گنڈا پور کی معزولی: عمرانی حکمت عملی کامیاب ہو گی؟
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 11 / اکتوبر / 2025
پاکستان اپنی تاریخ کے دوراہے پر نہیں چوراہے میں کھڑا ہے۔ ایک طرف روشن مستقبل نظر آ رہا ہے، 25کروڑ سے زیادہ نفوس پر مشتمل آبادی نے ہمیں دنیا کے پانچویں بڑے ملک کے مقام پر کھڑا کیا ہے۔
ہماری آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اس کے مطابق ہم بہت جلد دنیا کا تیسرا آبادی والا ملک بن جائیں گے یہ کوئی مذاق یا منفی بات نہیں ہے۔جدید دنیا کے ترقی یافتہ مغربی ممالک اپنی ترقی اور تہذیبی برتری کھو رہے ہیں دیگر عوامل کے ساتھ، آبادی میں کمی، یعنی افزائش آبادی کی سست روی، بلکہ کئی ممالک میں افزائش آبادی تو منفی ہو چکی ہے۔ ایک اہم عامل ہے جرمنی، جاپان، آسٹریلیا و دیگر ممالک میں افراد کی طلب بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ کام کرنے والے ہاتھوں کی کمی، منفی افزائش نے وہاں سنجیدہ مسئلہ کی شکل اختیار کر لی ہے۔آبادی کے لحاظ سے دو بڑے ممالک بھارت اور چین تعمیر و ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں ۔چین نے اپنی آبادی کو ہی عالمی معاشی غلبے کی بنیاد بنایا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب چین عالمی منظر پر نمبر ون کے طور پر چھا جائے گا۔
ہماری آبادی، ایک بہت اہم مثبت معاشی منظر ہے جسے منظم کر کے معاشی ترقی کے موثر عامل کے طور پر لیا جا سکتا ہے۔ہماری معدنی دولت کے بارے میں، قیمتی دھاتوں کے ذخائر کی موجودگی کے حوالے سے اب کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا۔ امریکہ ہو یا یورپی اقوام،چین ہو یا روس سب اس حوالے سے پاکستان میں، پاکستان کے ساتھ دوستانہ تجارتی تعلقات قائم کرنے اور آگے بڑھنے کے حوالے سے جوش وخروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایس آئی ایف سی یعنی سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل ایسے مواقع سے فائدہ اٹھانے اور قومی معیشت میں بہتری لانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اس حوالے سے دلچسپی دیدنی ہے۔دوسری طرف سفارتی محاذ پر بھی کاوشیں جاری ہیں کہ یہاں سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تجارت کو بھی فروغ دیا جائے، جس سے قومی معیشت میں بڑھوتی آئے۔
اس کے علاوہ آبادی میں 67فیصد جوانوں اور نوجوانوں کی موجودگی نے پاکستان کو عالمی منظر پر نمبر ون کی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔ آبادی میں جوانوں کی فی صد تعداد کے اعتبار سے پاکستان نمبر ون ہے یہ ایک اور ایسا قدرتی عامل ہے جو عظیم عطیہ خداوندی ہے۔ اگر اس آبادی کو،آبادی کے اس جوان حصے کو ہنر مند بنا دیا جائے تو پاکستان کی معیشت میں انقلاب آ سکتا ہےلیکن دشمن قوتیں پاکستان کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتیں۔ ہندستان اس حوالے سے پیش پیش ہے۔نائن الیون سے لےکر2022امریکی فوجی انخلا اور اس کے بعد طالبان حکومت کے قیام سے لے کر ہنوز،افغانستان، پاکستان کے خلاف ایک مورچے کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش،خراسانی گروپ، مجید بریگیڈ اور ایسے ہی دیگر دہشت گرد گروپ افغانستان کی سرزمین کو لانچ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ہندوستانی ‘را‘ انہیں مالی،تکنیکی اور انتظامی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی کا جہنم دہکایا ہوا ہے۔
