مریدکے میں دہشت و وحشت کیوں؟

مریدکے میں 13اکتوبر کی صبح کاذب جوٹریجیڈی ہوئی وہ قابلِ افسوس ہے۔ لہو کسی پولیس والے کا گرے یا کسی مذہبی تنظیم سے تعلق رکھنے والے کا یا کسی غیر مذہبی انسان کا، درویش تو اس سے بھی آگے بڑھ کرکہتا ہے کہ خون مسلم کا گرے، چاہےجیوز، ہنود یا مسیحی کا، یکساں قابل افسوس ہے

اس کرۂ ارضی پر بسنے والے تمام انسان اولاد آدم، عیال اللہ یعنی خدا کا کنبہ ہیں۔ کسی ایک بے گناہ انسان پر حملہ آور ہونا یا اسے مارنا چاہے اس کا جو بھی مذہب نظریہ یا عقیدہ ہو ایسے ہی ہے جیسے پوری انسانیت پر حملہ کرنا یا اسے قتل کردینا۔ مذہبی تنظیموں کو بھی چاہیے کہ وہ مذہب کے مقدس نام کو اپنے سیاسی مقاصد، مفادات یا اپنی بلے بلے کروانے کے لیے استعمال نہ کریں۔ مذہب تو عاجزی، حلیمی ، خداترسی اور رحمدلی سکھلاتا ہے صلح جوئی، بھائی چارے اور وسیع القلبی کا درس دیتا ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگ دوسروں کے جھوٹے مقدسات کو بھی برا مت کہو مبادا وہ جوابی طور پر آپ کے سچے کو بُرا نہ کہیں۔ ہمارے صوفیائے کرام نے اتنے بڑے خطۂ ہند میں اپنے اعلیٰ اخلاق، پیار محبت اور اپنائیت سے دلوں کو موہ لیا۔ اجمیر شریف والے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی انسان نوازی سب پر واضح ہے آپ ہندو بھائیوں کی خوشی کے لیے ان کی دیوالی اور ہولی تک میں شریک ہوا کرتے تھے۔

ہم اپنے آقاؐ کی نعتیں پڑھتے نہیں تھکتے کہ:
سلام اس پر جس نے خوں کے پیاسوں کو عبائیں دیں
سلام اس پر جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں
سلام اس پر جس نے گنہگاروں کو فرمایا کہ یہ میرے ہیں
بلاشبہ آقا نے جنگیں کیں اگرچہ وہ ساری دفاعی تھیں مگر کب؟ جب ایک اتھارٹی ایک ریاست قائم کرلی۔ جب تک یہ نہیں ہوا آپ تیرہ سالہ طویل مکی دورِ ملاحظہ فرمالیں مظالم سہے، ماریں کھائیں، کبھی کسی کو جوابی طور پر بھی ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ ثابت ہوا، ہتھیار اٹھانا یا جہاد کرنا صرف ریاست کی اتھارٹی ہے۔ پرائیویٹ جہاد کی دین میں کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ اس حوالے سے بڑے بڑے علمائے دین کے ساتھ بحثیں کرتے ہوئے درویش کی کتاب ”جہاد یادہشت گردی؟“ میں تفصیلات قابلِ ملاحظہ ہیں۔ ریاست کے اندر ریاست بنانے یا باپ کا باپ بننے کی کوشش کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیے۔

کوئی شک نہیں کہ ہمارے آئین میں احتجاج کرنا ہر شہری کا حق ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ پرامن ہو جبکہ ہم دیکھتے ہیں آج کے ترقی یافتہ دور میں ہر کسی کے پاس کیمرے والا موبائل موجود ہے ہر واقعہ کی وڈیوز بن رہی ہوتی ہیں ۔ مذہبی جتھے لے کر جب آپ نکلتے ہیں اور سامنے آنے والی سرکاری املاک کو بے دردی سے توڑ پھوڑ رہے ہوتے ہیں۔ اگر باوردی پولیس والا ہتھے چڑھ گیا ہے تو اس پر مارپیٹ کی یلغار کردیتے ہیں تو ایسے احتجاج کی اجازت کوئی بھی آئینی ریاست کیسے دے سکتی ہے؟ درویش کو اس نوع کی شکایات دیوبندی و سلفی فرقوں سے منسلک احباب سے رہی ہیں۔ بریلوی بھائیوں کے متعلق یہ گمان تھا کہ یہ درود والے ہیں، بارود والے نہیں۔ مگر جب سے مرحوم خادم حسین رضوی کی لبیک پارٹی بنی ہے، افسوس ہمارے ان بھائیوں نے تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے حوالے سے اگلی پچھلی کوئی کسر نہیں رہنے دی۔ 2017 سے لے کر پچھلی حکومتوں میں جب یہ بھائی نکلتے رہے تو میڈیا کے ذریعے تمام وڈیوز عوام نے ملاحظہ کیں۔ یہ لوگ کس بے دردی سے توڑ پھوڑ کرتے پائے گئے۔ باوردی پولیس والوں کو پکڑا تو تشدد کرتے ہوئے جان سے ماردینے تک پہنچ گئے۔ ان کی تعداد پانچ یا چھ تک بیان کی گئی اور 60 کے قریب، اپاہج بنادیے گئے۔

