مکالمے کی گمشدگی
- تحریر نسیم شاہد
- منگل 14 / اکتوبر / 2025
آج مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ ہمارا سیاسی و سماجی نظام سے مکالمہ روٹھ گیا ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ دم توڑ گیا اور بس اس کی آخری رسومات ادا کرنا رہ گئی ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ جو ملک مکالمے کے زور پر آزاد ہوا، آج اس میں ایشو چھوٹا ہو یا بڑا ہم مذاکرات اور مکالمے کے ذریعے اسے حل کرنے کے قابل نہیں رہے۔
آپ نے حالیہ دنوں میں دیکھا کہ جب مکالمہ آزادکشمیر میں روٹھا تو کتنی ہلچل مچی، کتنا نقصان ہوا، مگر جونہی میز پر بیٹھ کے مکالمہ اور مذاکرات کئے گئے تو مسائل کا حل نکل آیا، احتجاج بھی ختم ہو گیا اور امن بھی آ گیا۔ گزشتہ چند دنوں کا ہیجان اور ڈیڈ لاک طاقت کے زور پر ختم کیاگیا، وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ پھوڑے کا اوپر سے آپریشن کر دیں اور جو اندر خرابی ہے،اسے ٹھیک نہ کریں۔ اچھا سرجن حتی الامکان یہ کوشش کرتا ہے کہ آپریشن کے بغیرمرض ٹھیک ہو جائے کیونکہ آپریشن کے بعد کئی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ ایک کی بجائے کئی جگہ زخم نکل آتے ہیں۔ اب یہ جو کچھ ہوا ہے سڑکیں دھونے اور صاف کرنے سے اس کے آثار اور مناظر تو غائب ہو جائیں گےمگر جو زخم لگتے ہیں، وہ تادیر درد کی ٹیسیں بن کر صورتِ حال کو نارمل نہیں ہونے دیں گے۔
میں تو اپنی زندگی میں نجانے کتنے دھرنے،کتنے لانگ مارچ، کتنے جلسے اورجلوس دیکھ چکا ہوں، انہیں پرامن طور پر گزرنے دیا جائے تو چند دنوں میں ایک بھولی بسری یاد بن کر رہ جاتے ہیں مگر جونہی طاقت کے استعمال سے انہیں روکنے کی کوشش کی جائے تو ایک سانحہ بن کر زندہ ہو جاتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بھی یہ غلطی ہوئی تھی کہ وہ مکالمے کی طرف تاخیر سے آئے، پہلے انہوں نے اپنی کرسی کے ہتھے پر مکا مار کے کہا تھا بھٹو مضبوط نہیں مگر یہ کرسی بہت مضبوط ہے۔ پھر سب نے دیکھا کہ مکالمے کی یہی تاخیر بھٹو کو کہاں سے کہاں لے گئی۔
ایک ایسے ملک میں جو فیڈریشن ہے، کسی بھی صورت طاقت کے زورپر نہیں چلایا جا سکتا۔ اس کے لئے مکالمے کی قدم قدم پر ضرورت پڑتی ہے اور پڑنی بھی چاہیے۔ صوبوں کا وفاق سے مکالمہ، وفاق کا صوبوں سے مکالماتی رابطہ فیڈریشن کو مضبوط بناتا ہے۔ ہم نے اپنی تاریخ میں یہ بھی دیکھا کہ وفاق میں اگر ایک پارٹی کی حکومت ہے اور صوبے میں دوسری پارٹی کی، تو کھچاؤ اس حد تک بڑھایا گیا کہ وزیراعلیٰ،وزیراعظم کا استقبال کرنے ائرپورٹ نہیں جاتا تھا۔یہ احمقانہ سوچ اور غیر آئینی اقدام تھا جس کا نتیجہ کسی نہ کسی صورت بھگتنا پڑا۔ ایسی سوچ نے اپنے اپنے ادوار میں جمہوریت کو کمزور بھی کیا اور آمریت کے لئے راہ بھی ہموا کی۔
یہ ہماری بدقسمتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنی اچھی روایات و اقدار کو کھویا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ حکومت اور اپوزیشن میں جو بھی مسائل پیدا ہوتے تھے۔ ان کے لئے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا تھا۔ معاملات اسمبلی کے اندر ہوں یا باہر اسی روایت سے کوئی نہ کوئی حل نکال لیا جاتا تھا۔ جہاں تک احتجاج اور لانگ مارچ کا تعلق ہے تو اس پر بھی گفت و شنید کے ذریعے کوئی راہ نکال لی جاتی تھی۔ جب جب اس سے ہٹ کر دوسری راہ نکالی گئی اور طاقت کے استعمال سے دبانے کی پالیسی پر عملدرآمد کیا گیا حالات سدھرے نہیں بلکہ نئی خرابیوں کا پیش خیمہ بن گئے۔ کتنے ہی ایسے ایشوز ہیں جو ہم مکالمے کے ذریعے حل ہوتے اور طاقت کے استعمال سے بگڑتے دیکھتے ہیں،پر سیاست اور جمہوریت کا تو اصول ہی یہی ہے کہ بات کرو اور حل نکالو۔
