جنگ بندی: مشرق و مغرب میں خوشی کی لہر

7اکتوبر کی دہشت گردی کے جواب میں پورے دو سال خونریزی کروانے اور 67 ہزار بندے مروانے کے بعد بالآخر ٹرمپ امن معاہدے کے تحت شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تاریخی جنگ بندی معاہدہ کے پہلے مرحلے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

مصر کے سیاحتی مقام پر اسرائیل اور حماس میں یہ مذاکرات براہِ راست نہیں بالواسطہ ہوئے جن میں اسرائیلی وفد کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر اور ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو واٹکواف بھی شامل گفتگو تھے۔ دوسری طرف مصر، ترکیہ اور قطر کے نمائندوں نے بھی کامیابی کی طرف پہنچنے میں بھرپور رول ادا کیا۔ جنہیں سعودی عرب، یونائیٹڈعرب امارات اور جارڈن کی معاونت بھی حاصل رہی۔ امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میٹنگ کے دوران مارکو روبیو کی طرف سے اطلاع موصول ہونے کے بعد باضابطہ طور پر اسرائیل حماس جنگ بندی کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ وہ ان خوشگوار لمحات میں اتوار کو مڈل ایسٹ جائیں گے۔ عرب ممالک کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ اسرائیلی پارلیمنٹ کینسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔ پیر یا منگل تک اسرائیلی یرغمالی رہاہوکر اپنے گھروں میں پہنچ جائیں گے۔ واضح رہے کہ بیس اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے، اسرائیل کی طرف سے سترہ سو عام فلسطینی قیدی اور ڈھائی سو وہ قیدی جنہیں اسرائیلی عدالتوں سے عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں، سب رہا کیے جائیں گے۔ کچھ اسی نوع کی شرح ایک دوسرے کی ڈیڈباڈیز کے حوالے سے بھی ہے۔

اس امر پر حیرت اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ اسرائیل اپنے ایک شہری کو بھی کس قدر اہمیت دیتا ہے۔ ماضی میں ایسی مثال بھی موجود ہے کہ جب اسرائیل نے اپنے محض ایک بندے کو چھڑوانے کے لیے حماس کے ہزار بندوں کو رہا کیا تھا۔
مڈل ایسٹ میں امن کی طرف پہلے قدم  پر پوری دنیا، مشرق و مغرب میں خوشی و مسرت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ ، رشیا، چائنا، یورپین اقوام، آسٹریلیا سمیت تمام عرب ممالک نے بھی اپنے خوشی بھرے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ اس امن معاہدے کا بڑا کریڈٹ امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ کو جاتا ہے جو نوبل پیس پرائز کے لیے اس قدر بےتاب ہیں کہ ماقبل سچی جھوٹی سات جنگیں بند کروانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے۔ اب کی بار تو واقعی ان کا کارنامہ رقم ہوگیا ہے۔

ترک پریذیڈنٹ اردوان نے ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں غزہ جنگ بندی کے لیے تمام فریقوں کو قائل کرنے بالخصوص اسرائیلی قیادت کو ہمنوا بنانے پر پریذیڈنٹ ٹرمپ کا خصوصی طور پر شکرگزار ہوں۔ سچائی یہی ہے کہ انہوں نے جس طرح پرائم منسٹر نیتن یاہو پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں جنگ بندی پر آمادہ کیا، اسی طرح عرب اسلامک قیادتوں کو بھی اعتماد میں لیتے ہوئے اپنا غزہ امن روڈ میپ منوایا۔ بالخصوص قطر، ترکیے اور مصر جن کا حماس قیادت پر خاصا اثر رسوخ ہے جن کی معاونت کے بغیر خون ریزی روکنا مشکل تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس موقع پر پریذیڈنٹ ٹرمپ نے ایران کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ اور یہ امید ظاہر کی ہے کہ ہم انہیں بھی اپنا ہمنوا بنالیں گے ۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اس معاہدے کو ایسا تاریخی لمحہ قراردیا ہے جو نہ صرف جنگ کا باب بند کردے گا بلکہ خطے کے عوام کو انصاف اور ترقی و استحکام سے وابستہ مستقبل کی امید کا دروازہ بھی کھول دے گا۔ اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو نے اسے اپنی قوم کے لیے ایک ”عظیم دن“ قراردیا ہے جب اسرائیلی یرغمالی اپنے گھروں کو لوٹیں گے۔ جمعرات کی شام اسرائیلی کابینہ نے اپنے خصوصی اجلاس میں اس معاہدے کی توثیق کردی ہے جس کا مطلب ہے کہ اب اسرائیلی فورسز معاہدے کے مطابق نہ صرف سیز فائر کریں گی بلکہ غزہ، رفاہ اور خان یونس جیسے شہروں سے نکل کر مخصوص پٹی میں چلی جائیں گی اور غزہ کے عوام کو عالمی امداد پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔

جنگ بندی اعلان کے بعد جس طرح غزہ میں لوگوں کو ناچتے گاتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے شہروں میں بھی اسی نوع کے مناظر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ بالخصوص ان لوگوں کے جن کے پیارے دو برسوں سے حماس کے یرغمالی بنے ہوئے تھے۔ اور ہمہ وقت کھٹکا تھا کہ کہیں انہیں مار ہی نہ دیا جائے۔ ایک اسرائیلی یرغمالی نمرود کوہن کی والدہ نے کہا کہ میرے بچے تم گھر واپس آرہے ہو میں خوشی سے پاگل ہورہی ہوں۔ ایک مسلم اسرائیلی علی شارابی جن کی اہلیہ اور بچے 7اکتوبر کے حملے میں مارے گئے تھے اور حماس والے بھائی کو یرغمالی بناکر لے گئے تھے، اب حماس کی قید میں مرجانے والے اپنے بھائی کی لاش ملنے پر علی شارابی خوشی کا اظہارکرتے پایا گیا ہے۔