کتنی سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا، میٹرواسٹیشن جلاۓ گئے ان کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ کس ملک کا سفیر اسلام آباد میں ہونا چاہیے کس ملک کا نہیں؟ یہ آپ لوگوں کا نہیں ریاست اور اس کی حکومت کا کام ہے۔ آپ اپنی رائے کا پرامن اظہار کرسکتے ہیں، جبر یا تشدد کا حق آپ کو کس نے دیا ہے؟ ڈنڈوں پر کیل لگا کر مارنے کا حق آپ کوکس قانون نے دیا ہے؟ کہاجاسکتا ہے کہ یہ حق خود ہمارے ملک کی خفیہ ایجنسیوں نے ایسے جتھوں کو دے رکھا ہے۔ کیا ہمارا آئین کسی ایجنسی یا اس کے بڑے سے بڑے چیف کو یہ اتھارٹی دیتا ہے؟ ایسی حرکتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ہماری جمہوریت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ عدم برداشت اور رواداری کے فقدان نے ہمارے سماج کو اندر سے کھوکھلا بلکہ غیر انسانی سماج بناڈالا ہے۔ بالفعل یہاں آزادئ اظہار کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق اور آزادیاں رہیں ایک طرف یہاں تو قانون کا منہ ٹیڑھا کردیا گیا ہے قانون ایک مذاق ہے، لاقانونیت، ٹیرر اور بدمعاشی نے عوام کی زندگیاں اجیرن بناڈالی ہیں۔ یہی حضرت صاحب تھے جو ہماری ہائیکورٹ کے اندر کھڑے ہوکر اس نوع کی خوفناک دھمکیاں دیتے پائے گئے کہ بلاسفیمی کیسز میں اگر ہماری پسند کے فیصلے نہ آئے تو ہمارے پاس علم دین کا چھرا موجود ہے، ہم اس کا استعمال کریں گے۔ بلاسفیمی کے نام پر آپ لوگ کتنے بے گناہ انسانوں کی زندگیاں اجاڑ چکے؟ کتنے گھر برباد کرچکے؟

آپ کی اس وحشت و دہشت کے ہاتھوں غیر مسلموں کی زندگیاں محفوظ ہیں، نہ مسلموں کی۔ اب جب قانون کا شکنجہ آپ کی طرف بڑھا ہے تو آپ نے مقدس ہستی کا نام لے لے کر دہائیاں ڈالنی شروع کردیں کہ اے آقا ہماری مدد کو آئیں۔ آپ لوگوں کو اتنا تو معلوم ہونا چاہیے کہ اس آقاؐ نے اپنی بدترین بلاسفیمی کرنے والے عبداللہ ابن ابی کے ساتھ، اس کی موت پر بھی کیا حسن سلوک روارکھا۔ اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر خود اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی، کفن کے لیے اپنا جبہ مبارک پیش کیا۔ اس آقاؐ کے نام کو آپ لوگ اپنی متشدد کاروائیوں کے ذریعے، بدنام کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہو؟ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کتنی خوبصورت بات کہی یہ کہ مذہب کے نام پر جتھے بنانے اور سڑکیں بند کرکے عوام کو یرغمال بنانے سے بڑی توہین مذہب کیا ہوگی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال پوچھ رہے ہیں کہ جب غزہ میں مکمل جنگ بندی اور امن کے بعد فلسطینی عوام خوشی سے ناچ رہے ہیں اور جنگجو تنظیم حماس نے بھی ٹرمپ امن منصوبہ قبول کرلیا ہے تو پاکستان کی سڑکوں پر ایک مذہبی تنظیم جو دوبرس سوئی رہی جذباتی نعرے لگا کر کیوں انتشار پیدا کررہی تھی؟ یہ کس کی سہولت کاری کررہی تھی؟ احسن اقبال صاحب اس کی تحقیق خود حکومت کو کرنی چاہیے کہ ٹی ایل پی بغیر خفیہ اشاروں کے سڑکوں پر نہیں نکلتی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اندر خانے جنرل عاصم منیر کا کوئی بدخواہ بڑا، ان کی قیادت کے ساتھ خفیہ رابطے میں ہو؟ کہیں تو کسی نے اکسایا ہوگا، ورنہ بے وقت کی راگنی اور باسی کڑی میں ابال کیوں؟ آپ لوگوں کو سن سترہ کا فیض آباد میں وہ دھرنا بھی یاد ہوگا جو جمہوری حکومت کی چولیں ہلانے کے لیے کیا گیا تھا، جس کے خلاف قاضی فائز عیسیٰ نے تاریخ ساز فیصلہ صادرفرمایا تھا۔ وہ جوتا بھی یاد ہوگا جو نوازشریف پر پھینکا گیا، وہ سیاہی جو خواجہ آصف کے منہ پر پھینکی گئی، وہ گولی جو آپ کو لگی۔ میڈیا میں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ ایک جہادی مولوی جو تیس ہزار کی تنخواہ پر ملازم تھا، جس کا لڑکا پڑھائی میں آگے نہ بڑھ سکا تو اسے رکشا بنادیا۔ آج اس کے گھر سے کروڑوں کی ملکی و غیر ملکی کرنسی کے ساتھ اتنا بھاری سوناکیسے برآمد ہورہا ہے؟ تو کیا مذہب کے اس بیوپار کا مدعا سمجھ نہیں آجانا چاہیے؟۔

