ستاروں کے درمیاں
- تحریر اظہر سلیم مجوکہ
- منگل 14 / اکتوبر / 2025
بہت سے دیگر شعبوں کی طرح جب سے تعلیم بھی کمرشل ازم کا شکار ہوئی ہے، تعلیمی ادارے بس ڈگریاں جاری کرنے کی مشینیں بن کے رہ گئے ہیں۔ طلبہ والدین اور اساتذہ کے درمیان نمبروں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور پورے نمبروں میں سے پورے نمبر حاصل کرنے کے ریکارڈ بننے لگے ہیں۔
ایسے میں اگر کوئی ادارہ نسل نو کی تعلیم و تربیت کے ساتھ اانہیں اچھا انسان اور قابل شہری بنانے کی بات کرتا ہے تو وہ لائق تحسین ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ سکولوں میں بزم ادب ہوا کرتی تھیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بین الکلیاتی مباحثے اور مشاعرے ہوا کرتے تھے، جس کی وجہ سے طالب علموں کا رحجان شعرو ادب کی طرف رہتا تھا۔ مگر اب ان سب چیزوں کی جگہ جدید ٹیکنالوجی کے ٹچ موبائل نے لے لی ہے۔ تعلمی اداروں میں ہلہ گلہ اور کلچرل شو کے نام پر اصل تقافت پس منظر میں چلی گئی ہے اور طالب علموں میں شعر و ادب اور ایسی تعمیری سرگرمیوں کا شغف بھی نہ رہا۔
نصابی سرگرمیاں بھی برائے نام رہ گئیں اور غیر نصابی سرگرمیوں کا فروغ بھی ختم ہو گیا۔ ایسے میں سٹار گرلز کالج ملتان جیسے تعلیمی ادارے میں سٹار لیٹریری سوسائٹی کا افتتاح یقیناً تعلیمی اداروں میں بزم ادب کا احیا لگتا ہے۔
ادارے کے روح رواں اطہر ملک پرنسپل وفا عظیم بٹ کی ذاتی دلچسپی سے قیام ہونے والی اس سوسائٹی کا افتتاح کرنے کا اعزاز بھی راقم کو حاصل ہوا ہے۔ اس سوسائٹی کے اردو ونگ کی انچارج مس اقصی عباس اور انگلش ونگ کی انچارج مس عائشہ ہیں۔ جبکہ ہر دو الگ شعبوں کے لئے صدر اور جنرل سیکرٹری کے عہدے بھی تقویض کئے گئے ہیں۔
تقریب میں گیسٹ آ ف آ نرز کی حثیت سے اظہار خیال کرتے ہوئے راقم نے تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے احیا اور ترویج و ترقی کے لئے ایسی سوسائٹیوں کے قیام اور ایسی تقاریب کی حوصلہ افزائی کو ضروری قرار دیا۔ آ ج ہمیں نسل نو کو موبائل سے دور کرنے کے لئے کتاب سے نزدیک کرنا ہوگا۔ آنہ لائبیریروں کی طرز پر لائبیریروں کا جال بچھانا ہوگا۔ اس موقع پر سٹار کالج کی لائیبریری کو انڈس لائیبریری کے تعاون سے اپ گریڈ کرنے کی یقین دہانی کے ساتھ اکادمی ادبیات کے تعاون سے علمی وادبی سرگرمیوں میں تعاون کا بھی یقین دلایا۔
ہمارے نوجوان اقبال رح کے شاہین ہیں جن کا پہاڑوں کی چٹانوں پر بسیرا ہوتا ہے اور جو ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں۔ ہمارے آ ج کے ان شاہینوں کے لئے ستاروں سے بھی آ گے کئی جہان منتظر ہیں۔ سٹار لٹریری سوسائٹی کا قیام کالج میں گیارہ اکتوبر کو ہوا جو بیٹیوں کا عالمی دن ہے۔ بیٹی خدا کی رحمت ہے اور صنف نازک بھی۔ ہمارے اس معاشرے میں صنف نازک کو بہت سے مسائل ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کے ساتھ صنف نازک کو تحفظ اور اعتماد دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔
