تحریک انصاف کے خلاف پاک فوج کا جواب دعویٰ
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 10 / اکتوبر / 2025
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے متنبہ کیا ہے کہ خیبر پختون حکومت کو دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے کی بجائے، ان کے خاتمے کے لیے عسکری اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔ صوبے میں دہشت گردی کے بارے میں مسلح کارروائیوں کے خلاف بیانیہ بنانے سے امن و امان خراب کرنے والوں کو ہی فائدہ ہوگا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پشاور میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران تفصیل سے واضح کیا کہ خیبر پختون خوا حکومت کی ناقص کارکردگی اور گمراہ کن بیانیہ کی وجہ سے ملک میں ہونے والی دہشت گردی میں 70 فیصد کے لگ بھگ اس صوبے میں ہورہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ سندھ اور پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوتے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان صوبوں میں گورننس بہتر ہے اور وہاں دہشت گرد عناصر کو مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث مافیاز کے ساتھ گٹھ جوڑ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ جبکہ خیبر پختون خوا میں اس حوالے سے صورت حال مناسب نہیں ہے۔ دہشت گردی کی معاونت کرنے والے مارے جاتے ہیں تو حکومت ان کے لواحقین کو معاضہ دے کر دہشت گردی کےخلاف مہم کو نقصان پہنچاتی ہے۔
پاک فوج کی طرف سے ایک صوبے کی حکومت اور ملک کی ایک سیاسی پارٹی کے خلاف الزامات کی یہ فہرست درحقیقت دو روز پہلے صوبے میں علی امین گنڈا پور کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بنانے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے سیاسی وجوہات یا عمران خان کی صوابدید کا حوالہ دینے کی بجائے ، دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی مہم جوئی کے حوالے سے ایک طویل بیان جاری کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان نے کہا ہےکہ دہشت گردی ،عسکری کارروائی کی بجائے بات چیت سے ہی ختم کی جاسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے افغانستان کے ساتھ دشمنی کا تعلق بڑھانے کی بجائے، کابل حکومت کے ساتھ دوستانہ ماحول میں مذاکرات کیے جائیں تاکہ صوبے میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکے۔ سلمان اکرم راجہ نے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ پالیسی غلط ہے جس سے غلط فہمیاں اور فاصلے پیدا ہوتے ہیں۔ دہشت گردی کے ساتھ ملاکر اس معاملہ کو پیش کرنے سے یہ تاثر بھی قوی ہوتا تھا جیسے عمران خان اور تحریک انصاف ان دونوں معاملات میں تعلق واضح کرنا چاہتے ہیں۔ یا یہ کہنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ چونکہ پاکستان لاکھوں افغان شہریوں کو ملک سے نکال رہا ہے لہذا اسے کابل حکومت کی طرف سے کسی دوستانہ رویہ کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔
حالانکہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں سے تعلق ، دونوں مختلف معاملات ہیں۔ ان دونوں کے بارے میں اختلاف رائے ہوسکتا ہے لیکن ان دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنے سے کسی بھی معاملہ کو مکمل طور سے سمجھنا ممکن نہیں ہوگا۔ تحریک انصاف نے خیبر پختون خوا میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ، یہ شبہ بہر حال پیدا کیا ہے کہ پی ٹی آئی درحقیقت ایک ایسی افغان دوست حکمت عملی اختیار کرنا چاہتی ہے جس میں کابل میں طالبان حکومت کی شرائط کے مطابق پالیسی بنائی جائے کیوں کہ عمران خان دونوں ملکوں میں آباد مسلمان آبادیوں کو مسلم امہ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ البتہ ایسا گمان کرتے ہوئے صرف پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا اور افغانستان کو بری الذمہ سمجھنا حقائق سے منہ موڑنے اور پاکستان کے سکیورٹی مسائل کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
اب آئی ایس پی آر کے سربراہ نے اس حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا حکومت پر سخت الزامات عائد کیے ہیں اور واضح کیا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی زندگیوں کو افغانستان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری پوری کرنا پاج فوج کا فرض ہے اور وہ اس سے کوتاہی نہیں کرے گی۔ خیبر پختون خوا حکومت کی ناقص حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کی سہولت کاری برداشت نہیں کی جائے۔ یا تو ایسے عناصر ان لوگوں کو ریاست کے حوالے کردیں اور ان کے خاتمہ کے لیے عسکری اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں یا پھر ریاست پوری قوت سے ایسے تمام عناصر سے نمٹے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ’ریاست پاکستان کے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے حوالے سے جو جھوٹا، فرضی اور من گھڑت بیانیہ بنایا جارہا ہے اور شہدا ، افواج پاکستان اور پولیس کی قربانیوں کی جو تضحیک کی جاتی ہے، یہ سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ کے مذموم عزائم کی عکاسی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے پیچھے یہی سیاسی و مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختون خوا حکومت متفقہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہورہی ہے ۔ دہشت گردوں کے خلاف کام کرنے والی فورس محدود اور کم تعداد میں ہے اور گورننس شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’اگر گورننس کے خلا کو پُر نہیں کرنا اور متفقہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کرنا تو پھر خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے ناسور سے کیسے چھٹکارا ملے گا‘؟
