اعتبار کیوں، کیسے اور اس کی اہمیت
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 14 / اکتوبر / 2025
اعتبار ایک ایسی چیز ہے جو کسی فرد کا ہو تو اسے معتبر بنا دیتا ہے اور اگر قوم کا ہو تو وہ قوم دنیا پر حکمرانی کر سکتی ہے۔ ہمارے معاشرے کے بڑے مسائل میں بے اعتباری بہت بڑا مسئلہ ہے بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہمارے معاشرے کی بے اعتباری ہمارے مسائل کی ماں ہے۔
ہم بطور قوم اپنا اعتبار کھو چکے ہیں، ہمارے اپنے لوگ دنیا کے کسی بھی بندے کا اعتبار کر سکتے ہیں مگر اپنے کسی ہم وطن کا بالکل اعتبار نہیں کرتے۔ ہم ہر امپورٹڈ چیز کو اپنی دیسی چیز پر ترجیح دیتے ہیں اور اسے زیادہ قیمت دے کر خرید لیتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہی ملک کے اس دودھ، دہی اور پانی پر اعتبار ہے جسے کسی غیر ملکی کمپنی کے زیر انتظام فروخت کیا جاتا ہے، چاہے وہ کمپنی کسی عیسائی کی ہو یا یہودی کی ہم اس پر اعتبار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمارے ہاں دو نمبری اور جعل سازی اس قدر ہوگئی ہے کہ اب کسی کا بھی اعتبار نہیں رہا ہے۔
یہ بے اعتباری کا ہی نتیجہ ہے کہ ہمارے حکمران، بیوروکریٹس، ججز اور عام ملازمین بھی کسی پر اعتبار کرتے ہیں نہ عوام ان پر اعتبار کرتے ہیں۔ ہم خود اپنے نمائندے 5 سال کے لیے چنتے ہیں مگر نہ ہمیں ان پر اعتبار ہوتا ہے نہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ 5 سال تک رہیں گے۔ لہذا وہ سب سے پہلے اپنا سوچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جتنی جلدی ممکن ہو ہم اپنے الیکشن کے اخراجات پورے کریں۔ اور اگلے انتخابات کے لیے مال بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی اگلی نسلوں کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ مال بنا لیں۔ اگر ان کو 5 سال رہنے اور اگلے انتخابات میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے کا یقین ہو تو پھر انہیں یہ بھی اعتبار ہوگا کہ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ہی دوبارہ منتخب ہو سکتے ہیں۔ لہذا وہ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں اور ملک میں ایک ایسا فلاحی نظام قائم کرنے کی کوشش کریں گے جس سے خوشحالی آئے۔
جب اعلی ایوانوں میں بے اعتباری ہوتی ہے تو لامحالہ اس کا اثر نیچے تک چلتا ہے۔ اس وقت ہمارے ملک میں کسی کو کسی پر اعتبار ہے نہ کسی کی بات پر یقین۔ کوئی چیز خالص ملتی ہے نہ کسی خالص چیز کا کسی کو یقین آتا ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہمارا اعتبار کیسے قائم ہو اور ہم کیا کریں کہ دوسرے لوگ ہم پر اعتبار کریں؟ یہ ذمہ داری تو حکمرانوں کی ہے کہ وہ سچ بولیں، عوام کو درست معلومات تک رسائی دیں، عوامی فیصلوں اور رائے کا احترام کریں، وسائل کی درست تقسیم کا بندوبست کریں، ناجائز مراعات ختم کر کے نچلے طبقے کی تنخواہوں میں اضافہ کریں، روزگار کے مواقع پیدا کریں تاکہ عوام میں خوشحالی آئے اس طرح لالچ میں کمی آئے گی۔ لوگ ہیرا پھیری کم کر دیں گے۔ لیکن اس کے ابھی کہیں دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آتے ہیں۔
پھر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہم بطور فرد اپنا اپنا اعتبار قائم کریں۔ پورا سچ بولیں، جہاں تک ممکن ہو وعدے کا پاس کریں، مال فروخت کرتے وقت سچ بولیں اور تھوڑے فائدے کے لیے کسی چیز میں ملاوٹ کر کے لوگوں کے اعتبار کو ٹھیس نہ پہنچنے دیں۔ میرے ذاتی مشاہدات اور تجربات ہیں کہ اگر آپ خود پر اعتماد کرتے ہیں، خود کسی سے دھوکہ فراڈ نہیں کرتے تو میرا نہیں خیال کہ کوئی آپ سے ایسا کرے گا۔ مجھے پچھلے 10 برس میں چند لوگوں نے دھوکے دئیے ہیں لیکن درجنوں لوگوں پر میرا اعتبار قائم ہوا ہے۔ لیکن اس سے پہلے میں نے خود اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ میں نے جب بھی کسی فلاحی کام کے لیے اپیل کی ہے تو دوستوں نے مجھ پر اندھا اعتماد کر کے مدد کی ہے۔ میں لاہور اور بھمبر میں لوگوں سے لین دین کرتا رہا ہوں، مجھے کسی نے کوئی غلط چیز دی نہ بے ایمانی کی ہے۔ سوائے ایک ڈاولنس کے اے سی کے۔