ایسی تقاریب اور فورم بچیوں می اعتماد اور تحفظ پہنچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس سوسائٹی کے سرپرست اعلی اور منیجنگ ڈائریکٹر اطہر ملک اس لحاظ سے قابل داد ہیں کہ وہ ادارے کو کمرشل ازم کی بجائے خالص تعلیمی اور تعمیری بنیادوں پر چلا رہے ہیں۔ انہوں نے ادارے کے لئے جو اقدار اور اصول وضع کئے ہیں، ان میں طالب علموں کی کردار سازی کو ترجیح دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ان کا فوکس غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی ہے۔ سٹار گرلز کالج کی طالبات نے ملتان بورڈ میں امسال بھی امتیازی پوزیشن حاصل کی ہیں۔ اور اب اس سوسائٹی کے قیام سے ان کی تعلیمی اور ادبی صلاحتیں کو مزید جلا ملے گی۔ پرنسپل وفا عظیم بٹ اور لیٹریری سوسائٹی کی روح رواں مس اقصی عباس کے مطابق شہر کے اہل قلم سے ملاقاتی تقاریب کے ساتھ ساتھ مشاعروں کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
طالبات کے لئے کوئیز اور تقریر اور تحریر کے مقابلوں کے ذریعے طالبات کے بولنے اور لکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔
یقیناً یہ سب اقدامات ہماری نوجوان بچیوں کی تعلم و تربیت اور کردار سازی میں معاونت کے ساتھ انہیں عملی زندگی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مدد گار ثابت ہوں گے۔ انہی طالبات میں سے کئی شاعرہ، افسانہ نگار اور ناول نگار بن کر معاشرے کی فکری سوچ کی آ بیاری کر سکتی ہیں۔ آج ہمارے بچوں کو ہماری اقدار اور ہمارے اسلاف اور ہمارے ادیبوں شاعروں اور لکھاریوں سے متعارف کرانے ان کے کام سے آ گاہ کرنے کے لئے ایسے فورم کی اشد ضرورت ہے، جس کے لئے کتاب کی جڑت بھی لازمی ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لئے اچھے رویوں اچھی سوچ اور اچھے موسموں کی ضرورت ہو ایسے میں علمی وادبی اقدار سونے پر سہاگے کا کردار ادا کرتی ہیں کہ:
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
خدا کرے کہ ہمارے تعلمی اداروں میں کمرشل ازم کی بجائے بچوں کی کردار سازی اور انہیں اچھا شہری بنانے کی یہ سوچ پیدا ہو۔ اس ٹھہرے ہوئے پانی میں ارتعاش پیدا کرنے کے لئے سٹار گرلز کالج نے گویا پہلا پتھر پھینکا ہے جس کی آ واز یقیناً دور تک جائے گی۔ باقی سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں بھی لیٹریری سوسائٹی کے قیام سے یہ علمی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ ہم جو اپنی نسل نو سے سوشل میڈیا کی خرابیوں کا شکوہ کرتے ہیں، اس شکوے سے بہتر ہے کہ اپنے حصے کی کوئی شمع جلائیں۔ سرکاری اجتماعی معاشرتی اور ذاتی سطح پر ایسے چراغ جلائیں جن سے معاشرے میں روشی پھیلے اندھیرے دور ہوں اور ہر طرف اجالا ہو۔
لیٹریری سوسائٹی بین الکلیاتی تقاریب اور مشاعروں کا سرکاری سطح پر اہتمام ہو۔
لائیبریری کا قیام ہو کتاب خرید کر پڑھنے اور تحفے میں دینے کا رحجان ہو۔
تتلیوں، جگنوؤں اور پھولوں کی باتیں ہو۔ں امید کے جگنو اور آ س کی تتلیاں ہمیں سفر جاری رکھنے کی نوید دیتی ہیں اور سٹار گرلز کالج جیسے چمکتے ستارے آسمان پر جگمگانے کا جتن کرتے ہیں۔ ستاروں کی ان تابناکی اور اپنے مستقبل کا ستارہ آ پ تلاش کرنے کا سبق دیتی امجد اسلام امجد کی یہ تاثراتی نظم بھی کیا خوب ہے:
ستاروں سے بَھرے
اِس آسمان کی وسعتوں میں
مجھے اپنا سِتارہ ڈھونڈنا ہے
نہ اُس کا نام ہے معلوم ، نہ کوئی نشانی ہے
بس اتنا یاد ہے مجھ کو
ازل کی صُبح جب سارے ستارے
الوداعی گفتگو کرتے ہوئے رَستوں پہ نکلے تھے
تو اُس کی آنکھ میں ایک اور تارا جِھلملایا تھا
اُسی تارے کی صُورت کا
میری بھیگی ہوئی آنکھوں میں بھی
ایک خواب رہتا ہے
میں اپنے آنسوؤں میں
اپنے خوابوں کو سجاتا ہوں
اور اُس کی راہ تکتا ہوں
سُنا ہے گم شدہ چیزیں
جہاں پہ کھو جاتی ہیں
وہیں سے مِل بھی جاتی ہیں
مجھے اپنا سِتارہ ڈُھونڈنا ہے