پاک افغان تنازعہ: کوئی آسان حل نہیں ہے

گزشتہ رات خیبر پختون خوا اور  بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں متعدد مقامات پر افغان فوج کے حملوں کے بعد پاکستانی فوج مسلسل افغانستان میں اہداف کو نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری طرف کابل میں وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ کابل پر فضائی حملہ کے جواب میں پاکستان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے  جو اب ختم ہوگئی ہے۔  تاہم اگر دوبارہ اشتعال انگیزی ہوئی تو اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے جنگ بند کرنے کا اعلان نہیں کیا۔

جمعرات کو کابل پر پاکستان کے فضائی حملہ کی خبریں گردش کرتی رہی ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق  اس حملے میں  تحریک طالبان پاکستان کے  سربراہ  نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس حملے میں وہ مارا گیا  یا اس کے متعدد ساتھی  ہلاک ہوئے لیکن وہ خود بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔ افغانستان نے اسی حملہ کا ذکر کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی کا دعویٰ کیا ہے۔  جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران پاک فوج  کے  شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ  لیفٹیننٹ احمد شریف نے  اس بارے میں سوالات کا براہ راست جواب  نہیں دیا  تھابلکہ کہا  تھاکہ افغانستان اپنے ملک میں  پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کی روک تھام کرے۔ دوسری طرف بھارت کے دورے پر گئے ہوئے افغان وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں نہ صرف پاکستانی حملہ کی مذمت کی بلکہ یہ انتباہ بھی دیا کہ ’افغانستان سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے   برطانیہ ، سوویٹ یونین، امریکہ اور نیٹو کا حشر دیکھیں۔ ہمارے حوصلے کو چیلنج نہ کیا جائے‘۔

دونوں طرف سے ایک دوسرے کا نقصان کرنے اور چوکیوں پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان معلومات کی  تصدیق کا کوئی غیر جانبدار ذریعہ موجود نہیں ہے لیکن یہ واضح ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری ہونے والی جھڑپوں  کو روکنا یا ان سے کوئی نتیجہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ افغانستان کو اگر کابل حملہ کے بارے میں شبہات تھے تو اسی سیاسی طور سے اچھالنے اور سکیورٹی کا مسئلہ بنانے کی بجائے پاکستان کے ساتھ سفارتی طور سے یہ معاملہ حل کرلینا چاہئے تھا۔  اسلام آباد مسلسل کابل کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے  اور اس سے تعلقات بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔ اسی لیے مئی میں پاکستان نے کابل میں     اپنے سفارتی نمائیندے کو مکمل سفیر کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن  افغانستان  متعدد فورمز پر بار بار وعدے کرنے کے باوجود پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث عناصر کی روک تھام میں کامیاب نہیں ہؤا۔ بلکہ  افغان وزیر خارجہ نے گزشتہ روز  نئی دہلی میں کہا  ہے کہ ’دہشت گردی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ وہ اسے خود ہی حل کرے‘۔ یہ دعویٰ واقعاتی طور سے غلط ہے ۔  حال  ہی میں پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث لوگوں میں ستر فیصد افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان عناصر نے تسلسل سے پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا ہے اور متعدد افسر و جوان شہید ہوئے ہیں۔ یہ صورت حال پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہوتی جارہی تھی۔