ہمارے لوگ مذہبی چورن پر کس قدر بےوقوف بنائے جاسکتے ہیں۔ پبلک کے سامنے سردھڑ کی بازی لگانے کا کہہ کر مدینہ شریف سے آیا کفن باندھ رہے ہیں لیکن موقع ملتے ہی پلو سے چہرہ چھپا کر پیروکاران کو بے یارومددگار چھوڑ پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں۔ اور پھر فیک نیوز پورے اہتمام سے پھیلائی جاتی ہیں کہ تین گولیاں لگ گئیں۔ چھوٹا بھائی نعوذباللہ شہید ہوگیا تاکہ پبلک میں اشتعال پھیلے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران دکھ کے ساتھ بتارہے تھے کہ یہ لوگ مذہب کا نام لے کر کس قدرجھوٹ بولتے ہیں، سر تن سے جدا کی دھمکیاں دیتے ہیں، ہمارے جوانوں کو گولیاں مارتے ہیں۔ ایس ایچ او شہزاد کا جرم کیا تھا؟ اس کے یتیم ہونے والے چھوٹے بچوں کا جرم کیا تھا؟ ہمارے جن جوانوں کے نچلے دھڑ ناکارہ بنادیے گئے ہیں ان کا قصور کیا تھا؟ بلاسفیمی کے الزامات لگا کر جن غیر مسلموں کو ماراجاتا ہے، ان کی عبادت گاہوں کو جلایا اور توڑا جاتا ہے، ان کا گناہ کیا ہے؟ کیا وہ پاکستان کے شہری نہیں ہیں، کیا ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟

ہمارے مریدکے والے بڑے مخلص، سادہ دل اور مذہب کے دیوانے ہیں۔ وہ ایسے جہادی جتھوں اور لشکروں کو سینے سے لگا لیتے ہیں جو بعدازاں چاہے ان کے سینے ہی جلائیں۔ اب کے بھی مسجد سعیدیہ، مدینہ اور مہاجراں ان کے لیے اوپن تھیں، کھانے پینے کے لیے لنگر بھی بچھ رہے تھے۔ لہٰذا مذاکراتی دھرنے کئی روز تک یہاں چل سکتے ہیں۔ جیسے ڈی آئی جی کہہ رہے تھے کہ ان کے ساتھ ہماری بات چیت چل رہی تھی۔ ان کے تمام مطالبات ذاتی مفاداتی، بھاری رقوم لینے اور اپنے کریمنلز کو چھڑوانے کے لیے تھے۔ کوئی ایک مطالبہ بھی فلسطینیوں کے لیے نہیں تھا جن کا محض نام استعمال کررہے تھے۔ حقائق جو بھی ہیں، اصل مجرم خود ہماری حکومتیں یا طاقتور ہیں۔ یہ لوگ آخر ایسے متشدد جنونی مذہبی جتھوں کو خود کیوں پروان چڑھاتے ہیں؟ خود ہی بنانے اور پھر مٹاتے ہیں۔ عوام کالانعام تو ان کی نظروں میں جیسے بھیڑ بکریاں ہیں۔ ہمارے عوام کو بھی چاہیے کہ وہ مذہبی جنونیت کی پہچان کرلیں ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ ہمارے عام آدمی کا اصل ایشو اس کی روزی روٹی ہے۔ مہنگائی، غربت اور ظلم و زیادتی سے چھٹکارا ہے۔ سماج میں عزت کے ساتھ جینا ہے۔ سرکار کو اس میں سہولت کار بننا چاہیے نہ کہ متشدد جتھوں کو پالنے میں۔