان پکڑیں اور ان سے پوچھیں کہ تم ہماری جان، عزت اور مال سے کیوں کھیل رہے ہو اور دہشت گردی کے بیانیے کو کیوں سپورٹ کر رہے ہو۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگردی ایسے ختم ہوگی کہ ہم دہشتگرد اور اس کے سہولت کار کو ایک برابر جانیں۔ جو دہشتگردوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اور اس نے اسلحہ اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے تو اس میں اور دہشتگرد میں کیا فرق ہے۔

جو دہشتگردوں کی سہولت کاری کر رہا ہے اس کے پاس تین چوائس ہیں، پہلی یہ کہ وہ دہشتگرد کو خود ریاست کے حوالے کرے، اگر وہ یہ نہیں کرنا چاہتا یا نہیں کرسکتا تو ریاست کے ساتھ ملے اور مل کر اس ناسور کو ختم کرے کیونکہ اس کی بھی زندگی اس ( دہشتگرد ) نے اجیرن کی ہوئی ہے۔ اور اگر وہ یہ بھی نہیں کرنا چاہتا تو پھر وہ ایک سہولت کار ہے تو یہاں کولیٹرل ڈیمیج کا سوال کہاں سے آگیا۔ یہاں کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں ہے بلکہ یہ دہشتگرد اور اس کے سہولتکار ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی حکومت کبھی یہ کہتی ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوجائے اور کبھی کہتی ہے کہ کابل کے آگے جھکنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ تو یہ ان کے بیانیے کا بڑا چھوٹا سا حصہ ہے۔ جو دہشتگردوں کا سہولت کار مارا گیا اس سہولت کار کے لواحقین کو پیسے دے کر اس کا رتبہ بڑھانا حکومت کیلئے بہت آسان ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ گورننس اور کرپشن پر بات کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ ہر لمحہ ان کے بیانیے کی بنیاد صرف سیکیورٹی مسائل پر ہے۔ باقی صوبے دہشتگردی کے خلاف جنگ کیلئے این ایف سی کا ایک فیصد دے رہے ہیں۔ یہاں ( خیبرپختونخوا ) سے نہیں دیا جارہا وہ کہاں جا رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں ہورہا، عوام کے لیے کام ہونا چاہیے تھا، کیوں نہیں ہوا۔ یہاں 40 ارب روپے کی کرپشن ایک پسماندہ ضلع میں درمیانے درجے کے ٹھیکیدار کے پاس سے نکل آئی۔ اس پر آپ نے سوال نہیں اٹھانا تاکہ دہشتگردی کے اوپر بیانیہ اس کنفیوژن میں رکھا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آپ کو کوئی یہ نہیں بتائے گا کہ افغانستان کے ساتھ طویل سرحد پر دوسری طرف سے ہماری فوج کو انگیج کرکے دہشتگردوں اور اسمگلروں کو سرحد پار کرایا جاتا ہے۔ جھوٹ اور کنفیوژن پر مبنی بیانیہ بنانے میں مہارت حاصل ہوچکی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کو وسیع پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے عوام کو دیانتداری کے ساتھ سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس منفی سیاست کا، اس گمراہ بیانیے کا خمیازہ دہائیوں سے خیبرپختونخوا بھگت رہا ہے۔

چنانچہ ہم سب کو اس منفی پروپیگنڈے کے خلاف یک زبان ہوکر کھڑے ہونا ہوگا، اور جھوٹ اور غلاظت سے بھری ہوئی سیاست سے اپنے آپ کو دور کرنا پڑے گا۔ اور ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہے اور ہم یہی کریں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی بھی سیاسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے گی، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے چودہ نکات پر جو عمل نہیں کرنا چاہ رہے ان کے اپنے ذاتی، مالی اور سیاسی فوائد ہیں۔ ہمارے جوان اور افسران کسی ذاتی یا مالی فائدے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے گولی کھاتے ہیں۔ اگر ہم نے ایک آزاد، غیرتمند اور خود دار قوم کی حیثیت سے جینا ہے تو پھر چوائس ایک ہی ہے اور وہ یہی ہے کہ ہم نے دہشتگردوں، ان خوارج اور ان کے سہولت کاروں سے لڑنا ہے اور اس ناسور کو ختم کرنا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ریاست کا ادارہ ہیں اور ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں اور تمام سیاسی رہنما قابل احترام ہیں۔ لیکن اگر کوئی پارٹی یا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی سیاست اس ریاست سے بڑی ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق ملک میں جمہوریت ہے اور ہمارے لیے یہ انتہائی قابل احترام نظام ہے۔ اسی میں پاکستان کا مستقبل ہے، اسی جمہوری نظام کے اندر سے ہی ملک نے خود کو بہتر کرنا ہے اور آگے بڑھنا ہے۔ ہم ایک ریاستی ادارے کے طور پر کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی سیاست کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہم ریاست اور عوام کے لیے جان دیتے ہیں ہم کسی کی سیاست کی جنگ نہیں لڑتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب تک سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کے ذریعے دہشتگردی کو باقی رہنے کے لیے سہارا دیا جاتا رہے گا، ہمارے جوان شہید ہوتے رہیں گے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک پاکستان کے عوام ان کے گمراہ کُن سیاسی پروپیگنڈے کو سامنے رکھ کر ان سے سوال نہیں کرتے۔ جب تک آپ ( نیشنل ایکشن پلان کے ) ان چودہ نکات پر پوری طرح عمل نہیں کرتے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک چلے گا جب تک ہم یہ نہیں جان لیتے کہ پاکستان کے تحفظ کے ضامن ہم خود ہیں۔