یہ سب باتیں اپنی جگہ خوش کن لیکن کیا ان لمحات میں ہمیں گزرے دو برسوں میں جو کچھ ہوا اس سب کا تنقیدی جائزہ نہیں لینا چاہیے یہ کہ 7اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے اندر گھس کر دہشت گردانہ حملہ کرنا بارہ سو اسرائیلیوں کو قتل کرتے ہوئے ڈھائی سو کو یرغمالی بناکرلے جانا حماس کا کتنا بڑا بلنڈر تھا۔ اس روز درویش نے یہ لکھا کہ میرے حماس کے پیارے بھائیو آپ لوگوں نے جو بلنڈر مارا ہے، اب اس پر اسرائیل کا جوشدید ترین ردِعمل آئے گا اس پر تم لوگ مظلومیت کی چادر مت اوڑھ لینا۔ درویش عرض گزار ہے کہ دنیا میں فلسطینی عوام کا کوئی بھی دشمن نہیں۔ کیا یہ سچائی نہیں ہے کہ خود اسرائیل کے اندر آٹھ ملین یہودیوں کے ساتھ گھی شکر بن کر دو ملین سے زائد فلسطینی مسلمان بھی آباد ہیں۔ اور وہ وہاں دوسرے درجے کے نہیں برابر کے اسرائیلی شہری ہیں۔ جن کی مساجد میں لاؤڈ سپیکروں پر اذانیں ہوتی ہیں حتیٰ کہ کینسٹ اسرائیلی پارلیمنٹ میں اذان دے کر نمازیں پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ بشمول آرمی تمام سرکاری محکموں میں ملازمتیں کرتے ہیں۔ اسرائیل کو اصل مسئلہ عام فلسطینیوں سے نہیں، حماس جیسی ٹیررسٹ تنظیموں سے ہے جن کا سب سے پاپولر نعرہ ہی یہ ہے کہ “فرام ریور ٹو سی فلسطین فری”۔ یعنی اسرائیل کا وجود ہی کلی طور پر ناقابلِ تسلیم ہے۔ یہی متشدد اپروچ درحقیقت تمام منافرتوں کی جڑ ہے۔

آج خود حماس کی طرف سے صلح نامے پر دستخط ہونے کے بعد ان کے تمام غصیلے حمایتیوں کو ٹھنڈے ہوکر غور کرنا چاہیے کہ آپ لوگ ہمہ وقت الجہاد الجہاد کے نعرے لگاتے ہوئے یہود کے خلاف اتنی منافرت کیوں پھیلاتے ہو؟ آج تحمل کے ساتھ سوچو 7اکتوبر کا نائن الیون کرکے ہمارے حماس کے بھائیوں کو حاصل کیاہوا ہے؟ ان کا ہنستا بستا غزہ کس بے دردی سے اجڑ گیا ہے۔ سڑسٹھ ہزار فلسطینی عوام کی جانیں ضائع ہونا، کیا کوئی کم نقصان ہے؟ صرف اپنا ایشو ہائی لائٹ کرنے کے لیے اتنا بھاری قیمتی جانی ضیاع اف میرے خدایا…. عقل دنگ رہ جاتی ہے جب کوئی بھائی اس کو جسٹیفائی کر رہا ہوتا ہے۔ دل دکھتا ہے جب کوئی اس نوع کا استدلال کررہا ہوتا ہے کہ ہم اسی واسطے بچے زیادہ پیدا کرتے ہیں تاکہ انہیں مقامِ شہادت پر فائز کرسکیں۔ تازہ سروے کی دلیلیں دی جاتی ہیں کہ اتنی شہادتوں کے باوجود غزہ کی فلسطینی آبادی دو برس قبل کی آبادی سے زیادہ ہوچکی ہے۔ کیونکہ جتنے گئے ہیں، خدا نے ان سے زیادہ بھیج دیے ہیں۔ اس نوع کی جو بھی توجیہات کی جائیں بہرحال افسوسناک ہیں۔

اب اصل ایشوز آگے چل کر دوبارہ کھڑے ہونے والے ہیں۔ اسرائیل کا سب سے بڑا درد ان کے بیس یرغمالیوں کی رہائی تھا۔ اب جب یہ درد ختم ہوجائے گا، اس کے بعد حماس نے غیر مسلح ہونے جیسی دیگر شقوں کو ماننے سے انکار کیا تو ایک نیا تنازع کھڑا ہوجائے گا جس کے ردِعمل میں واپس گئی اسرائیلی فورسز کو دوبارہ غزہ لوٹنے میں کوئی بہت زیادہ خرچ نہیں آئے گا۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ عرب اسلامک ممالک کو اعتماد میں لیتے ہوئے ٹرمپ امن معاہدے میں جو شرائط طے ہوچکی ہیں، ہر دو فریقین نیک نیتی سے ان پر عمل درآمد کرتے ہوئے امن اور بھائی چارے کے ماحول کو آگے بڑھنے دیں۔ اور یہ بات پلے باندھ لیں کہ آج تک فلسطینیوں کو خونریزی سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جب بھی کچھ ملا ہے تو وہ صلح جوئی، مذاکرات اور امن کی یقین دہانی پر ممکن ہوا ہے۔ اس لیے مصری صدر انور السادات کے تدبر کو رول ماڈل بناکر اپنے معصوم بچوں کے مستقبل کو بہتر بنائیں۔ ان کے ہاتھوں میں بارود نہیں، زیتون کی شاخوں میں لپٹی کتب تھمائیں۔