اب یہاں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ ہم تین سال سے ایک جگہ سے دودھ لے رہے ہیں۔ بھمبر میں پٹواری سے نائب تحصیلدار کے عہدے تک کام کر کے ریٹائرڈ ہونے والے چوہدری رفیق صاحب کے گھر سے ہمارے لیے دودھ آتا ہے۔ انہوں نے سروس بھی ایمانداری سے کی ہے اور ڈیری کا کاروبار بھی پوری ایمانداری سے کر رہے ہیں۔ میں چند ایک لوگوں سے ہر موسم میں شہد لیتا ہوں۔ 90 فیصد خالص اور اچھا ملا ہے۔ مکانوں کی تعمیر یا مرمت کے کام میں بھی لاہور ہو یا بھمبر نہ کوئی مجھ سے غیر مطمئن گیا نہ مجھے کسی نے زیادہ مایوس کیا ہے۔ بھمبر میں پنڈی جہونجہ کا ایک پلمبر ہے جس کا نام محمد ریاض ہے، بہت ایماندار بندہ ہے اور میں جب اور جس وقت اسے بلاؤں، فوری آتا ہے اور جتنے پیسے دیتا ہوں، وہ کہتا ہے کہ یہ زیادہ ہیں کچھ کم دو۔ اسی طرح بجلی کے کام والے ایک دو کاریگروں سے رابطہ ہے وہ بھی ایماندار ہیں۔
بھمبر میں کئی دکاندار ہیں جن سے میں لاکھوں روپے کا سامان بغیر ادائیگی اٹھا سکتا ہوں اور اپنی مرضی سے پیسے دے سکتا ہوں۔ میں بھمبر کی دو تین دکانوں سے سبزی اور پھل خرید کرتا ہوں۔ انہوں نے میرے ساتھ کبھی کوئی بے ایمانی نہیں کی ہے نہ کبھی خراب چیز دی ہے۔ جن سے گوشت لیتا ہوں، وہ بہت اچھا گوشت دیتے ہیں۔ اچھا نہ ہو تو بتا دیتے ہیں۔
پچھلے دنوں کچھ ہفتے لاہور رہنا پڑا اور بند مکان کو آباد کرنے کے لیے صفائی وغیرہ کے ساتھ کچھ ضروری سامان خریدنا تھا۔ ایک دکان سے فریج اور استری خرید کر لے گئے جب استری استعمال کی تو اس میں کچھ نقص تھا، گھر والوں کے کہنے پر واپس لے گیا تو اس دکان کے ملازم نے استری کو لگا کر چیک کیا اور کہا کہ اس میں کوئی نقص نہیں۔ مجھے تھوڑا غصہ آیا۔ میں نے کہا کیا میں پاگل ہوں جو گاڑی لے کر یہاں تک آیا ہوں۔ ہماری کام والی اور گھر کی خواتین نے چیک کر کے ہی تو بتایا ہے کہ ٹھیک نہیں ہے۔ خیر دکان کے مالک نے خود استری دیکھی اور اس کا نقص دور کر کے کہا اب لے جائیں دوبارہ شکایت نہیں ہوگی۔ اسی اثنا میں میری ایک اے سی پر نظر پڑی تو میں نے قیمت پوچھی اس نے قیمت تھوڑی زیادہ بتائی تو میں نے بھمبر میں اپنے ایک جاننے والے کو کال کر کے قیمت پوچھی تو اس نے تھوڑی کم بتائی۔ اس کے بعد میں دکاندار کو بتایا تو اس نے کہا آپ نے صرف قیمت پوچھی تھی اگر خریدو گے تو ہم سستا کر دیں گے۔ میں نے اے سی خریدا اور جب آن لائن ادائیگی کرنے لگا تو مجھے پہلی بار پتا چلا کہ میں ایک لاکھ سے زائد ایک وقت میں ادائیگی نہیں کر سکتا۔ میں نے دکاندار سے کہا کہ اگر آپ کے پاس کوئی ملازم ہے جو میرے ساتھ جا کر گھر سے بقایا رقم لے سکتا ہے یا پھر میں نے لاکھ دے دیا ہے باقی رقم لا کر اے سی لے جاؤں گا، تو دکاندار نے کہا آپ اے سی لے جائیں اور بقایا بعد میں دے جانا۔ اور وہ بھی اسپیشل نہ آنا، جب آپ کا اس طرف چکر لگے گا تو پیسے دے جانا۔ میں نے کہا کہ نہ میں آپ کو جانتا ہوں نہ آپ میرے واقف ہیں تو یہ اعتبار کیسے؟ تو اس کا جواب تھا کہ میں نے آپ کو جان لیا ہے۔ آپ قابل اعتبار ہیں۔
اس کے اس ایک جملے سے نہ صرف مجھے خود پر فخر ہوا بلکہ میرے اندر اعتماد کو مزید قوت مل گئی۔ مجھے ایک فوتگی کی وجہ سے دوسرے دن بھمبر آنا پڑ گیا اور میں نے دو دن بعد اس کی رقم اس کے اکاؤنٹ میں منتقل کی۔ اب اگر میں تھوڑا لالچ کر کے اس کی رقم مار جاتا تو مجھے اتنا فائدہ نہیں ہونا تھا جتنا اس کے اعتبار کو توڑ کر میرا اور کئی دوسرے لوگوں کا نقصان ہونا تھا۔ جو لوگ چند سو، چند ہزار یا چند لاکھ کے لالچ میں کسی کا اعتبار توڑتے ہیں، وہ ہمیشہ خود بھی گھاٹے میں رہتے ہیں اور معاشرے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔
پچھلے چند دنوں میں کچھ دوست میرے گھر سے شہد لے کر گئے ہیں۔ ایک نے جا کر فون کیا کہ شہد ایک پاؤ زیادہ نکلا ہے لہذا میں اس کے پیسے اور بوتل واپس کرنے آؤں گا۔ اسی طرح دوسرے دوستوں نے بوتلیں واپس کرنے کے لیے تکلیف برداشت کی اور میرے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ دوستو میرا تجربہ یہ ہے کہ آپ ایماندار ہو جاؤ تو باقی سب ایماندار ہو جائیں گے۔ چند فیصد بے ایمان ہر معاشرے میں رہتے ہیں جن کا کوئی علاج نہیں ہے۔