عالمی سطح پر بھی پاکستانی مؤقف  کی وسیع حمایت موجودہ ہے اور افغانستان میں حکمران طالبان  کی قیادت نے   فروری 2020 میں دوحہ میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدہ میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد گروہوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دے گا۔ پاکستانی حکام کو بھی یقین تھا کہ طالبان کے ساتھ طویل مراسم کی روشنی میں کابل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد  ملک میں دہشت گردی ختم ہوسکے گی۔ اس سے پہلے اتحادی فوج کی نگرانی میں کام کرنے والی افغان حکومت،  پاکستان کے خلاف عسکری کارروائیاں کرنے والے گروہوں کی سرپرستی میں ملوث  رہی تھی۔ اس پر پاکستان کو اعتراض بھی تھا اور ان کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا جاتا تھا۔ البتہ اسلام آباد کو امید تھی کہ کابل میں طالبان حکومت  آنےکے بعد پاکستان کو اس طرف سے سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا۔ یہ امید پوری نہیں ہوئی ۔ افغانستان کے حکمران  طالبان، پاکستان کے خلاف سرگرم تحریک طالبان پاکستان  سے قطع تعلق کرنے میں ناکام رہے۔ اس حوالے سے پاکستان کی درخواستوں کو مسلسل نظر انداز کیاجاتا رہا ہے۔

گزشتہ رات پاکستانی سرحدوں پر افغان حملہ  دو دیگر پہلوؤں سے بھی ایک انتہائی نامناسب وقت پر  کیا گیا۔ افغان وزیر خارجہ  بھارت کے دورے پر ہیں اور وہاں انہوں نے پاکستان کے بارے  میں دوستانہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا۔  پاکستانی حکام کو اندیشہ ہوسکتا ہے کہ  بھارت مئی کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں پاکستان سے ہزیمت کا بالواسطہ بدلہ لینے کی کوشش کرسکتا ہے۔ بھارتی  وزیر اعظم نریندر مودی  کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ طالبان کو پیسہ دے کر اپنے لیے کام پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔  اب امیر خان متقی ، اجیت دوول سے ملیں  گے تو اس میں پاکستان کے بارے میں باہمی گلےشکوے ہونا تو فطری ہے لیکن اگر یہ    گفتگو افغانستان  سے پاکستان  دشمن سرگرمیوں میں اضافہ کے لیے وسائل کی فراہمی تک جاپہنچتی ہے اور کابل حکومت بھارت کی پراکسی بن کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے  کی حکمت عملی جاری رکھتی ہے تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ اور مشکل ہوجائیں گے۔ اس مسئلہ کا حل تو شبہات  ختم کرنے سے ہی نکل سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ کابل حکومت اس وقت اس سے متضاد پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

اس دوران  خیبر پختون خوا میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے لیے تحریک انصاف کی پیش رفت اور اس بارے میں افغانستان اور وہاں سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے  ’دوستانہ‘ لب و لہجہ اختیار کرنے کی  تجویزبھی تشویش کا سبب بنے گی۔ جمعہ کو آئی ایس پی آر کے سربراہ کی پریس کانفرنس میں اس تشویش کا کھل کر اظہار کیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کے لیڈروں نے اگرچہ بعد میں قومی سلامتی کے سوال پر پاک افواج کی قربانیوں کو تسلیم کیا  ہے لیکن افغانستان کے ساتھ  ’صلح جوئی‘ کا مؤقف برقرار رکھا ہے۔    تحریک انصاف کی یہ حکمت عملی ایک طرف خود اس کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی  لیکن دوسری  طرف  افغانستان کے حملے کو بھی ملک میں سامنے آنے  والی ایک مختلف رائے کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اسلام آباد اور جی ایچ کیو   تحریک انصاف کے  دہشت گردوں کو ’بھائی‘ قرار دینے  کے رویہ کو ’ملک دشمنی‘ سمجھتے ہوئے کابل اور پی ٹی اے کے درمیان کوئی تال میل تلاش  کرسکتے ہیں۔ اس سے ایک طرف تحریک انصاف کی سیاسی اور قانونی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے ساتھ شروع ہونے والی جھڑپیں طویل اور شدید ہوسکتی ہیں۔