دورِ حاضر کی تاریخ میں یہ صرف پاکستانی افواج نے ہی کر دکھایا ہے کہ سپاہیوں کے بڑے افسر بھی دہشت گردوں کی سرکوبی کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت اور عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے فکری طور پر ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ایک ہی صفحے پر ہے۔ بلکہ ان دونوں کا صفحہ ہی ایک ہے اور وہ ہے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک،اسے حوالہ جہنم کرنے تک جنگ جاری رہے گی۔ پوری دنیا پاکستانی افواج کی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے، دہشت گردوں کو واصل جہنم کرنے کے حوالے سے انگشت بدنداں ہے کہ وہ کس طرح انہیں ناکوں چنے چبوا رہی ہے،ان کی کمر توڑ رہی ہے۔ ہم بیس سال تک طالبان کے مددگار رہے۔افغانوں کی جدوجہد آزادی کو سپورٹ کرتے رہے۔ ہمیں یقین تھا کہ کابل میں طالبان کی حکمرانی سے ہمارے یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا ۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ہماری آزمائش کے دن اور بھی طویل ہو گئے۔لیکن ہم نے، ہماری مسلح افواج نے طے کر لیا ہے کہ دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر ہی دم لیں گے۔
معاشی ترقی کا انحصار امن و امان کی صورتحال سے ہے۔ بغیر امن کے قیام کے معاشی ترقی اور خود انحصاری کا خواب حقیقت کی شکل اختیار نہیں کر سکتا۔ بلوچستان ہو یا کے پی، یہاں ہندوستان کے حمایت یافتہ سند یافتہ دہشت گرد گروہ ریاست پاکستان کے خلاف صف آرا ہیں، انہیں کئی عالمی پاکستان دشمنوں کی عملی معاونت اور ذہانت بھی حاصل ہے۔ ہماری مسلح افواج نے مئی میں ان کے بڑے معاون بھارت اور اس کے معاون اسرائیل کو جس طرح شکست دی ہے، اس سے پاکستان کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔ اس کے بعد دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں میں اضافہ بھی ہو گیا ہے۔ لیکن ہماری فوج کی طرف سے جوابی کارروائیاں بھی اسی مستعدی اور جرأت کے ساتھ جاری ہیں۔
لیکن ایک بات اور بھی اہم ہے۔ ان دہشت گردوں اور ملک دشمنوں کو جو اندرون ملک حمایت حاصل ہے انہیں کچھ لوگ، ایک سیاسی جماعت فکری امداد، سپورٹ کرتے ہیں ۔پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہرمیں بڑھاوا ،انہی دہشت گردوں کی کارروائیوں کے باعث ہے جنہیں فتح کابل کے وقت طالبان نے رہا کیا تھا ۔اور عمران خان اور جنرل فیض حمید انہیں یہاں بسانے کے لئے لے آئے تھے۔ ایسی ہی سوچ اور پالیسیوں کے باعث عمران خان کو طالبان خان کہا جاتا ہے۔ عمران خان دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے خلاف ہیں۔ وہ اپنے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور پر دباؤ ڈالتے رہے کہ دہشت گردوں کا پاک فوج کے ہاتھوں عمل رکوائیں وہ انہیں افغانستان میں جا کر دہشت گردوں کے سربراہان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے احکامات بھی دیتے رہے لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا۔عمران خان نے انہیں رخصت کر دیا اب سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔ وہ پاک فوج پر تنقید کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔بدزبانی کے حوالے سے بھی وہ اصلی و نسلی انصافی ہیں۔
پاکستان حقیقتاً مشکلات کا شکار ہے معیشت سنبھالنے کی کاوشیں جاری ہیں۔ کلی معیشت میں بہتری کے اشارے مل رہے ہیں لیکن عوام ابھی تک مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ توانائی کے ذرائع کی بلند قیمتیں بہت سے مسائل کی بنیاد ہیں۔سرمایہ کاری کا نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بیروزگاری عام ہے نوجوان یہاں رہنا نہیں چاہتے۔ وہ اپنے حال سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں اپنا مستقبل بھی یہاں تاریک ہی نظر آتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بغیر معاشی بحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔دشمن کی مسلسل کوشش ہے کہ یہاں امن قائم نہ ہو۔ اندرون ملک عمران خان اور ان کی جماعت دشمن کی اس سوچ اور عمل کو پروان چڑھانے میں معاونت کر رہی ہے۔
فکری انتشار کے ساتھ ساتھ عملی انتشار کے لئے عمران خان کی کاوشیں بے مثال ہیں۔گنڈا پور کی معزولی اور سہیل آفریدی کی نامزدگی اسی فکر کی عکاس ہے۔ ایسے لگتا ہے عمران خان آخری راؤنڈ کھیلنے کی تیاری میں ہیں۔ لیکن یاد رہے انہیں جس طرح پہلے بھی کبھی کامیابی نہیں ملی، اس دفعہ بھی وہ ناکام ہوں گے اور ریاست پاکستان کامیاب و کامران ہو گی انشا اللہ۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)