دنیا میں اسی اصول پر امن قائم ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ایک ملک طاقت پر گھمنڈ کرے اور دوسرا دب جائے۔ اس سے حل نکلتا ہے اور نہ امن قائم ہو سکتا ہے۔ہم اگر نہ مانیں تو اور بات ہے وگرنہ زمینی حقائق یہی ہیں کہ ہم مکالمے کی گمشدگی کے باعث مسائل کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔وہاں بھی ایک خلاہے جس نے مسائل کو ہوا دے رکھی ہے۔ بلوچ قوم پرست جماعتیں ہوں یا ان کی نئی قیادت ان کے ساتھ مکالمے کے ذریعے راہیں کھولی جا سکتی ہیں، مگر ہم نہیں کھول رہے۔ اگر ان کے کچھ مطالبات ہیں تو ریاست کے بھی تو کچھ مقاصد اور تقاضے ہوں گے۔ یہ تو میز پر بیٹھ کر ہی پتہ چلے گا۔کون کیا مانگ رہا ہے اور اس کا حق بنتا بھی ہے یا نہیں۔ لیکن اگر ہم یہ دروازہ ہی بند کئے رکھتے ہیں تو کوئی ایسا معجزہ نہیں ہو سکتا کہ ایک دن اچانک ہم صبح سو کر اٹھیں اور ہمیں خبرملے کہ تمام مسائل حل ہو گئے ہیں اور راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔ مکالمے کو دیس نکالادے کر ہم ملک میں نہ استحکام پیدا کر سکتے ہیں اور نہ ہی سیاسی ہم آہنگی، جب ہم ایک دوسرے کی بات سننا اور سنانا ہی نہیں چاہتے تو ٹھہراؤ کیسے آئے گا؟
بعض مبصرین کا خیال ہے رٹ آف گورنمنٹ قائم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بجا ارشاد ہے مگر رٹ آف گورنمنٹ چیلنج ہوتی ہو تو بات ہے ناں۔ رٹ آف گورنمنٹ اس وقت چیلنج ہوتی ہے جب ملک کے کسی حصے میں کوئی گروہ یہ اعلان کر دے کہ وہ پاکستان کے آئین و قانون کو نہیں مانتا، جہاں اس کی عملداری ہے اس پر قانون بھی اس کا ہے اور نظام بھی اس کا۔ اس پر ریاستی اداروں کا حرکت میں آنا اور اس سوچ کو کچلنا ضروری ہو جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی گروہ یا جماعت قانون و آئین کے دائرے میں کسی مسئلے پر احتجاج کرنا چاہتی ہے اور یہ حق اسے آئین بھی دیتا ہے تو اسے طاقت سے کچلنے کی بجائے مذاکرات کے ذریعے احتجاج کی حدود و قیود طے کی جا سکتی ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے سے لگ رہا ہے اس راستے کو اپنانے کی بجائے طاقت کے ذریعے احتجاج کے حق اور آواز کو دبانے کی پالیسی اختیار کرلی گئی ہے۔ یہ پالیسی کتنی کامیاب رہی ہے، اس پر تو خود ارباب اختیار کو سوچنا چاہیے تاہم بادی النظر میں ایسا لگ رہا ہے کہ ہم انتشار کو بڑھاتے جا رہے ہیں۔ وزرا کے لہجے میں بھی طاقت کی سختی ہوتی ہے، حالانکہ ان کے لہجے میں مفاہمت کی چاشنی ہونی چاہیے۔لاہور کئی دن محاذ آرائی کی لپیٹ میں رہا۔ کسی طرف سے بھی مکالمے کی سنجیدہ راہ نہیں نکالی گئی۔پھر جو کچھ ہوا اسے افسوسناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس سے علاقہ تو خالی کرالیا گیا مگر اس کے لئے جو قیمت چکانا پڑی اس سے بچا جا سکتا تھا۔
بات کی بجائے بلٹ کا راستہ دنیا بھر میں ناکام ہو چکا ہے۔ پائیدار اور پرامن حل مذاکرات کے ذریعے ہی آتا ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ مکالمے کو کسی صورت ترک نہیں کریں گے چاہے اپنی انا کو کچلنا ہی کیوں نہ پڑے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)