میڈیا بیانات کے ذریعے ایک سیاسی جماعت اور ملک کی عسکری قوت کے درمیان ایسے اختلافی مکالمہ سے پاکستان کے دشمنوں ہی کو فائدہ پہنچے گا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے ذریعے ملکی ترقی اور یہاں معاشی احیا کے منصوبوں کو تاراج کرنے کی خواہش کرنے والے عناصر کے لیے ایسی بیان بازی کسی عظیم تحفہ سے کم نہیں ہے۔ بدھ کو ان سطور میں سلمان اکرم راجہ کی طرف سے دہشت گردی کے متعلق عمران خان کے مؤقف کے بارے میں یہی مشورہ دیا گیا تھا کہ یہ ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر اس قوم کے بیٹے شہید ہورہے ہیں۔ کسی پالیسی سے اختلاف کرنا غلط نہیں ہے لیکن اس کے اظہار کا پلیٹ فارم اور طریقہ کا ر درست ہونا چاہئے۔ اب آئی ایس پی آر نے بھی تحریک انصاف یا خیبر پختون خوا کی حکومت کو انگیج کرنے کی بجائے ، ان اعتراضات کا جواب دینے کے لیے پریس کانفرنس منعقد کرکے ان الزامات کی فہرست جاری کی ہے جو اس کے خیال میں تحریک انصاف سے سرزد ہورہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ ’ کوئی پارٹی یا کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی سیاست اس ریاست سے بڑی ہے تو یہ ہمیں قبول نہیں ہے‘۔
اس بیان بازی کے علاوہ تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بڑھتا ہؤا فاصلہ نہ صرف ملک کے سیاسی ماحول کو آلود ہ کرے گاا ور سیاسی عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف کی طرح پاک فوج کو بھی یہی چاہیے کہ صوبائی حکومت کے ساتھ انتظامی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات کو حکومت کے ساتھ مواصلت کے کسی مشترکہ پلیٹ فارم پر اٹھایا جائے اور مل جل کر حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی صوبائی حکومت پاکستانی ریاست یا پاک فوج کے ساتھ ٹکرانے کی پالیسی پر گامزن نہیں ہے۔ رائے عامہ میں اس تاثر کو قوی کرنے کی کوشش بھی نہیں ہونی چاہئے۔ اس پہلو سے دیکھاجائے توپاک فوج کے ترجمان نے بھی اسی غلطی کا ارتکاب کیا ہے، جس کا الزام وہ تحریک انصاف یا خیبر پختون خوا حکومت پر عائد کررہی ہے۔ پاک فوج خود ہی جمہوری نظام پر یقین کامل کا اعلان بھی کررہی ہے۔ اس اصول کو مانتے ہوئے پاک فوج یا اس کے کسی نمائیندے کو اہم سیاسی و سکیورٹی مسائل پر اختلافات میں کسی سیاسی پارٹی کو فریق بنانے سے گریز کرنا چاہئے ۔ فوج اگر تحریک انصاف کے ساتھ مکالمہ نہیں کرنا چاہتی تو اسے اس کے خلاف الزامات بھی جاری نہیں کرنے چاہئیں۔ بلکہ یہ کام وفاقی حکومت کی سیاسی قیادت پر چھوڑ دینا چاہئے۔
اسی طرح تحریک انصاف کو بھی پارٹی کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ اور ریشیہ دوانیوں کی صورت حال میں خیبر پختون خوا میں تبدیلی کو پاک فوج یا وفاقی حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ ایسی اشتعال انگیزی سے معاملات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں حکومت چلانے اور ملک میں سیاست کرنے کے لیے بہر حال ملک کے معروضی حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تصادم اور للکارنے کی پالیسی سے کوئی سیاسی مقصد حاصل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ تحریک انصاف تصادم کو ہتھکنڈے کے طور اختیار کر نے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اب ایک صوبے کے نئے وزیر اعلیٰ کے ذریعے بھی ایسی پالیسی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔
بدقسمتی سے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ایک ایسے دن منعقد ہوئی ہےجب نئی دہلی کے دورے پر گئے ہوئے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے ایک پریس کانفرنس میں پاکستان پر اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے متنبہ کیا کہ ’افغان عوام کے حوصلے کو چیلنج نہ کیا جائے۔ اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو اسے برطانیہ، سوویٹ یونین ، امریکہ اور نیٹو سے پوچھ لینا چاہئے کہ افغانستان کے ساتھ کھیلنے کا کیا انجام ہوتا ہے‘۔
اسی دوران لاہور سے تحریک لبیک پاکستان نے فلسطین کے معاملہ پر امریکی سفارت خانے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے لاہور سے ریلی نکالی ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے لاہور میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاہ اسلام آباد بند کرنے کی تیاریاں بھی کی جارہی ہیں۔
فوج سمیت تمام ارباب اختیار کو سوچنا چاہئے کہ خارجی اور داخلی محاذوں پر ایسی مشکل صورت حال میں اتفاق رائے قومی مفاد کے لیے بہتر ہے یا ایک دوسرے کو نشانے پر لے کر مسائل حل ہوسکتے ہیں؟