یہ  کہنا مشکل ہے کہ پاک فوج کی افغانستان میں کارروائیوں سے سرحد پار سے دہشت گردی ختم ہوجائے گی۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی جنگ سے دہشت گردوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کے راستے بند کرنا ضروری ہے۔ ان میں سر فہرست مذہبی  شدت پسندی کے رجحانات کی حوصلہ  شکنی ہے۔ 2014 میں تیار کیا گیا قومی ایکشن پلان درحقیقت اسی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جمعہ کو آئی ایس پی آر نے اس منصوبہ  پر عمل نہ کرنے کا سارا الزام خیبر پختون خوا حکومت اور تحریک انصاف پر ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن کوئی بھی صوبہ یا  مرکزی حکومت  اس بارے میں مؤثر طریقے سے کام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ نہ مدارس کی رجسٹریشن اور سلیبس پر کنٹرول کا مقصد حاصل ہؤا اور نہ ہی مذہب کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے رجحانات کم  ہوئے بلکہ بیشتر صورتوں میں ریاستی ادارے ہی ایسے عناصر کی  پشت پناہی میں ملوث ہوتے ہیں۔

دو دن پہلے لاہور سے فلسطینیوں  سے  یک جہتی کے لیے  شروع ہونے والا تحریک لبیک پاکستان کا  لانگ مارچ، اس رویہ کی واضح علامت ہے۔ غزہ میں لوگ جنگ بندی کا جشن مناکر پرامن دنوں کی امید لگائے بیٹھے ہیں لیکن جاہل مذہبی قیادت کے کنٹرول میں ایک گروہ پاکستان    میں فساد برپا کرنے پر آمادہ ہے۔ ریاستی اداروں کی ملی بھگت یا سستی  اور حکومتوں کی نااہلی کے بغیر ایسے گروہ نہ منظم ہوسکتے ہیں اور نہ ہی انہیں لانگ مارچ نکالنے اور روزمرہ زندگی  معطل کرنے کے لیے کارکن اور وسائل میسر آسکتے ہیں۔     افغانستان سے  دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو اپنے ملک میں بھی ایسے مذہبی و سیاسی عناصر کی  بیخ کنی کرنا ہوگی جو ملک میں ہیجان اور سننسی پھیلا کر تشدد اور لاقانونیت  عام کرتے ہیں اور اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ٹی ایل پی اس حوالے نمایاں مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔  ایک بار پھر کچھ وعدے کرکے انہیں واپس بھیجنے کی بجائے ، اب قومی سلامتی کے مقصد سے ایسے  گروہوں اور لیڈروں کا قلع قمع کرنے کا قصد کرنا ہوگا۔

گزشتہ رات افغانستان نے پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کرکے درحقیقت پاکستانی فوج کو افغان سرزمین میں  دہشت گردی کے ایسے مراکز ختم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے جن کے بارے میں گمان ہے کہ وہاں سے پاکستان پر حملے منظم کیے جاتے ہیں۔ پاک فوج اب طویل عرصہ  تک یہ سلسلہ جاری رکھ سکتی ہے۔ البتہ عسکری کارروائی طویل ہونے  سے افغانستان کے ساتھ دشمنی اور تناؤ کا رشتہ بھی استوار ہو۔ پاکستان متعدد وجوہ کی بنا پر ایسے حالات کامتحمل نہیں ہوسکتا۔  دوسری طرف کابل حکومت بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی  میں ملوث عناصر کی اعانت و سرپرستی سے  دست بردرا ہوئے بغیر اسلام آباد سے کسی نرم رویہ کی توقع نہیں کرسکتی۔

متعدددوست ممالک ان جھڑپوں کو دونوں ملکوں اور خطے کے لیے افسوسناک  سمجھ رہے ہیں۔  یہ ممالک  کابل کو  صورت حال کی بہتر تفہیم میں مدد کرسکتے ہیں۔ طالبان حکومت  اگر تحریک طالبان پاکستان کے  چند نمایاں لیڈروں   کو پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوجائے تو  جنگ بندی کے علاوہ مستقبل میں  باہمی تعلقات کے حوالے مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ مقصد بیان کرنا آسان ہے، ا س پر عمل درآمد آسان نہیں ہوگا۔